پاک چین ا قتصادی راہداری 15 سالہ منصوبہ ہے جو 2030 میں مکمل ہو گا،اقتصادی راہدری منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں غیر ملکی سر مایہ کار ی میں4گنا اضافہ ہو جا ئیگا ‘منصوبے کے 4 مرحلے ہیں جس کا پہلا مرحلہ گوادر پورٹ کا ہے جو اس منصوبے کا گیٹ وے ہے‘ جب بجلی نہیں ہے تو اکنامک زون کس طرح لگائے جا سکتے ہیں، توانائی نہ ہوئی اور سرمایہ کار چلا گیا تو وہ واپس نہیں آئے گا‘ اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت مقامی لوگوں کو روزگار دینے کیلئے تربیتی مراکز بنائے جائیں گے اور اس دوران ماہی گیروں کو بھی تربیت دی جائے گی‘ چین نے توانائی منصوبے کے حوالے سے مدد کا اعلان کیا ہے اور 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے 35 ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کاسمینار سے خطاب