ہم منتظرہیں

اتوار جنوری    |    پروفیسر رفعت مظہر

ہم نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا کہ قومی اسمبلی ایک قرارداد کے ذریعے وزیرِاعظم صاحب کوپابند کرے کہ وہ سال میں کم ازکم ایک ماہ ضرورپاکستان میں گزاریں تاکہ ہم بھی کہہ سکیں کہ ہمارابھی ایک وزیرِاعظم ہوتاہے ۔پتہ نہیں پیپلزپارٹی کوہماری اِس ”ارسطوانہ “ تجویزکی بھِنک کہاں سے پڑگئی کہ اُس نے قومی اسمبلی کی کارروائی اورطریقِ کارمیں تبدیلی کے لیے ایک ترمیم ہی ”پھڑکا“دی۔ اِس ترمیم کی رُو سے پارلیمنٹ کے ہراجلاس کے پہلے بُدھ کو وزیرِاعظم صاحب کو سوالات کے جواب دینے کاپابند کیاگیااور سوالات کے لیے قائدِحزبِ اختلاف کومقدم گردانا گیا ۔
یہ ترمیم پیپلزپارٹی کی محترمہ فریال تالپور اورڈاکٹر نفیسہ شاہ سمیت پانچ خواتین اورتین مردوں نے دائرکی ۔

(خبر جاری ہے)

فریال تالپورصاحبہ کواِس بات کاغصّہ کہ نیب نے ”بھولے بھالے“ منورتالپور پرہاتھ کیوں ڈالا اورنفیسہ شاہ ہمارے پچھلی صدی کے سندھ کے وزیرِاعلیٰ سیّدقائم علی شاہ کی ”سپُتری“ جنہیں اِس بات کاغصّہ کہ میڈیا”ایویں خواہ مخوا“ قائم علی شاہ کی کلاس لیتارہتا ہے۔ اِس ترمیم پر”کھُلی ڈُلی“ بحث ہوئی ۔

پیپلزپارٹی کویقین تھاکہ وہ یہ ترمیم منظورکروانے میں کامیاب ہوجائے گی کیونکہ اُسے نظرآ رہاتھاکہ پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن اراکین کی تعدادحکومتی اراکین سے زیادہ ہے۔ اُدھرسپیکر ایازصادق بھی پریشان کہ اگرووٹنگ کروادی گئی تویہ ترمیم کہیں منظورہی نہ ہوجائے لیکن اپوزیشن کے شورپر اُنہیں بادلِ نخواستہ ووٹنگ کروانی ہی پڑی ۔ جب نتیجہ آیاتو حکومتی ووٹ 70 اوراپوزیشن کے صرف 53 ، جس پراپوزیشن نے شورمچادیا کہ ووٹنگ دوبارہ کروائی جائے ۔
اگرہمارے کپتان صاحب پارلیمنٹ میں موجودہوتے تواُنہوں نے تودھاندلی کاشور مچاتے ہوئے یہ کہہ کرپارلیمنٹ سے واک آوٹ ہی کرجانا تھاکہ ”ایسے دستورکو ،صبحِ بے نورکو ، میں نہیں مانتا“، لیکن پیپلزپارٹی نے محض دوبارہ ووٹنگ پرہی اکتفاکیا ۔دوبارہ ووٹنگ سے پہلے قیامت کاسماں، حکومتی اوراپوزیشن اراکین اپنے اپنے ساتھیوں کو ڈھونڈنے نکل پڑے۔ کوئی کیفے میں چائے پیتاپکڑا گیاتوکوئی اپنے کمرے میں خوابِ استراحت کے مزے لیتاہوا ۔
جب دوبارہ ووٹنگ ہوئی تواپوزیشن کے 60 اورحکومتی ووٹ 73 نکلے اوریوں وزیرِاعظم صاحب بال بال بچ گئے ۔ اگریہ ترمیم منظورہو جاتی تواسمبلی کے ہراجلاس کے پہلے بُدھ کووہی منظرہوتا جو ہم بچپن میں اپنے سکول میں دیکھاکرتے تھے ۔ہمیں اچھی طرح یادہے کہ جب ”اُستانی جی “ کسی ”اَوکھے “ سوال کاجواب دینے کے لیے ہمیں کھڑاکرتیں توہمارے ہاتھ پاوٴں کانپنا شروع ہو جاتے اورشدید سردی میں بھی ”تریلیاں“ آنے لگتیں۔
ترمیم منظورہو جانے کی صورت میں پارلیمنٹ بھی سکول کاسا منظرپیش کرتی جہاں ڈنڈا ”اُستادِمحترم“سیّدخورشید شاہ کے ہاتھ میں ہوتا جو یقیناََ ہمارے وزیرِاعظم صاحب کو پھنسانے کے لیے ”پُٹھے پُٹھے“ سوال کرتے اورجواب دینے کے لیے ہمارے معصوم، بھولے بھالے اورمرنجاں مرنج وزیرِاعظم۔ اِس صورت میں وزیرِاعظم صاحب کوجیب سے ”پرچیاں“ نکالنے کی اجازت بھی نہ ہوتی اوراُنہیں سارے سوالوں کے ” مُنہ زبانی“ جوابات ہی دینے پڑتے جویقینا ایک مشکل کام ہوتااِس لیے شکرہے کہ یہ ترمیم منظور نہیں ہوئی۔

یہ ساری ”شرارت“ محض اِس لیے ہوئی کہ پیپلزپارٹی اورنوازلیگ کا ” ہنی مون پیرید“ ختم اور ”مُک مکا“ کی سیاست دَم توڑچکی ۔پیپلئے کہتے ہیں کہ وزیرِاعظم صاحب نے ”کھَبی“ دکھاکے ”سَجی“ ماری ہے ۔پہلے ایم کیوایم کوپیپلزپارٹی سے دورکرنے اوراُس کا ”مَکوٹھپنے“ کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت وزیرِاعلیٰ سندھ سیّدقائم علی شاہ کو”کپتان“ بنایااورجب ایم کیوایم ”بے کَس وبے بَس“ ہوگئی توپلٹ کے پیپلزپارٹی پرایسا دھاوا بولاکہ اُس کے سارے ”نگینے“ چُن لیے ۔
اُدھر نوازلیگ کے” مزاحیہ فنکار“ مشاہداللہ خاں بار بار پیپلزپارٹی کوچھیڑتے رہتے ہیں۔شاید اُن کا مطمعٴ نظریہ ہوکہ
جی چاہتا ہے چھیڑ کے ہوں اُن سے ہمکلام
کچھ تو لگے گی دیر سوال و جواب میں
اب مشاہداللہ خاں نے سینٹ میں یہ کہتے ہوئے ایک اور ”کھڑاک“ کردیا کہ ”صوبہ سندھ حالتِ جنگ میں ،سندھ حکومت حالتِ بھنگ میں اور کراچی حالتِ گَندمیں ہے“۔ وہ کہتے ہیں کہ اب کراچی میں صرف گَندہی گَندہے ۔
اگراُن کی ”گَند“ سے مراد” وہ“ ہے جورینجرز، ایف آئی اے اورنیب مِل کرصاف کرتے جارہے ہیں توہم بھی اُن کی تائیدکرتے ہیں کہ ملک وقوم کے لیے یہی بہترہے لیکن اگراُن کی مراد”گندگی“ ہے توہم اُن سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ ہمارے خیال میں یہ ساری شرارت ایم کیوایم کی ہے جوپہلے کبھی شہربند کروایاکرتی تھی ۔ اب چونکہ اُس میں شہربند کروانے کی سَکت نہیں اِس لیے اب کراچی کے گٹربند کروا رہی ہے ۔
یہ دراصل بلدیاتی اختیارات کامعاملہ ہے جس میں پیپلزپارٹی اورایم کیوایم آمنے سامنے ۔زرداری صاحب دبئی جابیٹھے اوررحمٰن ملک خاموش اِس لیے پیپلزپارٹی اورایم کیوایم میں افہام وتفہیم کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی ۔ویسے بھی نوازلیگ ”اَندرکھاتے“ ایم کیوایم سے مل چکی اورایم کیوایم نے یہ اعلان بھی کردیا کہ کراچی کانائب میئر نوازلیگ سے ہوگا حالانکہ نوازلیگ کے پاس تو کَکھ“ بھی نہیں۔
شایدیہی وجہ ہے کہ رینجرزاختیارات کے معاملے پرایم کیوایم خاموش”ٹپک ٹُک دیدم ،دَم نہ کشیدم“ کی عملی تصویربنی بیٹھی ہے۔ اُدھررینجرزکی ساری توجہ پیپلزپارٹی پر۔ اسی لیے قائم علی شاہ نے کہہ دیاکہ وہ کپتان توہیں لیکن اُنہیں تو کوئی پوچھتاہی نہیں۔ہوسکتا ہے کہ رینجرزنے کپتان صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہولیکن وہ توبقول مشاہداللہ خاں ہروقت ”حالتِ بھنگ“ میں ہوتے ہیں۔ دروغ بَرگردنِ راوی شنید ہے کہ شروع شروع میں رینجرزنے اپنے ”کپتان“ کواعتماد میں لینا چاہالیکن ہوایہ کہ شاہ صاحب کے پاس جواطلاع پہنچی وہ من وعن متعلقہ افرادتک پہنچادی گئی اورمتعلقہ افراداپنی پہلی فرصت میں پاکستان سے ”پھُٹا “ مار گئے۔
چونکہ مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈَسا جاتااور ہمیں یقین کہ ہماری رینجرز ”ہجومِ مومنین“ پرمشتمل اِس لیے وہ اپنے کپتان صاحب کوکچھ بتانے سے گریزاں ہی رہتی ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے ہفتہ جنوری کے مزید کالم