ہندوپاک قیادت کی تازہ دوستی اور کشمیر!

جمعرات جنوری    |    صریر خالد

اگرچہ سرینگر سے لیکر دلی اور دلی سے لیکر اسلام آباد تک ابھی خون جما دینے والی سردی نے پورے ماحول کو گویا منجمد کردیا ہے تاہم ہندوپاک کی قیادت نے بنکاک جاکر آپسی تعلقات میں یوں گرمی پیدا کردی کہ غیر متوقع طور یخ پگھلنے چمتکار ہو ہی گیا۔دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہو رہے ہیں اور دلی و اسلام آباد میں ایک عرصہ سے جو یخ جمی ہوئی تھی اُس سے دلفریب جھرنے رواں دکھائی دے رہی ہیں لیکن عام کشمیری ان جھرنوں کنارے بیٹھ کر اپنی دل بہلائی کا کوئی سامان تلاش نہیں کر پارہے ہیں۔
حالانکہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری یا ابتری سب سے زیادہ جموں کشمیر کے عوام کو ہی متاثر کرتی ہے تاہم جس انداز سے ہندوپاک کی قیادت مسئلہ کشمیر کو ایک جُزوی مسئلے کی طرح لیتے ہوئے محض خانہ پُری کے لئے اس کا تذکرہ کرنے لگی ہے اُس سے ریاستی عوام میں مایوسی ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی ہر دو ممالک کی تازہ مصروفیت سے زیادہ اُمیدیں وابستہ نہیں کر پارہے ہیں۔

(خبر جاری ہے)


مودی سرکار کے لئے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈاول اور خارجہ سکریٹری ایس جئے شنکر نے نہ جانے بنکاک میں پاکستانی حکام کے ساتھ کیا رازونیاز کی باتیں کیں کہ محض 48/گھنٹوں کے اندر وزیرِ خارجہ سُشما سوراج نہ صرف پاکستان جانے پر آمادہ ہوئیں بلکہ نہایت ہی ”خوشگوار موڈ“کے ساتھ گئیں اور ہنس ہنس کر پاکستانی قیادت کے ساتھ تصویریں کھچواآئیں۔

ہاں وہی سُشما جی جو مارچ14/2013ءء کو بحیثیتِ قائد حزبِ اختلاف کے لوک سبھا میں ایک تیز طرار بیان میں کہہ چکی ہیں کہ جب تک پاکستان” دہشت گردی“ نہیں روکتا اور اور اپنی سرزمین پر ”دہشت گردی کے کیمپ“نہیں اُکھاڑتا دونوں ممالک کے مابین کسی قسم کی مصروفیت اور باضابطہ مذاکرات کی بحالی نہیں ہونی چاہیئے۔
سرکار میں آنے کے بعد بی جے پی نے جموں کشمیر کے حوالے سے ایک طرح سے خاموش رہنے کی پالیسی اپنائی کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کئی بار کی Provocationیا توجہ دلائے جانے کے باوجود بھی اس معاملے پر بولنے سے پرہیز کیا۔
گئے اگست میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی مشیروں کی سطح کی بات چیت کو نئی دلی نے سرتاج عزیز کی حریت قائدین کے ساتھ ملاقات کے بہانے منسوخ کرکے ایک بار پھر سخت موقف اپنانے کا عندیہ دیا ۔پھر اگست میں ہی سُشما سوراج نے کسی تیسرے ملک میں ہندوپاک بات چیت کی بحالی کے کسی بھی امکان کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔لیکن محض دو ایک ماہ کے اندر نہ جانے صورتحال میں ،عام لوگوں کو نہ دکھائی دینے والی،کونسی تبدیلی ہوئی کہ دونوں ممالک نہ صرف تیسرے ملک میں ملے بلکہ موضوعِ سخن نہ صرف ہندوستان کی مقرر کردہ ”دہشتگردی“کی حدود سے نکل گئیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے شجرِ ممنوعہ کو بھی چھوا گیا۔
بنکاک میں دونوں ممالک کے حکام کی اس ملاقات سے قبل فرانس کی راجدھانی پیرس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اُنکے پاکستانی ہم منصب میاں محمد نوازشریف نے اچانک اور غیر متوقع،جیسا کہ دنیا کو باور کرایا گیا،کانا پھوسی کی تو پھر یوں لگا کہ جیسے سب کچھ بدلنے لگا ہو۔
ہندوپاک وزراءِ اعظم کی اس ملاقات کے چند ہی روز بعد بنکاک میں اجیت ڈاول اُنکے پاکستانی ہم منصب ناصر جنجوحہ سکریٹری خارجہ ایس جئے شنکر اور اُنکے پاکستانی ہم منصب اعزاز احمد چودھری کے بیچ گھنٹوں ملاقاتیں ہوئیں جن میں کئی خاص باتیں تھیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ ملاقاتیں میڈیا کی نظروں سے دور ہوئیں اور ان میں سبھی باتوں کا خلاصہ نہیں ہوا۔
ان ملاقاتوں کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ دونوں ممالک کے حکام نے واضح طور کہا کہ یہ ملاقاتیں پیرس میں مودی-نواز ملاقات کا نتیجہ ہیں۔خارجہ سکریٹریوں اور قومی سلامتی کے مشیروں کی اس بات چیت سے متعلق جاری ہوئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی ہیں اور اس عمل کو آئیندہ بھی جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی پیرس ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ یہ ملاقات دونوں لیڈروں کے جنوبی ایشیاء کے امن اور خوشحال مستقبل کے نظریہ کے تحت ہوئی ہے ۔
روس کے شہر اوفا میں ہوئی بات چیت کو محض” دہشت گردی“پر غور کرنے کے لئے محدود رکھے جانے کی بجائے اس ملاقات کے حوالے سے کہا گیا”میٹنگ کے دوران خطے کے امن، سکیورٹی،دہشت گردی،جموں کشمیر میں حد بندی لکیر پر جاری کشیدگی اور جموں کشمیر کو لیکر تبادلہٴ خیال ہوا اور مستقبل میں مثبت مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ لیا گیا“۔حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ سُشما سوراج کے نہایت اہم پاکستان دورے کو خود مودی اور نواز شریف طے کرچکے تھے تاہم بنکاک میں دونوں ممالک کے حکام کی ملاقاتوں کے چند ہی گھنٹوں کے بعد سُشما سوراج کے پاکستان روانہ ہونے سے گویا یہ تاثر دیا گیا کہ دونوں ممالک نے گفتگو کو بند نہ کرنے اور بات کو آگے بڑھانے کا بس فیصلہ کر ہی لیا ہے۔
پھر ”ہارٹ آف ایشیاء“کانفرنس میں شرکت کے علاوہ جب سُشما سوران پاکستانی ہم منصب کے علاوہ میزبان وزیرِ اعظم سے ملاقی ہوئیں اور جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اُس سے اس تاثر کو تقویت بھی ملی اور اسکی تصدیق بھی ہوئی کہ جو پیرس سے بنکاک تک کی ملاقاتوں کے ذرئعہ عام کیا گیا ہے۔چناچہ مشترکہ اعلامیہ جاری کرکے دونوں ممالک نے بہ آوازِ بلند یہ اعلان کرنا چاہا کہ وہ ایک بار پھر میز پر آگئے ہیں ۔
حالانکہ اس اعلامیہ میں کچھ غیر معمولی یا نیا نہیں تھا لیکن جس انداز سے دونوں ممالک ایک دوسرے کی پہل کی تعریفیں کر رہے ہیں اُس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس نئی کوشش کو پختہ کرنے کی کوشش میں ہیں اور ایک دوسرے کے تئیں پیار جتانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔چناچہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ سُشما سوراج اور سرتاج عزیز کے مابین ملاقات میں ”دہشت گردی“کی مذمت کی گئی اور اسکے خاتمہ کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا عزم کیا گیا۔
اعلامیہ میں بنکاک کی سرگرمیوں کو کامیاب مذاکرات کا نام دیا گیا اور کہا گیا کہ ”دہشت گردی“سے جُڑے سبھی مسائل کے حل کے لئے جو عہدو قرار کیا گیا ہے اسکو پورا کیا جائے گا جبکہ پاکستان سے ممبئی حملوں کے مقدمے کو حتمی انجام تک پہنچانے کی یقین دہانی لی گئی ہے۔اعلامیہ میں اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے جامع مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ لے لیا ہے اور اس سمت میں آگے بڑھا جائے گا۔اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مذاکرات کے تحت آنے والے معاملات بشمول مسئلہ کشمیر،سیاچن،سرکریک،ولربیراج،تجارتی اشتراک،عوامی روابط وغیرہ وغیرہ کا شیڈول مرتب کریں۔
یعنی مسئلہ کشمیر کو کئی ایک مسائل کے ساتھ ساتھ ایک ضمنی مسئلے کی طرح لیا گیا ہے جبکہ اس حقیقت سے دونوں ممالک شائد ہی انکار کر سکتے ہیں کہ انکا اصل تنازعہ کشمیر کو لیکر ہی ہے۔
اوفا سے لیکر پیرس تک دونوں ممالک کے درمیان جو بھی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں اُن سب میں سے سُشما سوراج کے دورہٴ پاکستان کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔چناچہ خود ہندوپاک دونوں کی وزارتِ ہائے خارجہ کہتی آئی ہیں کہ مودی اور نواز کے مابین جو ملاقاتیں ہوئیں وہ” اچانک“اور کسی پہلے سے طے پروگرام کے بغیر ہوئیں جبکہ یہ تین سال بعد تھا کہ ہندوستان کی وزیرِ کارجہ پاکستان کا پروگرام کے مطابق دورہ کررہی تھیں۔
پھر جب اس دورے کے دوران جامع مذاکرات ،جن کے لئے اب کے جامع کی بجائے وسیع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے،کی بحالی کا باضابطہ اعلان ہوا تو ظاہر ہے کہ یہ دورہ مزید خاص اور اہم ہوگیا ہے۔چناچہ دونوں ممالک نے ”جامع مذاکرات“کا سلسلہ 1997میں شروع کیا تھا جو کسی انجام پر پہنچے بغیر ہی محض دو سال بعد شروع ہوئی کرگل جنگ کے نتیجے میں ختم ہوگیا۔پھر نصف دہائی بعد سال 2004-05میں پھر سے مذاکرات کی بحالی کا اعلان ہوا لیکن یہ سلسلہ 2008کے ممبئی حملوں میں گویا شکار ہوگیا۔
پھر دو سال کے وقفہ کے بعد بات چیت کے احیاء کا اعلان ہوا اور جلد ہی تعطل کا شکار ہوکر باالآخر ختم ہوگیااور اب ایک بار پھر مذاکرات کی بحالی کا اعلان ہورہا ہے۔
ہندوپاک کے بیچ کی چپقلش اور فساد کی تاریخ اتنی ہی پُرانی ہے کہ جتنا پاکستان کا وجود اور تب سے لیکر آج تک دونوں ممالک کے مابین کتنی ہی بار کہیں رازونیاز کی تو کہیں کھلم کھلا ملاقاتیں ہوئیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔البتہ ابھی جو مذاکرات کی بحالی کا اعلان ہوا ہے اس میں ایک الگ اور دلچسپ بات ہے وہ یہ کہ یہ سب اچانک اور حیران کن انداز میں ہوا ہے۔
سرتاج عزیز کی حریت قائدین کے ساتھ ملاقات کے بچگانہ بہانے پر بات چیت منسوخ کرنے والی قیادت اسی پاکستان کے ساتھ پے درپے اور بلا شرط ملاقاتیں کرنے پر آمادہ ہیں جبکہ خود وزیرِ اعظم مودی اگلے سال پاکستان کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کرچکے ہیں۔یہ چمتکار کیسے ہوا اور اسکا انجام کیا ہوسکتا ہے ،اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا تو آسان نہیں ہے البتہ مبصرین کا اندازہ ہے کہ یہ نزدیکیاں محبت کی نہیں بلکہ مجبوریوں کی ہیں کہ امریکہ و برطانیہ جیسی طاقتیں دونوں ممالک پر مسلسل دباوٴ بنائے ہوئے تھیں کہ جو اپنے مفادات کے راستے میں ان دونوں ممالک کی ناچاکی کو ایک رکاوٹ کی طرح دیکھتے ہیں۔

اس بات میں شک نہیں ہوسکتا ہے کہ ہندوپاک کے درمیان کتنی ہی دشمنی کیوں نہ ہو اور خرابیٴ تعلقات کی نوعیت کتنی ہی شدید کیوں نہ ہولیکن انکی تاریخ ایک ہے اور انکی ہمسائیگی اتنی نزدیک ہے کہ انکے کئی مسائل اور مفادات مشترکہ ہیں جبکہ انکے بہتر یا خراب تعلقات پورے جنوب ایشیاء کے لئے انتہائی متاثر کُن ہیں۔یہ بات ناقابلِ فہم نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کھچاوٴ اس خطے کی موجودہ بے سکونی اور غیر یقینیت کو دوام دے سکتی ہے جبکہ انکے بہتر تعلقات اور آپس کی مثبت مصروفیت سے جنوب ایشیائی خطے میں سکیورٹی،امن اور سکون کی ضمانت حاصل کی جاسکتی ہے لیکن یہ مصروفیت اور سرگرمیاں واضح نقطہٴ نظر کے تحت ہونا لازمی ہیں۔
لیکن جہاں تک دونوں ممالک کی موجودہ بلکہ نئی مصروفیت کا تعلق ہے مودی سرکار کی کشمیر پالیسی خاموشی تک محدود لگتی ہے جبکہ اسکی پاکستان پالیسی ابہام اور غیر مستقل مزاجی کا شکار معلوم ہوتی ہے۔مئی 2014سے لیکر دسمبر2015تک کے مودی سرکار کے پاکستان سے تعلقات کے تئیں اقدامات کا تجزیہ کیا جائے تو اسے ابہام کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔بات کرنی بھی ہے یا نہیں،کس کے ساتھ اور کہاں بات کرنی ہے،کس مسئلے پر بات کرنی ہے اور کس مسئلے کا تذکرہ نہیں آنا چاہیئے،یہ سبھی چیزیں ہیں کہ جنہیں لیکر مودی سرکار ابہام اور غیر مستقل مزاجی کی شکار معلوم ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں چند ایک اقدامات کو یاد کیا جاسکتا ہے۔چناچہ پہلے انتخابات کے دوران تُرش روی اور گھمنڈکا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مودی اپنی چھاتی ماپتے ہیں ،پھرآپ اچانک اور غیر متوقع طور پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں بلا کر کچھ دیر کے لئے نئی اُمیدوں کو جنم دیتے ہیں اور پھرزمینی سطح پر کسی تبدیلی کے بغیر اتنا ہی اچانک خارجہ سکریٹری کو پاکستان روانہ کیا گیا۔
قومی سلامتی مشیروں کی ملاقات طے کی گئی اور پھرمعمولی بہانے پر اس ملاقات کو عین وقت پر منسوخ کرکے دُنیا کو حیران کردیا گیااور اب ایک بار پھر حدودوقیود سے باہر بات چیت پر آمادگی کا اعلان کیا گیا ہے۔اس نئی سرگرمی کا انجام کیا ہوگا،مودی سرکار کی جانب سے اگلا اقدام کیا ہوگا اور ہندوپاک کے تعلقات میں تازہ گرماہٹ کب تک قائم رہ پائے گی یہ دیکھنے والی بات ہوگی لیکن دونوں ممالک کی تازہ گرمی کشمیریوں تک منتقل ہونے سے رہ گئی ہے۔

حالانکہ وزیرِ اعلیٰ مفتی سعید اور جلد ہی اُنکے جانشین بننے جارہی صاحبزادی محبوبہ مفتی ہندوپاک کے تعلقات میں آرہی گرماہٹ پر بغلیں بجانے لگی ہیں لیکن علیٰحدگی پسندوں یا عام کشمیریوں کو دونوں ممالک کی تازہ مصروفیت میں اپنے لئے کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔بلکہ علیٰحدگی پسندوں میں اس حوالے سے ایک قسم کی مایوسی ہے کہ پاکستان بھی ابھی اُس شدت اورحدت سے مسئلہ کشمیر کا تذکرہ نہیں کررہا ہے کہ جو شدت اس نے ابھی کچھ دن قبل اپنا رکھی تھی۔
جیسا کہ حریت کانفرنس کے ایک سرکردہ ممبر نے عالمی سہارا کو بتایا”میرے خیال میں بھارت نے پاکستان کی جانب ایک ایسے وقت پر نام نہاد دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے کہ جب پاکستان نے مدت بعد کشمیر کے حوالے سے مطلوبہ موقف اور طریقہٴ کار اپنانا شروع کیا تھا،آپ دیکھتے ہیں کہ ابھی پاکستان ایسے بیان دینے سے پرہیز کرنے لگا ہے کہ جس سے اسے لگتا ہے کہ بھارت ناراض ہوجائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت نے سلیقے سے پاکستان کو ٹھنڈا کردیا ہے،کچھ دیر تک بات چیت کے نام پر چائے پارٹی چلتی رہے گی اور پھر رُک جائے گی لیکن جب تک دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو بنیادی مسئلہ بناکر معاملہ طے کرنے کا من نہیں بناتے تب تک لاکھ مذاکرات ہوں حالات کو نہیں بدلا جاسکتا ہے“۔
اُنہیں اعتراف ہے کہ وہ دونوں ممالک کی تازہ مصروفیت سے مایوس ہیں اور اسکے لئے دلیل دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں”ہم بات چیت کے خلاف تو نہیں ہیں لیکن دونوں ممالک اپنے تعلقات کو کشمیر کی قیمت پر نہیں سنوار سکتے ہیں،کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس پر مذاکرات کی ڈرامہ بازی کی نہیں بلکہ سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے“۔
جہاں تک عام کشمیریوں کا تعلق ہے وہ بھی ہندوپاک کی تازہ سرگرمیوں سے ناراض تو نہیں ہیں لیکن اس میں اپنے لئے کچھ نہیں دیکھتے۔
جیسا کہکشمیر یونیورسٹی کے ایک اسکالر کہتے ہیں”دونوں ممالک کی اپنی مجبوریاں اور مسائل ہیں،بھارت افغانستان میں رول چاہتا ہے جسکے لئے ضروری ہے کہ اسکے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت خراب نا ہوں جبکہ خود پاکستان کے کئی داخلی مسائل ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ بھارت کے ساتھ روابط کو بہتر کرنے کے لئے خود کو ایک طرح سے مجبور پاتا ہے،ایسا لگتا ہے کہ ان مسائل اور بیرونی دباوٴ کی وجہ سے دونوں ممالک کشمیر کو ایک بار پھر حاشئے پر رکھتے ہوئے مصروف رہنے پر آمادہ ہیں“۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ کشمیریوں کے لئے ایک حوصلہ شکن بات ہے۔ڈاون ٹاون سرینگر کے ایک نوجوان محمد عمر کی رائے بھی اسی سے مماثل ہے اور وہ کہتے ہیں”دونوں ممالک بے شک بات کریں بلکہ انہیں ملتے ہی رہنا چاہیئے لیکن مایوسی اس بات کی ہے کہ کشمیر کو نظرانداز کیاجاتا ہے،ابھی کچھ دن قبل پاکستان بڑے طمطراق سے کشمیر پر بولتا تھا اور ابھی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کے سرسری تذکرے کے ساتھ بھارت کے ساتھ اپنے ضمنی مسائل پر مصروف ہورہا ہے“۔

تجزیہ نگاروں،ماہرین ،سیاسی پنڈتوں اور عام لوگوں کے خیالات اپنی جگہ …ان میں سے کس کے اندازے یا خدشات صحیح ثابت ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن مذاکرات کا جاری رہنا اپنے آپ میں اُمید افزا ہوسکتا ہے بشرطیکہ نقطہٴ نظر واضح ہو اور اقدامات سنجیدہ۔مذاکرات ایک مسلسل عمل ہے جس سے نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں نہ کہ خود ایک نتیجہ۔قریب17سال سے جاری مذاکراتی عمل سے بھارت یا پاکستان دونوں ہی اپنے اوپر دباوٴ کو وقتی طور کم کرتے رہنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کرپائے ہیں اور نہ ہی وہ اس سلسلے کو بلا ناغہ جاری رکھ پائے ہیں۔
اب کے جو دونوں نے نئی شروعات کی ہے اس سے قبل از وقت مایوس ہونا ٹھیک نہیں ہے لیکن کشمیر کے تعلق سے بات کرتے ہوئے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس مسئلے کو ضمنات میں رکھنے سے نہیں بلکہ مرکزی حیثیت دینے سے Addressکیا جاسکتا ہے،کیا دونوں ممالک کو اس حقیقت کا ادراک ہوگا بھی…آنے والا کل ہی بتا سکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

صریر خالد کے جمعرات جنوری کے مزید کالم