دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوق سے جیت رہے ہیں لیکن نفسیاتی طور پر ہار رہے ہیں ،پنجاب میں تعلیمی ادارے بند کرکے دہشت گردوں کا کام آسان کیا گیا ،اسلام آباد میں سرکاری تعلیمی ادارے بند نہیں کئے گئے ،کے پی کے نے سکول بند نہ کرکے اچھی مثال قائم کی ،پیپلز پارٹی قوم میں مایوسی پھیلا رہی ہے، وہ جو پیغام دے رہے ہیں اس سے دہشت گردوں کے ایجنڈے کو تقویت مل رہی ہے، جن سیاستدانوں کے پاس کوئی کام نہیں وہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لئے روزانہ لفاظی ڈھونڈتے ہیں،ملک میں ہر غیر ضروری چیز کا پوسٹمارٹم کیا جاتا ہے ،حالت جنگ میں ہمیں طاقتور چیز کو سامنے لانا چاہئے مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، اپوزیشن لیڈر نے اپنے عہدے کا خیال نہ رکھتے ہوئے حکومت سے تمام آسائشیں لینے کے ریکارڈ توڑ دیئے ،خورشید شاہ جیسے غیر سنجیدہ شخص پر جواب دینا مناسب نہیں سمجھتا، حیران ہوں کہ جس شخص کے نام کے ساتھ سید لکھا ہوا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے، میری شکل ‘ ڈاکٹر عاصم ‘ ایف آئی اے سے شکایت ہے تو وہ مجھ سے بات کریں، اندرون سندھ آپریشن کی ضرورت ہے لیکن اس حوالے سے سندھ حکومت نے فیصلہ کرنا ہے،وزیر اعظم نے مجھے سندھ کا دورہ کر نے کئی ہدایت نہیں کی تھی ،آئندہ ہفتے نیشنل ایکشن پلان پر میڈیا کو مکمل بریفنگ دی جائے گی،سینٹ میں میری غیر موجودگی میں میرے خلاف باتیں کی گئیں، ‘ سینٹ میں اپنے خلاف اٹھائے گئے تمام سوالات کا جواب دونگا،آرمی چیف کا توسیع نہ لینے کا فیصلہ ذاتی ہے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا، آئی جی اسلام آباد کے لئے کوئی قابل افسر نہیں مل رہا، وزیراعظم سمیت کسی وفاقی وزیر سے کوئی ناراضگی نہیں

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی میڈیا سے گفتگو