عمران خان کا 2018ء کے عام انتخابات میں شکست کی صورت میں پارٹی چیئرمین کا عہدے سے علیحدہ ہونے کا عندیہ

آرمی چیف نے ثالث بننے کی پیشکش اور دھرنا ختم کرنے کا کہاتھا ، ، جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ، وزیراعظم کی زبان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، وہ اقتدار میں آ کر پیسہ بناتے ہیں، (ن) لیگ نے2013ء کے انتخابات میں الیکشن کمیشن سے مل کر دھاندلی کی، جنگ مخالف ہونے کا مطلب ہرگز طالبان حامی ہونانہیں ،ہر حال میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں، لوگ کیا کہتے ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں، میں لوگوں کی مرضی سے شادی کرتا ہوں اور نہ ہی طلاق دیتا ہوں , پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان کا ٹی وی چینل کو انٹرویو