تعلیم اور صحت کی ذمہ داریوں سے سبکدوشی

جمعہ جنوری    |    قمر الزماں خان

نظریہ ضرورت کے تحت قومی اداروں کی نج کاری کے خلاف ان دنوں ’سخت موقف ‘ اختیار کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے گزشتہ سالوں میں سندھ میں850بنیادی صحت مراکز کو نجی شعبے کے حوالے کردیا تھا،ان دنوں219 تحصیل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز اسپتال (بااثر افراد اور حکومتی اثرورسوخ والے مالکان کی این جی اوز کے ذریعے)نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ،اسی طرح ماضی میں قومی اداروں کی نج کاری پر احتجاجی جلسوں کی قیادت کرنے والی مسلم لیگ (نوازشریف) قومی اداروں کی نج کاری کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے ۔
پنجاب میں 53000 ہزار سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ،جس میں پہلے مرحلے پر پانچ ہزار پانچ سو سکولوں کو ” پنجاب ایجوکیشن فونڈیشن “کے ذریعے نجی شعبے کے حوالے کئے جانے کا پروگرام بنا لیا گیا ہے۔

(خبر جاری ہے)

پنجاب ایجوکیشن فونڈیشن جو تعلیم کے فروغ کی بجائے ، نجی شعبے کو نوازنے،تعلیم کوپبلک سیکٹر سے نکال کر پرائیوٹ سیکٹر کے حوالے کرنے اور حکومت کو تعلیم کی ذمہ داریوں سے’سبکدوش ‘کرانے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے،نئے مالکان کو فی کس طالب علم پانچ سو پچاس روپے کی ادائیگی کرے گی جو کہ پہلے سے موجود نجی شعبے کے بیشتر سکولوں کی فیس کے برابر ہے۔

اس طرح نجی شعبے کے سیٹھ ،جن کو سرکاری عمارات مفت ملیں گے اور ممکن ہے کہ بجلی کا بل بھی ادا نہ کرنا پڑے ،کی چاندی ہوجائے گی۔یوں تعلیم کی ذمہ داری سے نجات کے باوجود حکومت ‘عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کردہ اربوں روپے اپنے ’کرم فرماؤں ‘ کو ادا کرے گی ۔کروڑوں طلباء اور انکا مستقبل ان نام نہاد ”ماہرین تعلیم“ کہلوانے والے سیٹھوں کے رحم وکرم پر ہوگا۔سرکاری اساتذہ پہلے ہی حکومت کو کھٹک رہے ہیں ،تعلیمی اداروں کی نج کاری کے بعد اساتذہ کو مختلف تادیبی اور اہدافی فارمولوں کے ذریعے نوکریوں سے فارغ کیا جائے گا اور ان کی جگہ پر بے روزگاری کے سمند ر میں غوطے کھاتے نوجوانوں کو’کم اجرت ،بغیر کسی مراعت ،تحفظ ،پنشن ،میڈیکل اورہاؤس الاؤنس والے کنٹریکٹ پررکھا جائے گا۔
یوں ایک ہی فیصلے سے تعلیم اور روزگارکی فراہمی جیسے دواہم شعبوں سے دستبرداری حاصل کرلی جائے گی۔مگر درحقیقت ایسا کرنے کی اصل وجہ ریاست کو تمام تر بنیادی ذمہ داریوں سے مبر ا کرتے ہوئے سرمایہ دار’ تعلیم فروشوں‘کے راستے سے ’سرکاری تعلیم‘ جیسے دیوھیکل کانٹے کو نکالنا ہے ۔پاکستان میں ناخواندگی کی شرح باون فی صد بتائی جاتی ہے۔نظام تعلیم کیسا ہے ؟‘ کی گنجلک اور نظریاتی بحث ایک علحیدہ مضمون ہے ،جس میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ’ تعلیم‘قراردیے جانے والے ’مفروضے‘ کے ذریعے کس قسم کے نظریات،سوچوں،جہالت،تاریکیوں اور دقیانوسیت کو پھیلایا جارہا ہے۔
موجود طلباء میں سے 19فی صد طلباء کو پہلے ہی حکومت نے دانستا،آنکھیں بند کرکے ’مدرسوں‘ کے سپردکیا ہوا ہے۔ ان مدرسوں سے جنم لینے والے عفریت کو ریاست اپنے مقاصد اور پراکسی جنگوں کے لئے شروع دن سے استعمال کرتی چلی آئی ہے ،اس لئے ان مدرسوں کے نصاب پر اٹھنے والی ہر انگلی محض ہوا میں ہی لہرا کر رہ گئی ہے،اب مدرسوں سے نکلنے والے’ عفریت‘ مسلح جنگ ودھشت گردی کی عملی تربیت کے ساتھ اپنی کوکھ سے ٹکرارہے ہیں۔
نظام تعلیم کا پورا شعبہ ہی ایک مخصوص اور ضرر رساں سوچ کے سپرد ہے،جس کا بنیادی مقصد’ تصویر‘ کا مخصوص رخ دکھانا،سمجھانا اور بتانا ہے،ہر سوال کا ایک ہی جواب ہے جس کو ریاست پر حاوی مخصوص نظریات اور سوچ کے مطابق گھڑا جاتا ہے اور پڑھایا جاتا ہے۔ہر سوال کے دیگر متعدد جواب، رخ،رنگ اور نقاط کو یکسر جھٹک کر مسترد کردیا جاتا ہے۔یوں پاکستان میں رائج نصاب تعلیم‘طے شدہ تصور،جواب اور نقطہ نظرسے ہٹ کر ہر لحظہ ہونے والی حرکت اور اسکے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیوں،تغیرات، ارتقاء اور انقلابات کو کسی طورماننے سے انکاری ہے۔
مگر جہاں دقیانوسی نصاب تعلیم کے ساتھ ساتھ مغربی اورنام نہادجدید تعلیم دی جارہی ہے ،وہاں بھی اس تعلیم کا انت ہر جدت کو قدامت کے ماتحت کرنے ،تبدیلیوں کو جمود کے ’نتیجے‘ پر منتنج کرنے، ارتقاء اورتبدیلیوں کو عاملین کے تضادات ،تصادم اور موجود کی ہر دم نفی اور نئے کی پیدائش کے بعد پھر اسکی نفی کے جدلیاتی قانون کی بجائے ،بے حس وحرکت ارتقاء ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نظام تعلیم اتنا بانجھ ،بے رنگ اور تخلیقی اوصاف سے عاری ہوچکا ہے کہ پچھلی کئی دھائیوں سے اس نظام تعلیم نے ایک بھی قابل ذکر سکالر،ماہر تعلیم ،تاریخ نویس ،مورخ،سائنس دان،تجزیہ نگار،ناول نگار،افسانہ نگار،شاعراور ادیب پیدا نہیں کیا ہے۔
کتنا عجب واقعہ ہے کہ کسی بھی شعبے میں کوئی بھی متاثر کن فرد نہیں ہے۔ اس شکستہ نظام تعلیم کی ترسیل اور فروغ کے ضمن میں سرکاری اور پرائیوئٹ تعلیمی اداروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ مرصع عمارات اور رنگ برنگے جھنڈوں کو آویزاں کرکے تعلیم بیچنے والی دوکانیں مارکیٹنگ کا بے ڈھنگا اسلوب اپناکر عام لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں مصروف ہیں۔ نمبروں کی دوڑ میں نجی ادارے ،سرکاری اداروں سے بہت ہی کم فرق سے آگے ہیں اور اس میں ان اداروں کی قابلیت سے زیادہ انکی’ ہنرمندی‘ کا عمل دخل زیادہ ہے۔
جس ملک میں ا نصاف بکتا ہو،عدل کی قیمت ہو،جمہوریت کے دام لگتے ہوں ‘وہاں ”نمبروں اور گریڈ“کا نظام کیسے سیدھا سادا اور میرٹ پر ہوسکتا ہے؟جو تعلیمی ادارے اپنے صارفین (طلباء) سے کروڑوں ،اربوں روپے کماتے ہیں وہ ”کلرک بابووں “سے لیکرپورے بورڈ اور یونیورسٹی انتظامیہ کو ”تصرف “میں لانے کی’ قوت خرید‘ رکھتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں نچلے درجوں میں تعلیم تقریباََ مفت ہے اور پھر کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نجی شعبے سے بہت ہی کم قیمت میں حاصل کی جاسکتی ہے،جبکہ نجی شعبے اور ”خودمختار“ بنا دئے گئے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا حصول غربت کی لکیر سے اوپر ایک قابل ذکر سطح کے معاشی صف بندی والے خاندانوں کے لئے بھی مشکل ہے اور 64فی صد غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے خاندانوں کے بچوں کے لئے تو ناممکن ہے۔
وہ کروڑوں بچے‘ جو تعلیم کے حصول سے یکسر محروم رہتے چلے آرہے ہیں ان میں اب اور کروڑوں بچوں کا اضافہ ہوجائے گا جب تمام سرکاری ادارے نجی شعبے کی تحویل میں دے دئے جائیں گے۔اس طرح حکومت کا 16دسمبرکا نغمہ ”ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے !“ عملی شکل اختیار کرجائے گا کیوں کہ اپنے بچوں کے پاس پڑھنے کے لئے نہ فیس ہوگی اور نہ ہی نجی تعلیمی اداروں کی حرص زر کی تکمیل کی سکت ہوگی۔ماضی کی ترقی پسند اور روشن خیال پاکستان پیپلز پارٹی اپنے’ تھیچرائیٹ‘ پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے اسپتالوں کو سیٹھوں کی این جی اوز کے سپرد کرکے اب پورے سندھ کو ’تھرپارکر“ بنانے کی طرف پوری جانفشانی سے گامزن ہے۔
پرائمری پیپلز ہیلتھ کیئر انٹنسو(PPHI)کو 850بنیادی مراکز صحت دینے کے بعد اب ’انٹیروگیٹ ہیلتھ سروس(IHS)(جس کی مالکہ ایک بیوروکریٹ کی بیوی ناہید شاہ نامی خاتون ہیں)، ہینڈز،امان انڈس، اور مرلین نامی این جی اوز کو 219بڑے اسپتال دان کئے جارہے ہیں ۔سرکاری اسپتالوں کو’ بری کارکردگی(جس کی سب سے بڑی وجہ بجٹ میں صحت کے شعبے کو سب سے نچلے درجے پر رکھا جانا ہے)‘ کو بنیاد بنا کر’خود مختار‘ انتظامیہ (جو این جی اوز یا اونرشپ کی بنیاد پرہوسکتی ہے )کی تحویل میں دیا جارہا ہے۔
اس سے ایک روپے پرچی کے ذریعے غریبوں کے علاج معالجے کاراستہ بند ہوجائے گا۔ اگر چہ سرکاری اسپتالوں کی بری کارکردگی ،بدعنوانی ،ڈاکٹرزکی نجی پریکٹس کی وجہ سے غیر فعالیت اور بدتمیزیاں،لوٹ مار اور نجی پریکٹس میں نان ڈاکٹرسٹاف کا حصہ اور عوام دشمن رویے خود سوالیہ نشان ہیں،مگران جملہ خرابیوں کی پیدائش کی ذمہ داری حکومتوں اورریاست کی صحت کے شعبے سے لاتعلقی اور اسکو نجی تحویل میں دینے کے نظریے سے الگ نہیں ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ ریاست کے تین ستون کہلانے والے اداروں کی ”کارکردگی“ پچھلے اڑسٹھ سالوں سے بری اور خستہ حالی کا شکار ہے،پھر چھوٹے موٹے اداروں کی کارکردگی پر تلملاہٹ کے مقاصد کچھ اور ہیں۔نج کاری تو خود ایک سنگین مسئلہ ہے،یہ بری کارکردگی والے اداروں کا کسی طور حل نہیں ہے۔ صرف علاج معالجے،کلینکل لیبارٹریزاورادویات سازی کو نجی شعبے میں ممنوع کردئے جانے سے ہی ڈاکٹرز اور دیگر عملے کے رویے اور کارکردگی میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔
مگر صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس کے بجٹ کوکل بجٹ کا کم ازکم بیس فی صدکئے بغیر علاج معالجے کے لئے درکار وہ مطلوب اسپتال،ڈاکٹرز،نرسز،مشینری اور دیگر انفراسٹرکچرز ہی نہیں تعمیر کیا جاسکتا ،جس سے بیس کروڑ انسانوں اور غربت زدہ سماج کو صحت فراہم کرنے کی طرف ایک اہم قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔لیکن اگر موجود سرکاری اسپتالوں اور انفراسٹرکچرز کو ”خود مختار“ چوروں اور ڈاکووں کے سپرد کردیاگیا تو پھر نہ صرف غریب مریض اور زیادہ خوار ہوں گے بلکہ بتدریج ایک روپے سے مجوزہ بیس روپے کی جانے والی پرچی دو سو اور پانچ سو میں بدلتی جائے گی۔
بڑے پروفیسرز اور خود ساختہ سینئیر قراردئیے جانے والے ڈاکٹرزکا تو کچھ نہیں بگڑے گا مگر نئے اور نوآموز ڈاکٹرز کو موجودہ تنخواہوں اور سروس سٹرکچرز کی بجائے ٹھیکے داری نظام کے تحت ”فکس“ دیہاڑی پر رکھا جائے گا اور چون چرا کرنے پر فیکٹریوں کی طرح گیٹ کی بندش کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ ایک بھیانک حقیقت ہے جس کی طرف تعلیم اور صحت کے سرکاری شعبے بڑھ رہے ہیں اور اس کا سب سے بڑا نشانہ غریب عوام بنیں گے۔
اس ساری صورتحال کی سب سے عمدہ تشریح ’قائد اعظم یونیورسٹی‘ کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اشرف نے فیسوں کے اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء سے مذاکرات کرتے ہوئے کی ہے، جاوید اشرف نے کہا ہے کہ ”غریبوں کے بچے اگر فیسیں ادا نہیں کرسکتے تو انہیں یونیورسٹی میں پڑھنے کا کوئی حق نہیں ہے“۔ اس غلیظ سوچ کا اظہار کرنے والے وائس چانسلرنے دراصل اپنے جملے میں سرمایہ داری نظام کی اصلیت ،تعلیمی نظام کے مقاصد اور طبقاتی تفریق کے ثمرات کی وضاحت کی ہے،اس جملے سے مستقبل کے وسیع نجی تعلیمی نظام کا جائیزہ لینا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔
جس کے پاس پیسے ہیں وہ پڑھے اور جو غریب ہے وہ اس جیسے تیسے نظام تعلیم سے بھی باہر ہی رہے۔ موجودہ نظام زراور سامراجیت کی زوال پذیری کا تقاضا یہی ہے کہ تعلیم اور صحت کو ریاست کی ذمہ داری سے نکال کر بیوپاربنادیا جائے اور ریاست جو ٹیکس عام شہریوں کئی تہوں میں وصول کرتی ہے اسکو سامراجی بنکوں کے قرضوں کے سود،جبر کے نظام کو قائم رکھنے والی عسکری اور سول مشینری اور اس نظام کے مقامی دلالوں میں تقسیم کردیا جائے۔
مگر دوسری طرف سیالکوٹ میں ”مرے کالج “ کی نجکاری اور ”قائد اعظم یونیورسٹی“میں فیسوں کے اضافے کے خلاف تحریک ،پنجاب میں ابتدائی طور پر پانچ ہزار پانچ سو سکولوں کو نجی شعبے کی تحویل میں دئے جانے اور سندھ میں سرکاری اسپتالوں کی نجکاری کے خلاف تحریک کے آغاز سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ حکمرانوں کے لئے یہ تمام عوام دشمن اقدامات کرنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا وہ سمجھ رہے ہیں۔ اساتذہ ،طلبا ،ڈاکٹر اور نان ڈاکٹر سٹاف کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، جو اگلے مرحلے میں واپڈا،پی آئی اے سمیت ساٹھ کے قریب نجکاری کے لئے نامزد کردہ اداروں کے مزدوروں کے ساتھ وسیع اور فیصلہ کن اتحاد میں بدل سکتا ہے۔
اس اتحاد سے ایک ایسی جدوجہد کا آغاز کیا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف موجودہ نجکاری کے اقدامات کو شکست دی جاسکتی ہے بلکہ جدوجہد کی حدت اور ناقابل مصالحت لڑائی سے نج کاری کا ہمیشہ کے لئے راستہ بند کیا جاسکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

تعلیم

قمر الزماں خان کے جمعرات جنوری کے مزید کالم



متعلقہ کالم