کشمیر میں لڑنے والے دہشت گرد نہیں مجاہدین ہیں، امریکہ میں نائن الیون کے بعد ’مجاہدین‘ کا طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو گیا تھا‘ واجپائی اور میرے درمیان یہ اتفاق ہوا تھا کہ بہت نقصان اور ظلم ہو رہا اس کو ختم کرنا چاہیے، نریندر مودی کے دماغ میں یہ بات نہیں ہے، وہ تو پاکستان کو مروڑنا اور دبانا چاہتے ہیں ان کی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہیں اگر وہ سوچ تبدیل نہیں کریں گے تو معاملہ آگے نہیں بڑے گا،دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر صاف نیت سے عمل درآمد نہیں ہو رہا ، حکومت میں کچھ عناصر ہیں جو شدت پسندوں کے ساتھ نظریاتی طور پر ملے ہوئے ہیں، فوج کو حکومت اور بیورور کریسی کی طرف سے جو مدد ملنا چاہیے تھی وہ نہیں مل رہی،لال مسجد آپریشن کافیصلہ درست تھا ’دہشت گردی پریقین رکھنے والوں کے ساتھ یہ ہی ہونا چاہیے تھا، اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی انٹیلی جنس کی ناکامی تھی،اٹھارہویں آئینی ترمیم سے پاکستان کوبہت نقصان پہنچایا گیا ، حکومت میں جب گڑ بڑ ہو رہی ہوتی ہے یقیناً لوگ فوج کے پاس بھاگ کر جاتے ہیں کہ کچھ کرو

آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اورسابق صدر پرویز مشرف کا برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویو