سانحہ چارسدہ ،وجوہات اور اس کاحل

ہفتہ جنوری    |    حافظ ذوہیب طیب

ایک دفعہ پھر میرے ملک پر ایک منحوس صبح نمودار ہوئی جس کی وجہ سے سانحہ پشاور کے ننھے منے معصوموں کے خون آلود چہرے پھر سے نظروں کے سامنے نمودار ہو گئے۔ قیامت کا وہ منظر جسے کئی دنوں کی مشقت کے بعد بھولنے میں کامیابی حاصل ہوئی ،باچا خان یونیورسٹی میں درندہ صفت دہشت گردوں نے آگ و خون کا بازار گرم کر کے ، مادر علمی جس کی فضا میں علم کی بھینی بھینی خو شبو جو لوگوں کو علم کے رستے کا مسا فر بننے پر اکساتی تھی کو بارود کی بو میں تبدیل کرکے، ایک بار پھر سے وہ درد میں ڈوبے مناظر یاد کرا گیا۔
گولیوں کی تھر تھڑاہٹ اور درندنوں کی وحشت نے طالبان علم جن کی شخصیت، نرمی اور خوش اخلاقی کا عرق پی کرپروان چڑھتی ہے ،پر کچھ اس طرح خوف مبتلا کیا کہ جس کے نتیجے میں ہر طرف وحشت اور بے سکونی کا عالم دکھا ئی دے رہا تھا۔

(خبر جاری ہے)


علم کی پیاس بجھانے کی کوشش میں مصروف طالبا ن علم آج بھی روزانہ کی طرح یونیفارم زیب تن کر کے کینٹین میں ناشتہ کر ہے تھے کہ علم دشمن اور انسان دشمن درندوں نے کچھ ہی دیر میں ان لوگوں کے یویفارم کو کفن میں تبدیل کر دیا ۔

سانحہ پشاور کی طرح یہاں بھی معصوم اور بے گناہ لوگ جو اپنی آنکھوں میں اپنے ماں، باپ اور ملک کے لئے کچھ کر نے کے خواب سجائے ہوئے تھے کو پورا ہو نے سے پہلے ہی چھین لیا گیا۔ کسی کی بیس دن بعد شادی تھی تو کوئی تین روز قبل اپنے بیٹے کی سالگرہ منا رہا تھا۔ لیکن وہ سب پلاننگز اور وہ سب چیزیں جو انہوں نے مستقبل کے حوالے سے سو چی ہوئی تھیں ایک خواب بن گئی ، ایک ایسا خواب جس کی تعبیر اب کبھی ممکن نہیں ہو پائے گی ۔

قارئین کرام !اس سانحے کے بعد حکمرانوں کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر پورے طریقے سے عملدرآمد کا بھی پول کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ وزارت داخلہ کی طرف سے حملے کی10دن پہلے اطلاع اور ایک روز قبل سیکورٹی اداروں کی جانب سے یونیورسٹی کے سیکورٹی نظام کو ناقص قرار دینے کے باوجود وہ کیا وجوہات تھیں کہ یو نیورسٹی اورمقامی انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی؟آخر کس کے کہنے پر یونیورسٹی میں قائم پولیس چوکی کو ختم اور یہاں تعینات 9پولیس اہلکاروں کو یونیورسٹی کیمپس سے بے دخل کر دیا گیا؟ ایسے کئی واقعات ہیں جو شکوک و شہبات کو جنم دے رہے ہیں۔

مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ بات لکھنی پڑ رہی ہے کہ اتنے لاشے اٹھا نے کے بعد بھی ہم ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھ سکے ۔ بے نتیجہ انکوائری کمیٹیوں کی طرح ہر سا نحے کے بعد کچھ کر گذرنے کے بڑے بڑے دعوے کچھ ہی دنوں میں ٹھس ہو جا تے ہیں اور پھر سے ایک نیا سانحہ رونما ہو جا تا ہے جو کسی آسیب کی طرح قوم کے معماروں کو بے دردی سے ختم کر تا جا رہا ہے ۔ سانحہ پشاورجیسے اندوہناک واقعہ کے بعد جہاں اس میں ملوث افراد عیاں اور حقائق کو منظر عام پر لاکر دشمنوں کا تعین کیا جانا چاہئے تھا یہاں بھی بات خالی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکی ۔
یہی وجہ ہے کہ شواہد کے مطابق یونیورسٹی حملے میں ملوث دہشت گروں کا تعلق بھی پشاور سکول حملے کے گروپ سے ہے ۔ طریقہ کارجس میں علم کے دشمنوں کی طرف سے حملے کے لئے عقبی راستے کا ستعمال سمیت دہشت گروں نے جو بوٹ بھی پہن رکھے تھے وہ بھی اے۔پی۔ایس کے حملہ آوروں جیسے تھے۔
ہمیں یہاں اس بات کو بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کی کچھ دن پہلے دی جانے والی دھمکی اور دہشت گردوں کو حملے کیلئے بھارتی قونصلیٹ سے 30لاکھ روپے کی فراہمی ،یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کو بیرونی طاقتوں کی آشیر باد بھی حاصل تھی ۔
فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے بقول حملہ آور کہاں سے آئے اور کس نے بھیجے ، اس کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ بے شک آرمی چیف جو بدھ کی صبح ہی سعودی عرب اور ایران کے مصالحتی مشن سے واپس راولپنڈی پہنچے تھے کچھ دیر بعد ہی چار سدہ میں موجود تھے کی قیادت میں پاک آرمی دہشت گردی کی عفریت کو کچلنے کے لئے پوری طرح پر عزم دکھائی دے رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عاصم باجوہ بھی پریس بر یفنگ کے دوران کئی بار دہشت گردوں کے خلاف سخت نفرت اور غصے کا اظہار بھی کرتے نظر آئے۔

قارئین محترم !معلوم ہوتا ہے کہ فوج کی انتھک محنت اور شب و روز جدو جہد کے بعدمشن میں کامیابی نہ ہو نے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے سیاسی آقا، نیشنل ایکشن پلان کو پورے طریقے سے نافذ کر نے پر تیار دکھائی نہیں دیتے ۔ظلم تو یہ ہے کہ اس موقع پر بھی بیانات کے گورکھ دھندے ہیں جو پریس ریلیز کی صورت شائع کر دئیے جاتے ہیں ۔لیکن اگر ہم ملک کو دہشت گردی سے پاک کر نا چاہتے ہیں تو ضرورت اس مر کی ہے کہ حکمرانوں سمیت تما م سیاسی رہنما ؤں کو دل سے فوج کے ساتھ کھڑا ہو کرخلوص دل کے ساتھ معاملات کی گہرائی تک پہنچنے اور سانحات کے پیچھے کار فر ما قوتوں کو منظر عام پر لانے اور ان کے ساتھ سختی سے نبٹنے کی حکمت عملی طے کر نے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے جمعہ جنوری کے مزید کالم