عشق رسول کو کسی ترازو میں نہ تولاجائے

اتوار جنوری    |    محمد ثقلین رضا

آپ سیرت النبی کے حوالے سے کسی بھی محفل‘ مجلس ‘سیمینار میں جاتے ہی اس لئے ہیں کہ آپ کے اندر عشق رسول کا جذبہ موجزن ہے‘یوں بھی یہ ہراس شخص میں ہوتا ہے جس نے صدق دل سے لاالہ پڑھ لیا‘ یہ الگ بات کہ بعض حوالوں سے کچھ لوگ اس کا اظہار نہیں کرپاتے اور کچھ اظہار کرجاتے ہیں۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ جس نے صدق دل سے کلمہ پڑھ لیا‘ نبی کریم کی ذات پر صدق دل سے ایمان لے آیا اس کے دل میں ضرور حب نبی موجود ہوتی ہے۔
بہرحال آپ اسی جذبہ کے تحت ہی نبی کریم کا ذکر مبارک کبھی ثناخوانوں کی زبانی اورکبھی علمائے کرام کے توسط سے سننے اور اپنے دلوں کو عشق رسول کی شمع سے روشن ‘منورکرنے پہنچ جاتے ہیں۔ اب یہ بھی کہنا درست نہیں کہ ہربڑی محفل میں ہی یہ جذبہ زیادہ پایاجاتا ہے یا چھوٹی محفل میں کم ‘ یہ توجذبے اورنیت پر مبنی ہے کہ وہ چھوٹی سی محفل کو بھی عشق کے رنگ کر بلندیوں تک پہنچادیتے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

خیر انہی محافل کے دوران بعض ثناخوان اور مقرر ”واہ واہ“ کی داد سمیٹنے کیلئے کچھ رنگ اپنے تئیں شامل کردیتے ہیں ‘یعنی جس کے دل میں حب رسول ہے یا جس نے مدینہ دیکھنا ہے وہ ہاتھ اٹھاکر ”سبحان اللہ “ کہے۔

اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اس متبرک محفل میں جاتے ہی وہی ہیں جن کی طلبی ہوتی ہے محفل میں بیٹھنے والا اس عقیدہ پر موجودہوتاہے کہ وہ ذکر رسول سن کر اپنے دل کو منور کرنے آیاہے۔ پھر اگر کوئی اس کو کوئی کہے کہ وہ اپنے جذبے کا امتحان اس اعتبار سے دے کہ اپنا ہاتھ کھڑا کرکے دونوں ہاتھوں کو بلندکرکے اونچی آواز میں سبحان اللہ کہے تو پھر وہ سچا عاشق رسول ہے ورنہ․․․․․․․․․ہم نے خود ایسی ہی محافل میں ذکر رسول کریم پر آنسوبہاتے کئی لوگوں کودیکھا ہے جو بیچارے اس اعتبار سے شرمندہ ہوتے ہیں کہ انہوں نے ثناخوان کے کہنے کے مطابق پوری طرح سے ہاتھ بلند نہیں کئے تھے۔
یا پھر ان کا دایاں ہاتھ تو بلند تھا مگر بایاں نہیں۔ یعنی اس بیچارے کی آہ وزاری اور حب رسول میں آنکھ سے بہتے آنسو بھی بیکار گئے؟
پچھلے دنوں ایسا ہی واقعہ حجرہ شاہ مقیم میں بھی پیش آیا کہ پندرہ سالہ انور نامی نوجوان نواحی علاقہ کی مدینہ مسجدمیں ہونیوالی محفل نعت میں شامل تھا ۔ اس دوران خطیب قاری بشیر احمدنے شرکا سے سوال کیا کہ جو نبی کریم کو نہیں مانتا وہ ہاتھ کھڑا کرے‘ نوجوان انورجلدبازی میں یہی سمجھا کہ خطیب یہی کہہ رہے ہیں جو نبی کریم کو مانتا ہے وہ ہاتھ کھڑا کرے اسی غلط فہمی میں اس نے ہاتھ کھڑاکردیا جس پر مولوی نے اسے گستاخ کہا ‘نوجوان کو اس بات پر غصہ آیا اوراس نے گھر جاکر ٹوکے سے اپنا وہ ہاتھ کاٹ دیا اورپھر پلیٹ میں ڈال کر خطیب قاری بشیر کو پیش کردیا۔
انور علی ہاتھ کٹتے ہی بیہوش ہوگیا ‘بچے کے مطابق مولوی صاحب کا سوال کرنے کا انداز ہی ایسا تھا کہ جیسا کہ وہ پوچھنے والے ہوں کون کون نبی کریم سے محبت کرتا ہے‘لیکن اچانک سوال کارخ بدلنے پر اس کاہاتھ غلطی سے اٹھ گیا۔ انور علی کے مطابق نبی آخر الزماں کی شان میں کسی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘ اس لئے وہ ہاتھ ہی جسم سے الگ کردیا جس نے غلطی کی تھی۔
یقینا یہ اس نوجوان کی عشق رسول میں سرخروئی کا واقعہ ہے کہ لوگ تو عشق نبی میں اپنی جان کا نذرا نہ تک دے دیتے ہیں لیکن سوال پھر وہی آن موجود ہے کہ کیا کسی کے عشق کو یوں آزمانا درست ہے؟ یعنی کوئی آپ کوکوئی کہے کہ اگر تم سچے عاشق رسول ہوتو اس اندھے کنویں میں چھلانگ لگادو‘ آپ یقینا اس جذبہ عشق کی بدولت چھلانگ تو لگادو گے لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس سوال کرنے والے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ آپ سے جذبہ عشق رسول کاثبوت مانگے۔

جیسا کہ ابتداً عرض کرچکے ہیں کہ وہ شخص مسلمان ہوہی نہیں سکتا جس کے اندر حب نبی کوٹ کوٹ کر بھری نہ ہوئی ہو‘ یعنی اسلام قبول کرنے کیلئے لازم ہے کہ اس ذات عظیم پر پوری طرح سے ایمان لایاجائے اس قدر کہ اس کے سامنے نہ تو مال والاد کی حیثیت ہو یانہ کسی دوسرے رشتے کی ‘یعنی عشق رسول کا جذبہ تمام رشتے ‘تعلقات پر بھاری ہے۔ جب تک یہ جذبہ موجود نہ ہو اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہوسکتا ۔ لیکن کیا کوئی مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کے اس جذبہ کویوں آزما سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اگر کوئی ایسا کرتاہے اور سامنے والا بھرپور محبت رکھنے کے باوجود اس امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے تو کیا تصورکرلیاجائیگا کہ وہ ”گستاخ“ ہے۔
پھر وہی بات عرض کریں گے کہ نبی کریم کی ذات سے محبت تمام رشتوں سے افضل وبالا ہے جو ایسا نہیں کرتا وہ عشق رسول کا داعی نہیں ہوسکتا۔
سوال یہ بھی پیداہوتا ہے کہ محض اپنی واہ واہ اور داد وتحسین حاصل کرنے کیلئے بھی کسی کاامتحان لیا جا سکتاہے؟ یقینا اسلام میں اس کی گنجائش موجود نہیں‘بعض لوگوں کو ہم نے یہ کہتے بھی سنا ہے کہ جو چندہ زیادہ دے گا اس کا عشق زیادہ ہوگا ۔ یعنی نبی کریم رؤف رحیم کی ذات سے عشق کو بھی مال ومتاع سے تولاجاسکتاہے؟ نعوذ باللہ۔

نبی کریم کے آل واصحاب کی اس ذات عظیم سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘ تاریخ اسلام میں کہیں بھی کوئی ایسا واقعہ سامنے نہیں آیا جب ایک صحابی نے کسی دوسرے اپنے ساتھی کے عشق کوآزمانے کی کوشش کی ہو‘ نہ ہی تاریخ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ہاتھ اٹھانے یا نہ اٹھانے ‘یا دونوں ہاتھ اٹھاکر ”سبحان اللہ “نہ کہنے سے ان کے عشق محبوب خدا میں کمی واقع ہوئی ہو؟ یقینا یہ جذبہ آزمایا نہیں جاتا بلکہ خاموشی سے ہی اپنی تاثیر ظاہر کرتاہے اور پھر کوئی غازی علم دین بن جاتا ہے اورکوئی غازی ممتاز ․․․․․․
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے ہفتہ جنوری کے مزید کالم