میڈیاکے احتساب تک

جمعہ جنوری    |    عامر خان

آج بہت دن کے بعد ایف ایم ریڈیو سنے کو د ل کیا انڈیا کا کوئی نیا گاناچل رہا تھا ساتھ میں میزبان اپنی بڑی شوق چلچل آواز میں گانے کے ساتھ ساتھ آنے والی کالز مسیج کا ذکر بھی کر رہا تھا اتنے میں پتا نہیں اُس کو کیا سوجھی حکومت سے ایک اپیل بھی کر دی جس کو سن کر میں حیران و پریشان ہوگیا اس کے الفاظ کچھ اس طرح سے تھے ؛ میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ شام میں ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی آواز اُٹھائے ،شام کی عوام پتے اور گھاس اُبال ابال کر کھا رہی ہے؛ پاکستانی حکومت ان کی مدد کرے لوگ سوچ رہے ہوں گے یہ تو بہت اچھی اپیل ہے ۔
حیران و پریشان ہونے کی بات یہ تھی کے اپیل کے دوران انڈیا کے گانے کو بند نہیں کیا گیا جیسے ہی سا نس لینے کے لیے میزبان رکتا گانے کی آواز بلند کر دی جاتی اور گانے کی دھن پر میزبان حکوت پاکستان سے شام کے لیے اپیل کر رہا تھا ۔

(خبر جاری ہے)

یہ تو جھنگ کے ایک لوکل ایف ایم ریڈیوکا حال تھا اب زرا پا کستان کے بڑے بڑے ٹی وی چینل کی بات کر لیتے ہیں انعام گھر کے نام پر بنائے ہو ئے پروگرام میں سلیکشن کے لیے بچوں سے معلومات عامہ اور جنرل نالج کے سوال پوچھے جاتے ہیں پروگرام کے مطابق ایک بچہ پیپر پر جواب لکھ کر دے دیتا جیسے بعد میں میزبان شک کے زمرے میں لے آتا اور کہتا تم نے ہرسوال کا جواب کیسے ٹھیک دے لیا ہے میزبان ہر سوال کا تفصیل سے جواب مانگتا کم عمر بچہ پریشان ہوجاتا تفصیل سے جواب نہیں دے پاتا میزبان اتنے میں بچے کو اپنی عملی قابلیت سے مرعوب کرنے کی کوشش کرتا ساتھ ساتھ بچے کو جھوٹا مکار نقل خور بھی کہتا ہے اور بار بار کہتا تم میرے ساتھ فراڈ نہیں کر سکتے ۔

میزبان سکرین کے سامنے ساری دنیا کو بتاتا کہ میں کتنا قابل انسان ہوں کہ ایک چھوٹے سے بچے کو رسوا کر کے بہٹ بڑی جنگ جیت لی ہے ۔مان بھی لیا جائے بچہ نے نقل کی ہے یا کیسی سے پوچھ کر جواب لکھے ہیں اس سمجھدا ر میزبان نے ایسا کیوں کیا آ پ لوگوں اس کی تلخ حقیقت بتا بھی دیتا ہوں یہ سب پری پلان ڈرامہ ہو گا صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ پروگرام صاف شفاف ہے اس کا میزبان بہت قابل اور کھرا انسان ہے ۔ اور اگریہ ڈرامہ نہیں تو کیا ٹی وی میزبان کو یہ زیب دیتا تھا کہ ساری دنیا کے سامنے اُسے زلیل کرتا اُس کے والدین بھی ہوں گے دوست رشتے دار بھی ہوں سکول بھی جاتا ہو گا کیا ملا سکرین کے سامنے ایسے بے عزت کرکے کیمرے بند کر کے اسے سمجھایا بھی تو جا سکتا تھا اور میزبان جو بہت بڑا اسلامی سکالر بھی ہے وہ اپنے نالج اور بچے کے نالج کا مقابلہ کیوں کر ارہا تھا ،وہ نہیں جانتا کہ معلومات عامہ اور جنرل نالج کی کتابوں میں صرف مختصر جواب ہوتے ہیں۔
آپ آج سے کچھ سال پیچھے چلے جائیں ایک مشہورٹی وی چینل پر مارننگ شو آیا کرتا تھا جس کی میزبانی مایا خان کیا کرتی تھی اپنے مارننگ شو کو نمبر ون بنانے کے لیے مایا خان ہر طرح کا حربہ آزمایا ایک وقت ایسا بھی جب وہ وکیل پولیس جج کے کام بھی خود کرنے لگ گی وہ اچانک لوگوں کے گھروں پر چھاپے بھی مارتی تھیں (یہ الگ بات وہ چھاپے اصل نہیں تھے )لوگوں گھروں کے مسائل ٹی وی سکرین پر حل کیے جاتے بحث لڑائی کیمرے کے سامنے ہوتی تھی بیٹاباپ سے بیوی شوہر سے بیٹی ساس سے سکرین پر لڑتے ان کے فیصلے بھی ٹی وی پر ہوتے ۔
یہ سب بہت مقبول بھی ہو گیا نادان قوم یہ نہیں جانتی تھی کہ اچانک چھاپہ جو مارا جاتا اُس سے پہلے چھاپے والے پورے گھر کو مائیک کیسے لگ جاتے وہ آڈیو مائیک سامنے صاف نظر آتے تھے پر اس سارے پروگرام کو حقیقت کا ایسا رنگ دیا جاتا کہ دیکھنے والے اس ڈرامے کو سمجھ نہ پاتے ۔ پھر ایسا ہواکہ ایک پروگرام مایا خان کا زوال بن کر آیا جس میں مایا خان نے ایک پارک میں اچانک چھاپہ مارا جہاں سے کالج، سکولوں کے ا سٹوڈنٹ بچوں کو پکڑ کر پوچھا جاتا کہ وہ کالج یا سکول ٹائم میں کیا کر رہے ہیں اس پروگرام کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے سٹوڈنٹ بچوں سے کیمروں کے سامنے معافی مانگا کر چھوڑ دیا گیا یہ پروگرام ٹی وی پر نشر ہونے کی دیر تھی کی شوشل میڈیا پر ہر نوجوان مایا خان کے دشمن بن گیا اور شوشل میڈیا پر مایا خان کو بہت بُرا بھلا کہا گیا گالیوں سے لیکر مایا خان کی ذاتی زندگی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر عام ہو گی اس کا اتنا زیادہ شدید ردعمل دیکھ کر چینل کو یہ پروگرام بند کرنا پڑا مایا خان خود چینل چھوڑ گی یا اُن کو نکال دیا گیا ۔
اب مایا خان کو اپنی صفائی کے لیے ایک اور چینل کا سہارہ لینا پڑا جس میں آکر وہ پہلے تو روتی رہی بعد میں خو د ہی انکشا ف کر دیا کہ اُن کا ہر پروگرام فکس ہوتا پہلے سے پری پلان ہوتا ہے اپنی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے وہ گواہ بھی ساتھ لائی اور بتایا کہ پارک سے پکڑے جانے والوں میں سے کوئی سٹوڈنٹ نہیں تھا بلکہ یہ سب آرٹسٹ اور نئے فنکار تھے اُن سب نے میڈیا کے سامنے اعتراف بھی کیا ۔مایا خان اس کے بعد سے کسی پروگرام کی میزبانی نہ کرسکی پر جاتے جاتے لوگوں کو ایک حقیقت سے روشناس کروا دیا۔
آج کل ایک اور ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر عام ہے جس میں ایک مارننگ شو کی میزبان اپنے پروگرام کے عملے کی کلاس لے رہی ہیں انتہائی نازیبا گفتگو کے ساتھ گالیاں بھی دے رہی ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیں پیار محبت حوصلے کا درس دیتے ہیں ان کا اصل روپ اُس وقت سامنے آتاجب یہ ایک چینل چھوڑ کر پیسوں کے لالچ میں دوسرے چینل پر جاتے ہیں تب ان کا پُرانا ا چینل ہی ان کا پردہ فاش کرتا ہے ۔
انعام گھر والے میزبان اس پہلے اس چینل کو چھوڑگے تھے ان کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر عام ہو گی جس میں بہت کچھ غیر اخلاقی تھا اور اسی میزبان نے ایک اور چینل پرپروگرام کرتے ہوئے سارا الزام سابقہ چینل پر لگایا تھا اور اب ایسی کایا پلٹی یا پیسوں کی چمک میں دوبارہ پہلے والے چینل پر واپس آگے ہیں سب الزام ہوا ہو گے اور اب موصوف کے پاس چینل کا بہت بڑا عہدہ بھی ہے ۔
اس سے پہلے بھی ایک
نیوزچینل کے دو اینکرپر سن کا ایک خاص شخصت کے ساتھ پہلے سے فکس انٹرویو کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر آگی جس میں اینکر اسے پہلے سے طے شدہ ہونے کا انکشاف بھی کرتا۔ وہ دن پاکستانی میڈیا کا سیاہ ترین دن تھا ۔ وہ اینکر اب بھی پروگرام کر رہے ہیں کو ئی شرمندگی نہیں ۔اب بھی اینکرسچے کھرے نام کے پروگرام کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں ۔ مارننگ شو ہر ٹی وی چینل کے لیے لازمی ہو گیا اس دوڑمیں نیوز چینل بھی پیچھے نہ رہے کبھی کسی شادی کروئی جا رہی ہے کبھی کھانے پکانے کا بتایا جا رہا ہے کسی سٹا ر کو بیٹھا کراس کی ذاتی زندگی ڈسکس کی جارہی ہے ۔
مارننگ شو نت نئے حربے تلاش جس سے پروگرام مشہور ہو سکے ۔
پر مجھے افسوس اُس وقت ہوتا جب نیوز چینل کے پاس مارننگ شو کے لیے تو وقت ہی وقت ہے مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے مقامی صحافی اپنے حقوقْ کے لیے سڑکوں نکلے یہ صحافی جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں سے لاہور آئے کئی دن احتجاج کرتے رہے کسی ٹی وی چینل نے ان کو کوریج نہ دی بات تک نہ سنی گی کسی نیوز چینل کے پاس وقت نہیں تھا دوسری طرف دوسری طرف یہ علاقائی صحافی نیوز چینل یا اخبار کے ہر مشکل لوقت میں اُن کا ساتھ دیتے ہیں۔

ایک کالم نگار تھکے ہوئے کالم کے عنوان سے کالم لکھتا ہے جس میں کالم نگار صرف اپنی کہانی سناتا کہ آج اس نے ساگ کھایا سویارہا گیس بجلی نہیں تھی اس لیے اچھا کالم نہیں لکھ سکا اس لیے آپ وہ پڑھ لیں جو اس نے سارا دن کیا۔ اور اس کا کالم پاکستان کے سب بڑے اخبار میں شائع ہو جاتا ہے یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے ۔ صحافی سے لیکر اخبار ٹی وی معاشرے کی کان آنکھ اورزبان ہوا کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم اور طرف چل نکلے ہیں سب کا احتساب کرنے والے میڈیا کا بھی اب احتساب ہو نا چاہیے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عامر خان کے جمعرات جنوری کے مزید کالم