سعودیہ ایران کی کشیدگی اور پاکستان

ہفتہ جنوری    |    میر افسر امان

دو اہم مسلم ملکوں میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان اور امتِ مسلمہ کے ملکوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ کس طرح ان کے درمیان تعلوقات واپس دوستی میں تبدیل ہو جائیں۔اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں ان ہی مفادات کے تحت ملکوں سے تعلقات ترتیب دیتے ہیں ۔ سعودیہ اور ایران کے پہلے سے خراب تعلقات مذید اس لیے خراب سے خراب تر ہوئے کہ تہران میں سعودیہ کے سفارتخانے کو آگ لگا دی گئی ہے۔
سلامتی کونسل نے بھی تہران واقعے کی مذمت کی ہے گو کہ اس فعل پر ایران نے واجبی سی معذرت کااعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ جس کو سعودیہ نے ماننے سے انکار کر دیا۔ سعودی نے ایران سے ہر قسم کے تعلوقات ختم کر دیے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

سعودیہ کی حمایت میں خلیج کی ریاستوں نے ایران سے اپنے اپنے سفیر واپس بلالیے ہیں جس میں کویت بھی شامل ہو گیا ہے۔ کویت نے کہا ہے کہ سفارت خانے پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف وردی ہے۔

عرب لیگ کا اور خلیج کونسل کے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔جس میں مذید فیصلے کیے جائیں۔اگر انصاف کو سامنے رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو یہ احساس سامنے آتا ہے کہ کئی عرصے سے ایران کا رویہ سعودیہ کے ساتھ جارحانہ رہا ہے۔منیٰ کے حادثے کو جو مسلمانوں کے درمیان کا معاملہ تھا کو ایران نے بین لقوامی بنا دیا تھا جو اسلامی دنیا میں کسی طرح بھی مناسب نہیں سمجھا گیا تھا۔اس سے قبل ایران کے لیڈروں کے بیانات بھی بڑے تلخ نظر آئے تھے۔
علاقہ کے مسلم ملکوں کو سامنے رکھ کر چند دن پہلے ایران کے ایک طاقت ور شخصیت سابق وزیر انٹلیجنس اور موجودہ صدارتی مشیر علی یونس کی طرف سے بیان تھا کہ ا یران عظیم الشان سلطنت بن چکا ہے عراق ہمارا ہے۔کھوئی ہوئی زمین واپس لے رہے ہیں۔ اسلام پسندوں (سنیوں)اور نئے عثمانیوں سے مقابلہ کریں گے۔ترک ہمارے تاریخی مخالف ہیں۔اس بیان کو سامنے رکھ کر اگر تجزیہ کریں تو یہ خطے کے مسلمان ملک جس میں سعودیہ بھی شامل ہے کوایک دھمکی ہے۔
ایران آخر کس کی شہ پر ایسے بیان دیتا ہے جس پڑوسی ملکوں میں تشویش کی لہر دوڑ جائے۔ان کا یہ کہنا کہ سنیوں اور نئے عثمانی ترکوں سے مقابلہ کریں گے ۔ترک ہمارے تاریخی مخالف ہیں۔ دوسری طرف ترکی دو مسلمان ملکوں میں تعلوقات واپس نارمل کرنے کی بات کرتا ہے مگر نہ جانے ایران کے لیڈر کس کے کہنے پر دشمنوں جیسے بیان دے رہے ہیں۔ ایران شام میں ایک شیعہ فرقے کے بشار اسد کی مدد کر رہا اس کے فوجی شام میں لڑے رہے ہیں۔
بشاراسد کا خاندان شام پر کئی عرصہ سے سنی اکثریت پر حکومت کر رہا ہے۔ جعلی طریقے سے الیکشن کروا کے حکومت پر ذبردستی قابض ہے۔ ظلم کی انتہا کر دی ہے لا کھوں کو قتل کر دیا ہے لاکھوں کو مہاجرت پر مجبور کر دیا گیا۔شام کے مسلمان دنیا میں در بدر ہو گئے ہیں۔ مجبوراً سعودیہ بھی شام میں بشار اسد کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کر رہا ہے۔یمن میں بھی ایران کے فوجی لڑ رہے ہیں ایک مدت سے یمن کے باغیوں کی مدد ایران کر رہا ہے۔
ایران نے عراق میں صدام حسین کی سنی حکومت کو امریکا کے ساتھ مل کر ختم کی اور وہاں شیعہ حکمران کو اقتدار دے دیا گیا۔ یہ واقعات ہیں جس کی وجہ سے سعودیہ میں پہلے سے خطرہ محسوس کر رہاتھا۔اس کے علاوہ ہر ملک کے اپنے اپنے قوانین ہیں جس پر اس کے ہر شہری کو پابندی کرنی پڑتی ہے ۔ قوانین کی پابندی نہ کرنے کی شکل میں سزا بھی بھگتنی پڑتی ہے۔ گو کہ کسی بھی ملک کو اپنے شہریوں کے خلاف بنیادی حقوق کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
جس بات پر ایران نے سخت رد عمل کا مظاہرہ وہ اس کے فرقے کی تین لوگ تھے جنہیں دوسرے ۴۷ / سنی لوگوں کے ساتھ دہشت گردی کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ سعودی قانون کے مطابق گردن زنی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر ایران کے عوام جو پہلے سے سعودیہ کے مخالف ہیں نے تہران شہر میں سعودیہ کے سفارت خانے کو جلا دیا۔ جہاں پر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ اس سے قبل ایران میں دہشتگردی کی وجہ سے سنی مسلمانوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟کیا دوسرے سنی مسلمان ملکوں نے ایران کے اس فعل پر ایسا پرتشدد ردعمل ظاہر کیا اور ایران کے سفارت خانے جلائے؟ شیعہ تنظیموں کی طرح ملکوں ملک مظاہرے کیے تھے؟یقینانہیں کیے تھے تو پھر ایران کو بھی احتیاط کرنی چاہیے تھی۔
بہر حال الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں۔ اگر دو مسلمان ملکوں میں لڑائی یااختلافات ہو جائے اور معاملات بگڑنے لگیں تو دوسرے مسلمان ملکوں کو درمیان میں پڑھ صلح کرا دینی چاہیے۔اسی لیے پاکستان کے علماء اور سیاست دانوں نے یک زبان ہو کر اخبارات میں اس بات کا اظہار کیا ہے کی پاکستان آگے بڑھ کران اختلافات کو دور کرنے کی کوششیں کرے جو ان شاء اللہ ضرور ہو گی۔ آج سعودیہ کے وزیر خارجہ پاکستان آ رہے ہین۔
ایران کے وزیر خارجہ کو بھی پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے اور مل جل کر اس تنازہ کا حل نکانا چاہیے۔ نہ جانے مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی کس کام کے لیے بنائی گئی تھی ۔ ابھی تک اُس کے طرف سے کوئی کاوارئی سننے اور دیکھنے میں نہیں آئی۔ کیا اس موقعہ پر اُسے فعال کردار ادا نہیں کرنا چاہیے ؟ضرور کرنا چاہیے ۔مسلمان ملکوں کے خلاف عیسائیوں حکومتوں نے اتحاد کیا ہوا ہے۔وہ ان کو آپس میں لڑاتے رہتے ہیں اور مسلمان ان کے آلہ کار بنتے رہتے ہیں۔
اس وجہ سے مسلمان ملکوں کی کوئی اپنی سوچ نہیں
۲
ہے۔ باہر سے جو کچھ کہا جاتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اپنی بربادی کے سامان خود مہیا کرتے رہتے ہیں۔ ابھی دودن پہلے کی خبر تھی کہ امریکا کی سابقہ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے داعش کو بنایا ہے ۔وہ اس لیے بنایا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے نقشے کو تبدیل کرنا ہے۔ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اس نے سو بیس سے زیادہ اتحادی ملکوں کا دورہ کیا تھا اور داعش کے ذریعے خلافت کے اعلان کی تاریخ بھی طے کر لی گئی تھی۔
مگر ایک دم سے حالات بدل گئے۔ امریکا نے ہی داعش کو اردن میں تربیت تھی ۔ عراق میں داعش کو اسلحہ دیا۔ داعش نے عراق اور شام کے درمیانی علاقوں پر قبضہ کیا ۔ تیل کے کنویں پر قبضہ کیا ۔مارکیٹ میں تیل فروخت کیا اور اپنے خزانے کو خوب بھرا۔داعش کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے خلافت کا اعلان کیا اور دنیا سے اسلام سے محبت کرنے والے سادہ نوجوانوں کو بھرتی کیا ۔ اس کے بھی پاکستانی طالبان کی طرح قتل و غارت کے واقعات سامنے آئے جس سے عام مسلمانوں میں اس کے خلاف نفرت پھیلی۔
آج کی ہی اخبارات میں خبر لکھی ہے کہ داعش نے ایک خاتون صحافی کا سر قلم کر دیا۔امریکا نے پہلے داعش کو بنایا اس کو اسلحہ دیا آرام سے عراق اور شام کے درمیانی علاقعے پر قبضہ کرنے دیا۔ اب اس کے خلاف ایران کی فوجوں کو ملا کر لڑ رہا ہے۔ اب اس گھتی کو کون حل کرے کہ داعش کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ کیا یہ امریکا کی طرف سے مسلمانوں میں دس انفارمیشن کی کوئی مہم ہے۔ عام لوگوں تک تو اسلامی دنیا سے کوئی بھی خبر نہیں ملتی صرف وہ ہی خبر ملتی ہے جو مغربی یہودی /صلیبی میڈیا دیتا ہے۔
مسلمان ملکوں کی تو اپنی کوئی خبر رساں ایجنسی بھی نہیں ہے جو مسلمانوں کی رہبری کر سکے مسلمان حکمران امریکا کے پٹھو بن کر عام مسلمانوں پر ذبردستی حکومتیں کر رہے وہ امریکا کے ہاتھ تاش کے پتوں کے طرح ہیں امریکا جیسے چاہیے ان پتوں سے کھیلے ۔اس میں سعودیہ، مصر،شام،اور دوسرے مسلمان ملک شامل ہیں۔ایران کے اسلامی انقلاب کے لیڈر خمینی  نے امریکا مردہ باد کا نعرہ لگا کر اسلامی دنیا میں نام کمایا تھا۔
مگر اب ایران بھی اب امریکا کا دم چھلا بن گیا ہے۔ امریکا ہی سعودیہ اور ایران کو لڑا رہا ہے۔سعودیہ میں بھی داعش کاروائیاں کرتی رہی ہے اسی لیے سعودیہ نے داعش کے لیے دہشت گردی کرنے کی پاداش میں لوگوں کی گردنیں کاٹی ہیں۔کاش کہ اسلامی دنیا امریکا یا کسی بیرونی طاقت کا آلہ کار نہ بنیں اپنے معاملات آپس میں بیٹھ کر حل کریں یہی اس دور کا مسلمانوں کے لیے پیغام ہے یہی سعودیہ اور ایران کے لیے پیغام ہے۔یہی سعودیہ اور ایران کی کشیدگی کا حل ہے۔
بتان رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پاکستان ایران سعودی عرب، ایران کشیدگی

میر افسر امان کے ہفتہ جنوری کے مزید کالم



متعلقہ کالم