2016 کی کیا تیاری ہے؟

جمعرات جنوری    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

گزرے برس کا نوحہ سناتے اورآنے والے برس کے لئے خواہشوں کا جال بنتے بنتے ہم 67 برس کے ہوچکے ہیں مگر 67 سالہ تاریخ شاہد ہے کہ نہ ہم نے بحثیت مجموعی اپنی خو بدلی اور نہ ہم نے ان وجوہات کے خاتمے کی کوئی کوشش کی جو ہماری ترقی کے راستے کی رکاوٹیں تھیں ہم رونا رونے اور دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے والا ایک ایسا ہجوم بن چکے ہیں جس کی کوئی سمت اور منزل نہ ہو بلکہ ہمارے اپنے کئے ہوئے اعمالوں کی سزا کی صورت میں ہم انارکی بد امنی ،بے روزگاری ،جہالت اور اندھیروں کا شکار ہیں ،بجائے اس کے کہ ہم اپنے اعمال پر نظر ڈالیں ہم ہر کام میں یہود و ہنود کی سازشیں تلاش کر کے خود کو مطمن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

فطرت کا اصول ہے کہ جو کچھ بوو گے وہی کاٹو گے اگر ہم نے درخت نہیں لگائے بلکہ جنگلوں کے جنگل کاٹتے جارہے ہیں تو تازہ ہوا ،آکسیجن کیسے حاصل کریں گے جبکہ سیلابوں سے محفوظ کیسے رہ پائیں گے؟ اس بار جہاں گرمیوں کا دورانیہ بڑھا اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا وہیں سردی کے دورانیے اور سردی کی شدت میں کمی دیکھنے میں بھی آئی دسمبر جس پر شاعری کی جاتی تھی اس بار شاعروں کی دستبرد سے محفوظ رہا ۔

(خبر جاری ہے)

جبکہ جنوری منفی ایک تک جاتا تھا بنا شدید سردی کے گزر رہا ہے ۔

کیا ہم نے سوچا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ہم فطرت کے خلاف جا رہے ہیں شہروں میں ہاوسنگ سوسائٹیوں ،سڑکوں اور پلوں کا جال بچھا رہے ہیں ہر طرف کنکریٹ ہی کنکریٹ کے پہاڑ کھڑئے کئے جارہے ہیں جبکہ درختوں کا بے دریغ قتل عام جاری ہے گرمی نہیں بڑھے گی تو اور کیا ہو گا ؟۔
بات یہ ہے کہ گزشتہ برس بھی ہم نے بجلی اورگیس کے غائب رہنے میں گزرا اور لگتا یہ ہے کہ اب کے برس بھی یونہی گزرئے گا ان دنوں تو یہ عالم ہے کہ دو دنوں کی سخت سردی میں یخ ہاتھوں سے قلم پکڑنا بھی محال ہو رہا ہے۔
بجلی تو ویسے بھیکئی سالوں سے غائب ہے اب تو سوئی گیس (جو ہماری اپنی پراڈکٹ ہے) بھی غائب ہونا شروع گئی ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ ، عوام کو ریلیف دینے سے قاصر رہی ۔ ملک کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کے حالات پہلے سے بھی بدتر مگر سیاسی اشرافیہ کی دولت میں اضافہ بیس کروڑ سے زائد عوام مہنگائی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ ارب پتی ٹیکس نادہندہ لیڈر قوم کے پیسے پر عیش کر رہے ہیں، خود ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں۔
مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر مڈل کلاس پر پڑتا ہے کیونکہ غریب تو پہلے ہی خطِ غربت سے نیچے ہاتھ پاؤں ما رہا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی گرانی باعثِ آزار بن چکی ہے۔ گیس ناپید، چولہے ٹھنڈے ہو کر خواتین کی بے بسی کا مذاق اْڑا رہے ہں۔ ہم حالات کی ستم گری کے رحم و کرم پر جبکہ قیادت ہمارے ووٹوں سے خوشحالی کی آخری سیڑھی پر۔
حکمرانوں کی بے حسی کا اندزاہ اس بات سے لگائیں دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قمیتوں میں کمی آج سے پندرہ سال پہلے کی اس قیمت تک جاپہنچی ہے جب پاکستان میں پٹرول چوبیس روپے لیٹر ہوتا تھا اور آج عالمی منڈی میں قیمت تیس ڈالر جبکہ پاکستان میں 76 روپے میں فروخت کر کے غریب ترین افراد کی جیبوں پر بھی ڈاکا ڈالا جارہا ہے حالانکہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی سے ہی مہنگائی میں کمی واقع ہوتی ہے ۔
سستے بازاروں کے نام پر غیر معیاری اشیاء فراہم کرنے پر توجہ ہے مگر مہنگائی کم ہو اس کے لئے کوئی سبیل نہیں کی جاتی۔جبر، ظلم، دباؤ ڈالنے والی سفاک سیاست کے حامل ملک میں ”نئے سال“ میں بھی کچھ اچھا منظر نظر نہیں آ رہا۔ 2016 میں حالات واقعات کی حدت بڑھانے اور ناظرین کو ہیجان میں مبتلا کرنے کے لئے”میڈیا“ سرکس دن رات جاری رہے گا۔ مگر عوام کے حقیقی مسائل ”کیمرے کی آنکھ“ سے ہمیشہ کی طرح اوجھل رہیں گے۔
اچھا تو یہ ہے کہ کہ میڈیا نئے سال کو بریکنگ نیوز، سب سے پہلیکی دوڑ سے آزاد کر دئے کہیں تو کچھ تبدیلی نظر آئے۔اورحقیقی مسائل کو نہ صرف اْجاگر کرے بلکہ حل کرنے میں ممد و معاون بنے غربت اور جہالت کے خاتمے کے ساتھ صحت عامہ کی صورت حال کو بہت بنانے کے لئے ٹاک شو کا موضوع بنایا جائے۔ دہشت گردی نئی اشکال اختیار کر کے بدستور تلوار کی مانند ہمارے سروں پر لٹکتی رہے گی۔
کہا یہ جارہا ہے کہ یہ سال دہشت گردی کے خاتمے کا سال ہو گا مگر کیسے اس پر خاموشی ہے حکومت کی خواہش اپنی جگہ، تازہ پیشقدمی قابل تعریف مگردہشت گردی کے کاتمے کے کیے ان اقدامات کا اٹھایا جانا بھی تو ضروری ہے جو دہشت گردی کو ختم کرسکیں دہشت گردی کی نرسریاں جو کی توں موجود رہیں اور کواہش کی جائے دہشت گردی ختم ہو جائے گی کیسے؟۔
حکومت، فوج کی یکجائی اور یکساں موقف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اب کوئی رکاوٹ نہیں یا اس امر کا اعلان کہ دہشت گردوں کے حملے برداشت نہیں کریں گے سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی، نفرت اگلتا قومی نصاب اور بیانہ تبدیل کئے بنا کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک میں تحمل اور رواداری پر مبنی معاشرے کا قیام ممکن ہوسکے گا؟ ہم یہاں پر میڈیا سے التماس کرتے ہیں کہ ملکی ترقی کیلئے اپنی قوت کا استعمال کرے۔ ہم پر لگے دہشت گردی، جھگڑالو قوم کے داغ دھونے کیلئے آگے آ ئے نا کہ ”ناکام ریاست“ کا ٹکر کھانے پر توانائیاں ضائع کرے۔

کوئی بھی ریاست زیادہ دیر تک دشمنی کے سہارئے نہین چل سکتی وسائل کے ساتھ توانائیوں کا ضیاع کمزری کی شکل اختیار کر لیتا ہے اس لئے ہمیں اب اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی مخلتف شکلوں پر غور کر کے اقدامات اٹھانے ہوں گے ورنہ ایک طرف اندرونی طور پر دہشت گردی کاعفریت اور دوسری طرف سرحدوں سے امڈتے خطرات ہمارئے لئے امن ،سکون اور خوشحالی کے راستے بند کئے رکھیں گے اس تناظر میں ریاست کے بیانئے کے کلاف بولنے وا؛لی جماعتوں اور تنظیموں پر بھی نظر رکھنی ہوگی جن کا کام نفرت کوہوا دینا ہے۔
بین الاقوامی سناریو بدل رہا ہے ہمیں اس بدلتے سناریو میں اپنے لئے جگہ بنانے کے لئے اپنی خارجہ پالیسی میں مہارت حاصل کرنی ہوگی۔صحت ،تعلیم جس کے بغیر کوئی معاشرہ چل ہی نہیں سکتا پر ہماری توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اس ایشو پر اعداد و شمار پر مبنی کچھ حقائق اگلے کسی کالم میں بیان کیے جائیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ڈاکٹر اویس فاروقی کے بدھ جنوری کے مزید کالم