آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ظہیر الاسلام عباسی سول اور فوجی قیادت کوہٹا کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ٗ مشاہد اﷲ خان

28اگست کی شام سازش کی ٹیپ وزیر اعظم نے آرمی چیف کو سنائی ، جنرل راحیل شریف ٹیپ سن کر حیران رہ گئے، 31 اگست کو اسلحے سے بھری دو گاڑیاں وزیراعظم ہاؤس کی طرف آ رہی ہیں ، گاڑیوں میں 25ٗ25کلاشنکوفیں تھیں ، استعمال کیلئے لوگ پہلے پہنچ چکے تھے ٗنواز شریف کو وزیر اعظم ہاؤس سے لاہور بھیجنے کا فیصلہ بھی سازش سے بچنے کیلئے کیا گیا تھا،ہمیں پتہ تھا لندن میں طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آئی ایس آئی کے کچھ لوگ بھی موجود تھے ، فوج بطور ادارہ حکومت کیخلاف سازش میں شامل نہیں تھی ٗ وفاقی وزیر , پاکستان میں جمہوریت ابھی اتنی طاقتور نہیں کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ کیخلاف کی کارروائی کر سکے ٗپرویز مشرف کیخلاف بھی وہ کارروائی نہیں کی گئی جیسی کی جانی چاہیے ٗانٹرویو