باادب بااختیار۔۔بے ادب بے اختیار

اتوار جنوری    |    عمر خان جوزوی

بلدیاتی ناظمین اور ممبران کو بااختیار بنانے کے بعد خیبرپختونخوا میں محکمہ صحت، تعلیم اور سیاحت سمیت دیگر سرکاری اداروں کے افسروں اور اہلکاروں کو بھی بااختیار بنانے کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ صوبائی حکومت نے بورڈز آف گورنر اور بورڈز آف ڈائریکٹر کی فیکٹریاں کھول کر تھوک و پرچون کے حساب سے اس کی فروخت شروع کر دی ہے۔ بااختیار بورڈز کے نام پر پی ٹی آئی حکومت نے سرکاری اداروں کی نیم نجکاری کے لئے آدھا تیتر و آدھا بٹیر والا نظام نافذ کرکے سرکاری اداروں کی تباہی کا آغاز کر دیا ہے۔
صوبائی حکومت کے عجلت میں کئے گئے ان فیصلوں اور اقدامات سے نہ تو سرکاری اداروں کے افسران اور منتظمین مطمئن ہیں اور نہ ہی ان اداروں کیلئے بنائے گئے بورڈز کے ممبران اور چےئرمین۔

(خبر جاری ہے)

کیونکہ بورڈزبنانے اورعہدے دینے کے بعد بھی بااختیارصرف وہی بورڈممبران اورچےئرمین ہیں جوباادب ہیں ،جواپنی ایمانداری اوردیانت داری کی وجہ سے وزیروں ،مشیروں اورممبران اسمبلی کے سامنے بے ادب ہیں وہ عہدے ملنے کے بعدبھی بے اختیاری کی تصویربنے ہوئے ہیں ۔

صوبائی حکومت کے کرتا دھرتاؤں نے پچھلے ڈھائی سال سے اپنے سکون کیلئے دوسروں کو بے سکون کرنے کو اپنا خصوصی مشغلہ بنا یاہوا ہے۔ اسی وجہ سے خیبرپختونخوا میں نہ خود کام کرو اور نہ ہی کسی کو کام کرنے دو کا رواج اب عام ہو چکا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد قوم کے معماروں اور محسنوں کی تذلیل سے تبدیلی کا آغاز کرکے صوبے میں تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ وہ لوگ جن پر قوم کی پوری عمارت تعمیر ہوتی ہے۔
۔ وہ لوگ جو نسل نو کی بہتر تعلیم و تربیت کے ذریعے قوم کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگاتے ہیں۔۔ کل کے بچوں کے ذریعے ان کی مانیٹرنگ اور تذلیل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟ قوم کے ان معماروں کی تو افسران بالا کے ذریعے بھی مانیٹرنگ کی جا سکتی تھی۔۔ ای ڈی او، ڈی ای او اور محکمہ تعلیم کے دیگر افسران بھی تو غیر حاضر اور قوم کے مستقبل سے کھیلنے والے اساتذہ کو راہ راست پر لاسکتے تھے۔ ایسے میں پھر کل کے وہ بچے جو انہی اساتذہ میں سے کسی سے پڑھ سیکھ کر کچھ کرنے کے قابل بنے۔
ان کے ذریعے ان اساتذہ کو رسوا اور ذلیل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ مانا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پورے صوبے میں تبدیلی لانا چاہتی ہے۔۔ مانا کہ صوبائی اسمبلی میں ابھی تک جو قانون سازی کی گئی اس کا مقصدصوبے میں تبدیلی لاناہے ۔۔یہ بھی ماناکہ صوبائی حکومت نے ابھی تک جواقدامات اٹھائے ہیں یاجوفیصلے کئے ہیں وہ بھی تبدیلی کاخواب پورا کرنے کیلئے کئے ہیں۔۔ مگرانتہائی معذرت کے ساتھ سیاہ کو سفید یا سفید کو سیاہ کہنے سے کبھی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی باپ کو بیٹا بنانے سے کوئی نظام تبدیل ہو سکتا ہے۔
سوچنے کی بات ہے کہ جب شاگرد ہی اٹھ کر اپنے استاد کی مانیٹرنگ اور نگرانی کریں گے تو نظام کیسے ٹھیک ہوگا۔۔؟ اپنے ہی گھر میں جب دوسروں کو مداخلت کرنے کا موقع دیا جائے تو پھر گھر کے تباہ و برباد ہونے میں زیادہ ٹائم نہیں لگتا۔ یہاں تو سرکاری اداروں میں غیروں کو موقع ہی نہیں موقعوں پر موقعے دئیے جارہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے سرکاری ادارے اگر غیروں اور باہر کے لوگوں نے ہی ٹھیک کرنے ہیں تو پھر صوبائی حکومت کس مرض کی دوا ہے۔
۔؟ صوبائی حکومت نے کئی سرکاری اداروں کی نیم نجکاری کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ تحریک انصاف والے ایک طرف تو خود وفاق کے انڈر آنے والے قومی اداروں کی نجکاری کی شدید مخالفت کرکے بھرپور مزاحمت کا اعلان کررہے ہیں لیکن دوسری طرف وہ خود قومی صوبائی اداروں کو باپ کی جاگیر سمجھ کر بورڈ آف گورنر کے لبادے میں ان کی نجکاری سے دریغ نہیں کررہے۔ سرکاری ہسپتال غریب عوام کو فری طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہوتے ہیں مال کمانے کیلئے نہیں۔
مگر سننے میں آرہا ہے کہ ”صحت کا انصاف“ کا نعرہ لگانے والے اب ان ہسپتالوں کو بھی بہت جلد تجارتی مراکز کا درجہ دے دیں گے۔ ایل آر ایچ پشاور، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد کی ممکنہ نیم نجکاری کی کوششیں اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان ہسپتالوں میں 10 روپے کی او پی ڈی پرچی 50 اور 100 روپے میں کرنے کے ساتھ ٹیسٹ اور دیگر فیسوں میں بھی اضافہ کرکے ان کو منافع بخش اداروں میں تبدیل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
نفع اور نقصان اپنی جگہ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایل آر ایچ، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور دیگر بڑے ہسپتالوں کو چھوڑ کر اگر صرف ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد کو ہی دیکھا جائے تو جھاری کس سے کوہستان اور آزاد کشمیر سے تھاکوٹ تک وہ لوگ جو خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔۔جن کے پاس ایک وقت کی روٹی کھانے کیلئے بھی کچھ نہیں ۔ وہ لوگ جو سرکاری ہسپتالوں میں چیک اپ کیلئے او پی ڈی پرچی کی10روپے دینے کی بھی طاقت نہیں رکھتے۔
۔ جن لوگوں کے پاس جیب میں 10 روپے کا بھی دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتاایسے میں وہ لوگ سرکاری ہسپتالوں کی فیسوں اور دیگر چارجز میں اضافے کے بعد علاج معالجے کیلئے پھر کس در پر حاضری دیں گے۔۔؟ صوبائی حکومت اقدامات تو اٹھاتی ہے مگر سوچتی نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو منافع بخش کاروبار کا ذریعہ بنانے کے خواب دیکھنے والوں کو یہ بھی تو دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں کو کاروباری مراکز میں تبدیل کرنے کے بعد غریب عوام کا کیا بنے گا۔
۔؟ ہزارہ کے عوام کی اکثریت غربت اور بیروزگاری سے نبرد آزما ہیں۔ ایوب میڈیکل کمپلیکس کی نیم یا مکمل نجکاری سے ہزارہ بھر کے عوام کو علاج معالجے کے سلسلے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے ہزارہ کے منتخب ممبران قومی ، صوبائی اسمبلی، بلدیاتی ناظمین اور عوام کو ایوب میڈیکل کمپلیکس سمیت تمام سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو نجکاری سے بچانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ اگر سرکاری ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ایک بار تجارتی مراکز کا درجہ مل گیا تو پھر غریب عوام کیلئے جینا بھی مشکل ہو جائے گا۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے اتوار جنوری کے مزید کالم