عامر کواب معاف کر دینا چاہیے۔۔۔۔

پیر جنوری    |    عمار مسعود

یہی ہوتا ہے ۔ یہی ہوتا ہے اس ملک میں یہی ہوتا ہے۔ بڑے بڑے مجرم آزاد پھرتے ہیں اور سائیکل چور مدتوں جیل میں رہتے ہیں۔ کڑوڑوں کھانے والوں کی تکریم ہوتی ہے اور چھابڑی سے پھل چوری کرنے والے کو سزا سنا دی جاتی ہے۔ الزام لگانے والے خود ملزم ہوتے ہیں اور اپنی پارسائی جتانے کے لیئے قربانی کا بکرا تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔چھوٹے مجرم کو اس معاشرے میں سزا بھی ملتی ہے۔ لعن طعن بھی ہوتی ہے ۔تھانے میں چھترول ہوتی ہے ۔
جوتے بھی پڑتے ہیں ۔بدنامی بھی ہوتی ہے۔ سوشل بائیکاٹ بھی ہوتا ہے۔ کڑی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ ہر نئی واردات کے شبہے میں یہ احتیاط گرفتار بھی ہوتے ہیں۔اگر اس سماج کے بڑے مجرموں کو سزا ملنی شروع ہو جائے تو کیا یہ معاشرہ درست نہ ہو جائے؟ سارا نطام راہ راست پر نہ آ جائے؟ لیکن معاشرہ اور سماج سدھارنے کی کس کو یہاں فکر ہے یہاں تو بس ہمہ وقت ایک قربانی کے بکرے کی تلاش رہتی ہے جسکو سزا دے کر پارسائی کا ڈھونگ رچایا جا سکے۔

(خبر جاری ہے)

خود کو پاک صاف اور پوتر بنایا جا سکے۔
دو ہزار نو میں سترہ سال کی عمر میں گوجر خان جیسے علاقے سے آئے ہوئے ایک نوجوان محمد عامرنے اپنے کرکٹ کرئیر کا آغاز کیا۔ دنوں میں اپنی مہارت سے ساری دنیا کی نظروں کا محور ہو گیا۔ ٹیسٹ ہو یا ون ڈے یا پھر ٹی ٹوئینٹی ہر طرف ایک نام کا شہرہ ہونے لگا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ برق رفتاری سے پچاس وکٹیں لینے کا ریکارڈ دنوں میں چکنا چور ہو گیا۔ دنیا بھر کی ٹیمیں عامر کی باولنگ کی مہارت سے گھبرانے لگیں۔
ایسے میں سترہ سالہ اس نوجوان سے وہ غلطی ہو کہ جو نہیں ہونی چاہیے تھی۔ سپاٹ فکسنگ کا کیس بنا۔ سلمان بٹ اور مظہر مجید کے منصوبے میں عامر اور محمد آصف ملوث پائے گئے۔ پانچ سال کی پابندی لگ گئی ۔ چھ ماہ قید ہو گئی۔ ساری دنیا میں بدنامی ہوئی۔ دوست یار ملنے سے کترانے لگے ۔ گھر والوں کا جینا دشوار ہو گیا۔ گھر سے نکلنے پر طعنے ملنے لگے۔ پر یکٹس تو دور کی بات کسی بھی گراوئنڈ میں جانا عذاب ہو گیا۔
کر کٹ کے بڑے بڑے نام خلاف ہو گئے۔ ہر کوئی ملک کا نام بدنام کرنے پر سترہ سالہ نوجوان کے خلا ف تلوار سونت کر کھڑا ہو گیا۔
ہم اور اپ اس نوجوان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ جس نے سترہ سال کی عمر میں کرکٹ کی دنیا کی ساری شہرت، نیک نامی اور محبت سمیٹ کر ایک ہی سال میں سب کچھ گنوا دیا۔وہ نوجوان جسکو اپنے ٹیلنٹ کا خود اندازہ نہیں تھا وہ عروج کے کمال سے زوال کے پاتال میں گر گیا۔یہ وہی نوجوان تھا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ وسیم اکرام سے زیادہ خطرناک باولر ہے۔
یہ وہی نوجوان تھا جسکو سب ماہرین پاکستان میں کرکٹ کا مسقبل کہتے تھے۔ سرفراز نواز، عمران خان ، وسیم اکرم ، وقار یونس اور شعب اختر کے سلسلے کی کڑی بتاتے تھے۔اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے تھے۔یہ وہی نوجوان تھا کہ جب سپاٹ فکسنگ کا کیس سامنے آیا تو مائیکل ہولڈنگ عامر کے بار میں بات کرتے اب دیدہ ہو گئے۔کوئی کمزور اعصاب کا مالک شخص اس سارے مرحلے سے گزرا ہوتا تو شائد اسکا زندہ رہنا ہی مشکل ہوتا۔
چہ جائیکہ کہ وہ پانچ تکلیف دہ سال پابندی گزارتا۔ اپنی فٹنس کو برقرار رکھتا اور جیسے ہی اسکو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملتی تو پہلے میچ میں تین اہم وکٹیں لے لیتا۔ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی محنت سے جگہ بناتا اور پانچ عذاب ناک سالوں کے بعد پھر ٹیم کا حصہ بننے کو تیار کھڑا ہوتا۔ یہ سارا عمل امکان سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ لیکن اذیت کے امکان ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ابھی بہت سے مرحلے باقی ہیں۔
ابھی وہ پارسا کرکٹر تنقید نگارکا روپ دھارے ہوئے ہیں جو جسٹس قیوم کی رپورٹ میں مجرم قرار پائے۔
ابھی اپنی ٹیم کا کپتان پارسائی کا بہروپ دھارے ہوئے ہے۔ ابھی خود مو قعہ با موقع رن آوٹ ہونے والے اور دو تین کو رن آوٹ کروانے والے اخلاقیات پر بحث کر رہے ہیں۔ ابھی تجزیہ نگاروں کی کمائی جاری ہے۔ ابھی ملکی کرکٹ میں نوجوانوں سے زیادتی کا دور ختم نہیں ہوا۔ ابھی محمد عامر کے بہت سے کٹھن امتحان باقی ہیں۔
سپاٹ فکسنگ میں محمد عامر جو اس گھناونے منصوبے کا مرکزی کردار بھی نہیں تھا اس نے جاب بوجھ کر ایک نو بال کروائی اور جرم ثابت ہو گیا۔
بس یہ پکڑے جانے کی سزا محمد عامر کو ملی ہے۔ ورنہ یہاں کیا نہیں ہوتا۔ایک میچ میں کرکٹ کی تاریخ کے سب سے زیادہ رن آوٹ ہوتے ہیں کوئی نہیں پکڑا جاتا۔ہاتھوں میں گیند کو فیلڈر ہاتھ سے گرا دیتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔ سب سے زیادہ کیچ چھوڑنے کا ریکارڈ بنتا ہے کسی طرف سے میچ فلسنگ کی آواز نہیں آتی۔ورلڈ کب جیسے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ نو بال او ر وائڈ بال کروانے کا ریکارڈ بنتا ہے کسی پر الزام نہیں آتا۔
بیٹسمین بچوں کی طرح ایک سہل کیچ کے لیئے گیند کو ہوا میں اچھال دیتے ہیں کوئی شور نہیں مچتا۔بڑے بڑے جغادری کھلاڑی میچ کے انتہائی اہم موڑ پر ایک احمقانہ شاٹ کھیل کر پوری ٹیم کی محنت کو برباد کر کے چلے جاتے ہیں کوئی جوئے کا الزام نہیں لگاتا۔اس معاشرے میں مجرم وہی ہے جو اپنی چھوٹی سی بھی غلطی مان لیتا ہے۔ سزا کاٹتا ہے۔ جرمانے بھرتا ہے۔بدنام ہوتا ہے۔ اصل کھلاڑی کوئی اور ہوتے ہیں۔ جو ایسے میں پارسائی کو دھونگ رچاتے ہیں۔
اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔خود ہی منصف، خود ہی عدالت اور خود ہی گواہ بن جاتے ہیں۔
محمد عامر کواب معاف کر دینا چاہیے۔ کوئی نہیں کہہ رہا کہ سپاٹ فکسنگ کوئی اچھی بات تھی یا یہ کہ محمد عامر نے کوئی جرم ہی نہیں کیا۔ غلطی ضرور ہوئی لیکن اب اس کی سزا بہت مل چکی ہے۔ اب محمد عامر کا حوصلہ ، ہمت اور احترام دینا چاہیے۔ اس ملک کے لیئے، اس ملک کی کرکٹ کے لیئے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیئے، کرکٹ کے فروغ کے لیئے، پانچ سالہ سزا کے روگ کے لیئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے پیر جنوری کے مزید کالم