مین آف ایکشن، ایک ایکشن ہسپتالوں پر بھی!!!

پیر جنوری    |    حافظ ذوہیب طیب

کب میرے ملک کے لوگ آسودہ حال ہوں گے ؟کب ان پر زندگی مہربان ہو گی؟ کب زندگی کی ضروری آسائشیں بغیر ذلیل ہوئے ان کے نصیب میں لکھی جائیں گی؟دو نوں ٹیلی فون کالز کو سننے کے بعد ایسے کئی سوالات میرے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں اور پھر سوچوں کے گہرے سمندر میں ڈوب کر بھی جس کا جواب حاصل نہ ہو سکا۔ روٹی، کپڑا اور مکان جیسی اشد ضروریات تو ایک جگہ لوگ یہاں اپنے پیاروں کے علاج کی خاطر جس عذاب اور کوفت کا شکار ہیں ، مجھے پہلے بھی جس کا احسا س تھا لیکن اوپر نیچے آنے والی ان دو ٹیلی فون کالز نے محکمہ صحت پنجاب اور لاہور کے سر کاری ہسپتالوں کی کار کردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ۔

پہلی ٹیلی فون کال لاہور سے ایک مریض کے بیٹے کی تھی، جس کے باپ کے آپریشن کے لئے مئیو ہسپتال کے ڈاکٹروں نے جون 2016کی تاریخ دی ہے اور جو مجھے حکام بالا سے رابطہ کر کے اپنے باپ کے آپریشن کا وقت جلد لینے کی درخواست کر رہا تھا ۔

(خبر جاری ہے)

مریض گلے میں موجود کئی گھٹلیوں کی وجہ سے شدید بیمار ہے ۔ جب سے اس عذاب میں مبتلا ہے نہ تو زیادہ دیر بات کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی کام کر نے کے قابل ہے۔ رات کرسی پر بیٹھ کر بسر ہوتی ہے اور جب دن بھر کی تھکاوٹ اور پتھرائی ہوئی آنکھوں کو کچھ سکون دینے کیلئے نیند کی وادی کا مسافر بننے کی کوشش کرتا ہے تو کرسی سے گر پڑتا اور یوں پھر پوری رات اس اذیت کا شکار رہتا ہے ۔


دوسری کال رات کے تقریباََ10بجے گنگا رام ہسپتال کی ایمرجنسی سے قصور شہر کی ایک پچاس سالہ بوڑھی کی تھی جس نے نا معلوم کس سے میرا نمبر لیا ، درد سے ڈوبی، امید سے بھری اور شدت غم سے نڈھال آواز میں وہ مجھ سے مخاطب تھی”پتر!میرے پاؤں میں زخم ہے جس کی بائیوپسی(Biopsee)کر نے کے لئے ڈاکٹروں نے مجھے صبح 7بجے کا وقت دیا ہے ، یہاں کوئی بیڈ بھی خالی نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں آپ صبح آئیں، پتر! مجھے بتا ؤ میں کیسے زخم کی وجہ سے شدت درد میں اس وقت قصور جاؤں اور پھر صبح واپس آؤں، خدا کا واسطہ ہے ان ڈاکٹروں سے کہیں کہ مجھے بیڈ پر کسی کے ساتھ ہی جگہ دے دیں۔

یہ دو ایسے واقعات ہیں جو ایک ہی روز میں میرے علم میں آئے لیکن ایسے کتنے ہی لوگ ہوں گے جو اپنے پیاروں کے علاج کی خاطر در در کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہو نگے اور ان میں کتنے ہی ایسے جو آپریشن کے اتنے طویل وقت کی وجہ سے اسی بیماری میں ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہو نگے۔ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں بھی اس سے ملتی جلتی صورتحال ہے ۔ سینئر ڈاکٹرز جو پہلے ہی ہسپتال میں آنا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ، اپنے پرائیویٹ کلینک سجا کر مریضوں کو جو نئیر ڈاکٹروں کے سپرد کر دیتے ہیں اور اس کے علاوہ ادویات اور دیگر ضروری اشیا ء کی مصنوعی قلت کی وجہ سے دور دراز سے آئے غریب مریضوں کو دشواری کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔

قارئین !اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف بہت سی ایسی خوبیوں کے حامل انسان ہیں جو اس دنیامیں بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ہمیشہ کچھ کر نے کی دھن ،سر پر سوار کئے نہ صرف فلاح عامہ کی بہتری بلکہ کئی منصوبوں پر صبح اور شام کی پرواہ کئے بغیر دیوانوں کی طرح کام کرتے رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں چین کی وزارت خارجہ کے خصوصی نمائندے نے میاں صاحب کے تعریف کرتے ہوئے اس بات کا نکشاف بھی کیا کہ چین کے وزیر اعظم منصوبوں کو تیز رفتاری،اعلیٰ معیار اور مقررہ مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے میاں شہباز شریف کی غیر معمولی صلاحیتوں کے بہت معترف ہیں اور انہیں اس ضمن میں ”مین آف ایکشن“ کے نام سے پکارتے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جس طرح ترقیاتی منصوبوں میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ان کی خود نگرانی کرتے ہیں تعلیم اور بالخصوص صحت کے شعبوں کو بھی ایسی توجہ عنا یت کریں ۔ مجھے یقین ہے کہ جس دن خلو ص نیت کے ساتھ انہوں نے بطور”مین ٓف ایکشن “ اپنی توجہ اس طرف مبذول کر لی تو پنجاب کے سر کاری ہسپتالوں کا قبلہ در ست ہو جائے گا ، یہ بھی اتفاق ہسپتال اور شریف میڈیکل سٹی کی طرح بہترین کار کردگی دکھانا شروع ہو جائیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے پیر جنوری کے مزید کالم