خطے کو لاحق خطرات

پیر جنوری    |    محمد یونس قاسمی

گزشتہ دنوں عدالتی فیصلے کی روشنی میں سعودی حکومت نے سینتالیس افراد کو پھانسی دے دی، جن میں سے تین اہل تشیع تھے۔ان تین میں سے ایک نمر باقر النمِر معروف سعودی شیعہ عالم تھے، جنہیں تین سال قبل شہریوں کو قتل، ریاست کے خلاف بغاوت اور ملک دشمن سرگرمیوں اور مسلح گروہوں کو سپورٹ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی اور الزامات ثابت ہونے پر انہیں 15اکتوبر2014ء کو موت کی سزا سنائی گئی، جس پر عمل درآمدحال ہی میں ہوا۔
اس واقعے کے بعد ایران سعودی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور ایران نے جارحیت کا مظاہرہ شروع کردیا جو تمام مسلم ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور انہی مفادات کے تحت دیگر ممالک سے تعلقات ترتیب دیے جاتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ایران سعودی تعلقات پہلے بھی کچھ خوشگوار نہ تھے، اب سعودیہ ایران سے اپنے تعلقات ختم کرچکا ہے اور دیگر خلیجی ریاستیں بھی سعودیہ کے اس فیصلے کی تقلید کررہی ہیں۔

دیکھا جائے تو ایران کا یہ جارحانہ رویہ اچانک سامنے نہیں آیا، بلکہ یہ سب کرنے کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے مناسب موقع کی تلاش جاری تھی۔سعودیہ جب بھی کسی حادثے سے دوچار ہوا،ایران نے بجائے سعودیہ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ہمیشہ نمک پاشی کی ہے۔سانحہ منیٰ کا واقعہ ہو یا اس سے قبل کرین کا حادثہ،ایران نے پوری کوشش کرکے ان واقعات کو بین الاقوامی رنگ دیا، جو کسی طرح بھی مناسب نہیں تھا۔
مشرق وسطی میں ایران کے سیاسی وعسکری اثرونفوذ کو جہاں خطے کے دیگر ممالک نہایت تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہیں ایرانی عہدیداران اس پر شاداں و فرحاں ہیں۔
جس کا اظہار چند دن پہلے ایرانی صدر کے مشیر علی یونسی نے ان الفاظ میں کیا ہے:”ایران ایک عظیم الشان سلطنت بن چکا ہے اور اس کا دارالحکومت بغداد ہے۔بغداد ہی ماضی اور حال میں ہماری تہذیب اور ثقافتی تشخص کی علامت ہے۔(اس میں قبل ازاسلام کی اس قدیم ایرانی شہنشاہیت کی طرف اشارہ ہے، جس میں عراق ایران کے زیر نگیں تھااور مدائن اس کے پایہ تخت کا درجہ رکھتا تھا) پورا مشرق وسطی ایران کا حصہ ہے،ہم خطے کی تمام اقوام کا دفاع کریں گے، کیونکہ ہم انہیں ایران ہی کا حصہ سمجھتے ہیں۔
ہم اسلامی انتہا پسندی، تکفیری، الحاد، نئے عثمانیوں،وہابیوں اور مغربی صیہونیوں سے بیک وقت مقابلہ کریں گے۔“(بحوالہ ایرانی نیوز ایجنسی)یہ بیان ایران کی سوچ کو واضح کرتا ہے اور ایسے بیانات کو سامنے رکھ کر جائزہ لیا جائے تو ایران کا مشرق وسطی میں مکمل کردار سامنے آجاتا ہے۔کیا یہ درست نہیں ہے کہ ایران کے عسکری دستوں کی وجہ سے سعودیہ عرب سمیت تمام خلیجی ریاستوں کو شورشوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،پاکستان،سعودی عرب اور ترکی نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ ایران کو بغاوت بھڑکانے اور خلیجی وعرب امور میں مداخلت سے باز رکھا جائے مگر ایران نے کبھی کسی کی نہیں مانی اور اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے ہمیشہ سرگرم رہا ہے۔

جب سے ایران میں انقلاب کے نام پر ایک مخصوص مذہبی فکر کی حکومت قائم ہوئی ہے،عالم اسلام بالخصوص پاکستان اورسعودی عرب ایران کا ہدف ہیں اورایران نے ہمیشہ انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ خود کو انصار اللہ،حزب اللہ اور ید اللہ کہلانے والوں نے عالم اسلام کے خلاف بالخصوص سعودیہ عرب کے خلاف ہمیشہ مذموم حرکات کی ہیں۔پاکستان کو ایک طرف رکھیں اورصرف سعودی مخالف ایرانی اقدامات اور بیانات کا جائزہ لے لیں تو ہماری بات کی تصدیق ہوجائے گی۔
یہ ایران ہی تھا جب اس کے لوگوں نے 1980ء میں تہران میں سعودیہ اور کویت کے سفارت خانوں پر حملہ کرکے انہیں نذر آتش کردیا تھااور سعودی سفارت کار رضا النزہہ کو یرغمال بنالیا تھا۔1994ء میں سعودیہ کے مشرقی شہر الخبر میں ہونے والے دھماکے کا مرکزی ملزم احمد المغسل آج بھی ایران میں پایا جاتا ہے۔عرب بہار کے نام پر ایران نے جب بحرین میں حکومت کے خلاف مسلح بغاوت شروع کروادی تو وہاں کی حکومت کی درخواست پر جب سعودی دفاعی فورسز بحرین میں داخل ہوئیں تو تو ایرانی سپریم لیڈر نے لوگوں کو سعودیہ پر حملہ کرنے کے لیے مذہب کے نام پر اکسایا۔
ایران خطے میں اپنی بالادستی کے لیے جس تحرک کا اظہار کررہا ہے یہ پورے خطے کے لیے نہایت خطرناک ہے۔پاکستان سمیت تمام خلیجی ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد کی سب سے بڑی وجہ ایران کا یہ تحرک ہے۔
نئی صورت حال میں تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں،جس سے مشرق وسطی میں جاری بحران نے مزید شدت اختیار کرلی ہے اور پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اس صورت حال سے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے پورے عالم اسلام کی امیدوں کا مرکز ہے۔پاکستان نے ہمیشہ نازک اور مخدوش حالات میں عالم اسلام کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔اب بھی پورے عالم اسلام کی نظریں پاکستان کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ وہ ان حالات میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرے۔ سعودی وزیر خارجہ کا دورہ ،پاکستان کے قائدانہ کردار پرمکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ایران کے ساتھ کھل کر بات کی جائے اور اسے اچھا پڑوسی بن کر رہنے کے آداب سکھائے جائیں اور اسے اپنی سرحدوں میں ہی رہنے کی تہذیب سکھائی جائے۔

ایران کو یہ بات بھی باور کرانے کی ضرورت ہے کہ آئے دن بغیر کسی شفاف عدالتی کارروائی کے ایران میں مخالف مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو جو سرِ عام پھانسیاں دی جاتی ہیں ،ان پر سب کی خاموشی صرف اس لیے ہے کہ یہ ایران کا ذاتی اور اندرونی معاملہ ہے، ورنہ سبھی دل رکھتے ہیں۔اس موقع پر مرحوم جنرل حمید گل بہت یاد آرہے ہیں، جنہوں نے اپنے دور میں پاسداران انقلاب کے دہشت گردوں کو کوئٹہ سے گرفتار کیا اور بحفاظت سی ون تھرٹی میں بٹھا کر تہران چھوڑ کر آئے،صرف اس لیے کہ ایران کو بوقت ضرورت حدوں میں رکھا جاسکے۔آج ایران سعودی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کسی حمید گل جیسے معاملہ فہم شخص کی ضرورت ہے۔پاکستان کو ترکی کو ساتھ ملاکر اس تنازع کو حل کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ آگ خدانخواستہ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد یونس قاسمی کے پیر جنوری کے مزید کالم