سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری۔۔۔۔؟

ہفتہ جنوری    |    عمر خان جوزوی

والدہ کی وفات کے بعد تو دنیاوی پریشانیاں، سوچ و فکر ، غم و الم کی فضائیں اور بلڈپریشر، شوگر اور دل کی بیماری پہلے ہی والد محترم کو لاحق تھی لیکن پچھلے کچھ دنوں سے دل کی تکلیف بہت زیادہ بلکہ حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی جس کی وجہ سے وہ پانچ دس منٹ کیلئے بھی آرام و سکون سے بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ ہارٹ سپیشلسٹ ڈاکٹروں نے ان کیلئے بائی پاس کامشورہ دیا جس کیلئے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد لے جانا پڑا۔
وسیع و عریض رقبے پر قائم شفاء انٹرنیشنل ہسپتال صفائی، خوبصورتی اور سہولیات کے حوالے سے واقعی اپنی مثال آپ ہے۔ تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان اوروزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویزخٹک غالباً شفاء انٹرنیشنل جیسے ہسپتالوں کو دیکھ کر خیبرپختونخوا میں سرکاری ہسپتالوں کی پرائیویٹائزیشن یعنی نجکاری کے منصوبے بنا رہے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

عمران خان اور پرویز خٹک کی طرح خیبرپختونخوا کے بھی ہر شخص کی یہ خواہش ہے کہ ہمارے سرکاری ہسپتال بھی شفاء انٹرنیشنل جیسے ہسپتالوں کی طرح خوبصورت،دلکش نما اور تمام تر طبی سہولیات سے آراستہ ہوں لیکن عمران خان اور پرویز خٹک کو کیاپتہ ۔

۔۔۔؟ کہ ہمارے یہ سرکاری ہسپتال بھی نجکاری یا پرائیویٹائزیشن کے ذریعے اگر خوبصورت اور عالیشان بنے تو یہ پھریہ کسی بھی صورت غریبوں کیلئے نہیں رہیں گے۔ شفاء انٹرنیشنل اور قائد اعظم انٹرنیشنل جیسے خوبصورت اور عالیشان محلات میں بنے ہسپتالوں کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں۔ اب تو نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک کے اندر گلی گلی اور نگر نگر لوگوں نے جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال کھول رکھے ہیں مگر ان ہسپتالوں سے علاج تو دور ان کے اندر جانا بھی کسی غریب کے بس کی بات نہیں۔
میں نے خود جدید سہولیات سے آراستہ ان ہسپتالوں میں اپنی گنہگار آنکھوں سے ”صحت کا انصاف“ لاکھوں اور کروڑوں روپے میں بکتا اور غریبوں کو رلتا دیکھا۔ ان ہسپتالوں میں معمولی ٹریٹمنٹ اور ایک انجکشن لگانے کے بھی ہزاروں روپے وصول کئے جاتے ہیں جبکہ ان ہسپتالوں کے اندر تو کوئی آپریشن کروانا کسی غریب کے بس کی بات ہی نہیں۔ ان ہسپتالوں میں ایک آپریشن کے 5 سے 10 لاکھ روپے لئے جاتے ہیں۔ اب سوچنے کی بات ہے جن غریبوں نے زندگی میں بھی لاکھوں تو دور ایک لاکھ روپے بھی نہیں دیکھے ہوں۔
۔ جن کی زندگی بھر کی جمع پونجی لاکھ، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نہ ہو۔۔ وہ لوگ ایک آپریشن کیلئے 5 سے دس لاکھ روپے کہاں سے لائیں گے۔۔۔۔؟ نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک کی اکثر آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ۔لاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کے مالی حالات بد سے بدتر ہیں۔۔ اکثرلوگ بڑی مشکل سے ایک وقت کی روٹی کھا کر زندگی کی گاڑی کو کسی طرح دھکا دے رہے ہیں۔۔ کئی تو ایسے بھی ہیں جو روٹی کے ایک ایک نوالے کیلئے تڑپ اور ترس رہے ہیں۔
۔اس ملک کے ہر چوک اور چوراہے پر بھوک سے بلکتے بچے اسی مالی بدحالی کا نتیجہ ہی تو ہیں۔۔ جو لوگ مشکل سے گھر کا نظام چلا رہے ہیں وہ شفاء انٹرنیشنل اور قائد اعظم انٹرنیشنل جیسے خوبصورت اور دلکش ہسپتالوں کے قریب جانے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔۔ اس لئے انصاف کے دعویداروں کو خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کو نجکاری و پرائیویٹائزیشن کے ذریعے ماڈرن، خوبصورت اور دلکش بنانے کی بجائے ان کو غریبوں کی توقعات کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ کرنا چاہیے۔
یہ سرکاری ہسپتال ہی غریبوں کی امیدوں کے آخری مراکز اوردردسے کراہنے اورحالات سے ناامیدہونے والوں کیلئے ایک روشن کرن ہیں۔ ان کی نجکاری سے غریب لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس ملک میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس بسااوقات 10، 20 روپے بھی نہیں ہوتے جو بیماری کی صورت میں پھربھی فوری طورپرسرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اگر یہ سرکاری ہسپتال بھی شفاء انٹرنیشنل اور قائد اعظم انٹرنیشنل جیسے ہسپتالوں کی طرح خوبصورت اور دلکش بنائے گئے تو پھر 10 روپے پر سرکاری ہسپتالوں میں چیک اپ کرانے والے یہ غریب لوگ کہاں جائیں گے۔
۔۔۔؟ غریبوں کے پاس اگر مالی وسائل ہوتے تو ان کو سرکاری ہسپتالوں میں آنے کی کیا ضرورت ۔۔؟ ہر شخص جدید سہولیات اور آرام و سکون کا خواہش مند ہوتا ہے ایسے میں پھر یہ لوگ شفاء انٹرنیشنل جیسے ہسپتالوں کا رخ کیوں نہ کریں۔ جہاں ان کو ہر قسم کی سہولیات میسر ہوں۔ مانا کہ سرکاری ہسپتالوں کو بھی خوبصورت اور دلکش ہونا چاہیے مگر پرائیویٹ نہیں کیونکہ غریب لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں کے اخراجات کسی بھی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔
پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرح اگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی صحت کا انصاف بکنے لگا تو پھر غریبوں کیلئے ہر طرف موت ہی موت ہوگی۔اس ملک میں ویسے ایک سرکاری ہسپتالوں کی سہولت ہی توہے جوغریبوں کومیسرہے مگرمعلوم نہیں عمران خان اورتحریک انصاف کے دیگراکابرین وخیبرپختونخواکے حکمران کن چکروں اورخوشی میں عوام سے اب یہ سہولت بھی چھیننے کی کوشش کررہے ہیں ۔۔؟ خیبرپختونخوامیں سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کی کوشش کی گئی تواس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمدہوں گے ۔
اس لئے عمران خان اورصوبائی حکومت کوصحت کے انصاف پروارکرنے سے سوبارضرورسوچناچاہئے ورنہ پھرہاتھ ملنے اورافسوس کے سواکچھ ہاتھ نہیں آئے گاکیونکہ اس ملک میں غریبوں کی طرف بڑھنے والاہرقدم اسی شخص کی جانب واپس مڑاہے ۔مڑے گااورمڑتارہے گا۔جس نے بھی غریبوں کوتماشابنانے کی کوشش کی وہ خوددنیاکے سامنے تماشابنا۔بہتریہی ہوگاکہ صوبائی حکومت سرکاری ہسپتالوں کودوسروں پربیچنے کی بجائے ان کی صورتحال کو سرکاری دائرے میں بہترکرکے غریبوں پراحسان عظیم کرے ۔پی ٹی آئی حکومت اگرایساکرنے میں کامیاب ہوئی تویہی سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

نجکاری

عمر خان جوزوی کے جمعہ جنوری کے مزید کالم



متعلقہ کالم