اکنامک کاریڈور اور اپوزیشن کی سیاست

بدھ جنوری    |    شاہد سدھو

وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں گوادر سے وسطِ ایشیاء تک تجارتی راہداری کا تصور پیش کیا اور گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز کِیا۔ تاہم بعد میں آنے والی پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کی حکومتیں اِس سمت میں پیش رفت نہ کر سکیں۔ ۲۰۱۳ میں اقتدار میں آنے کے بعد میاں نواز شریف نے اِس وژن کو آگے بڑھانا شروع کِیا۔ ابھرتی ہوئی معاشی طاقت چین کو اپنا مال بیرونی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے گوادر کی بندرگاہ ایک سود مند ذریعہ نظر آتی رہی ہے۔
چین سے گوادر تک ایک مناسب شاہراہ کی تعمیر سے چینی مال نسبتاً کم وقت اور کم خرچ میں بیرونی منڈیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر پاکستان ایک ایسی شاہراہ تعمیر کر دیتا ہے تو اسے راہداری اور پورٹ کے استعمال کی مد میں آمدنی حاصل ہوگی ۔

(خبر جاری ہے)

بد قسمتی سے پاکستان کی حکومتیں اِس طرح کی شاہراہ بنانے کے بھی قابل نہ ہوسکیں۔ ایسے میں سڑک بنانے کی چینی پیش کش کا خیر مقدم ہی کیا جاسکتا تھا۔ یہ میاں نواز شریف کا وژن ہے کہ انہوں نے ایک سڑک سے بڑھ کر اِس منصوبے کو اکنامک کاریڈور میں تبدیل کر دِیا اور چین کو پاکستان میں مختلف منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کیا۔

اِن منصوبوں میں ایک بڑی تعداد بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کی ہے، تاکہ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کو ختم کِیا جاسکے اور مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو پورا کِیا جاسکے۔ واضح ہو کہ چین کا متمع نظر تو سڑک کی تعمیر تھا ناکہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری۔ چینی مال کو بندرگاہ تک رسائی دینے کے بدلے کیا اُس سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا جاسکتا تھا؟ قطعی نہیں۔پاکستان نے ایسی ہی راہداری کی سہولت افغانستا ن کو بھی کراچی سے کابل اور کابل سے کراچی تک مہیا کی ہوئی ہے تو کیا اس کے صلے میں افغانستان سے پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی شرائط بھی منوائی گئی تھیں۔
اگر مستقبل میں پاکستان ، بھارت کو افغانستان تک راہداری کی سہولت دیتا ہے تو کِیا بھارت کو پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے بھی مجبور کِیا جائے گا۔ اِن سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ یہ تو پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی اور موجودہ حکومت کی ترقی پسندانہ پالیسیاں ہیں کہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ ہُوا۔ اِس طرح کی سرمایہ کاری کے لئے چینی کمپنیاں بھی تجارتی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کے مقام کا فیصلہ کریں گی، جیسے آج بھی بیشمار چینی کمپنیاں، کراچی، جامشورو، سانگھڑ ۱ور گھارو سمیت سندھ اور پاکستان کے مختلف حِصوں میں توانائی کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں اور نجی شعبے میں بھی تعاون کر رہی ہیں۔
ہائر الیکٹرونکس مصنوعات نجی شعبے کی ایسی ہی ایک بڑی مثال ہے۔ پاکستان کی حکومت سرمایہ کاروں کو مطلوبہ ماحول فراہم کرنے کی پابند ہے تاکہ سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم ہو۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں چینی سرمایہ کاری سے اکنامک زونز قائم کئے جائیں تاکہ مقامی طور پر بھی انڈسٹری لگ سکے۔ وہ سیاست دان جو چین کی ایسی کسی بھی سرمایہ کاری کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے بلکہ حکومت کا مذاق اُڑانے میں لگے ہوئے تھے ، ان منصوبوں کو حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ کر انکی بے چینی دیدنی ہے۔
اِن سیاست دانوں کی کوشش ہے کہ کِسی بھی طرح اِس سارے منصوبے کو فوری طور پر روک دِیا جائے۔ منصوبے کو سمجھے بغیر یہ سیاستدان کچھ ایسا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے چین نے پلیٹ میں رکھ کر اربوں ڈالر مسلم لیگ ن کی حکومت کو دے دیئے ہیں اور حکومت یہ سارا پیسا پنجاب میں لگانے جارہی ہے۔ یہ ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے چینی حکومت پاکستان میں فیکٹریاں لگا کر دے گی، چین کے سرکاری افسران فیکٹریاں چلائیں گے اور پنجابی ان فیکٹریوں میں عیاشی کریں گے۔

چلیں جی لگوا دیں چینی سرمایہ کاروں کی ساری فیکٹریاں خیبر پختونخواہ میں اور بلوچستان کے ایسے علاقوں میں جہاں آبادی انتہائی کم ہے ۔ ان علاقوں میں ہزاروں، لاکھوں صنعتی کارکن کہاں سے آئیں گے ؟ جب پنجاب اور کراچی سے مہارت یافتہ صنعتی کارکن بلوچستان جائیں گے تو بلوچ بھائی ، ”اقلیت “ بننے کے اندیشے سے دوچار ہوجائیں گے ۔ بلوچ قوم پرست تو یہ مطالبہ شروع کر چکے ہیں کہ گوادر اور ملحقہ علاقوں میں پاکستان کے دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جائے اور انکو مستقل رہائش اور ووٹ کا حق نہ دِیا جائے۔
اگر انکا یہ مطالبہ تسلیم کیا گیا تو کھلنے والا پنڈورہ بکس کافی بڑا ہوگا۔
اپنے اپنے صوبوں میں اپنے دور حکومت میں لوٹ مار مچانے والے اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے والے سیاستدان بغضِ پنجاب میں پاکستان کی ترقی کے اِس منصوبے کے بھی درپے ہیں۔ اِن کی کوشش ہے کہ ساٹھ فیصد آبادی اور تقریباً ستر فیصدمہارت یافتہ افرادی قوت مہیا کرنے والے صوبہ پنجاب کو اس منصوبے سے مکمل طور پر نکال دیا جائے یا اس کے گنجان آبادی والے علاقوں کو اس منصوبے سے دور رکھا جائے۔ پاک چائنا اکنامک کاریڈور ، پورے پاکستان کی ترقی کا راستہ ہے اِس سے پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ انشا ء اللہ تعالیٰ پاکستان کے عوام ان تعصب زدہ لوگوں کو اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے جو لسانیت اور علاقائیت کی عینک لگا کر اِس منصوبے کو بھی کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے بدھ جنوری کے مزید کالم