قلم بردار کا قتل!

ہفتہ جنوری    |    انجینئر عثمان حیدر

ٹھیک ایک سال ، ایک ماہ اور چار دن بعدچار دہشتگرد چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔اپنے راستے میں آنے والے ہر طالبعلم، استاد اور سیکورٹی گارڈ کو گولیوں سے چھلنی کرتے جاتے ہیں۔جب تک قلم بردار طلبا کو خطرے کی سنگینی کااندازہ ہوتا تب تک یہ اسلحہ بردارخون کے پیاسے ،درجنوں علم کے پیاسوں کو خون میں نہلا چکے تھے۔خیر حسبِ روایت یہ درندگی کئی گھنٹو ں تک چلتی ہے، پولیس اور فوج تقریباََچار گھنٹے کے سخت مقابلے کے بعد ان حملہ آوروں کو ان کی ’جنت“ واصل کرنے کے بعد سرچ آپریشن میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
اسی اثناء میں صوبائی اور وفاقی وزرا کے کان میں کوئی سرگوشی کر کے بتاتا ہے کہ صاحب جی ادھرایک اور یونیورسٹی میں آج پھر ٹھا ہ ٹھا ہ کی آوازیں آ رہی ہیں۔

(خبر جاری ہے)

مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وزراء سخت سردی کو برداشت کرتے ہوئے باہر نکلتے ہیں اور یونیورسٹی کے قریب محفوظ مقام پر میڈیا سے محوِ کلام ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے ایک صوبائی وزیر لب کشائی کرتے ہوئے حملے کی مذمت کرنے کے بعدسیکورٹی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ” سیکورٹی گارڈ کی بر وقت کارروائی سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا“۔

میں ان کا یہ ارشاد سن کر دم بخود بیٹھا رہا۔ سوچا یہ تو ایک صوبائی وزیر ہیں اس لیے انہیں ادراک ہی نہیں کہ ایک جان کا ضیاع کتنا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ ان کی اسی کم علمی نے تو انھیں ابھی تک صوبائی وزیر تک محدود رکھا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک وفاقی وزیر قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال ِپاک کرنے کیلئے اٹھے تو فرمایا”شکر ہے سیکورٹی گارڈ کی بر وقت کارروائی سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا“۔میں پھر غصے سے پہلو بدل کر رہ گیا کہ یہ کیا جانیں کہ ایک طالبعلم کی جان کا ضیاع کتنا بڑا نقصان ہوتا ہے۔
اپنی اسی کم علمی نے تو انہیںآ ج تک قومی لیڈر بننے سے روک رکھا ہے۔ جب ٹھاہ ٹھاہ رک گئی تو بنی گالہ سے کچی نیند سے بیدار ہو کر آنے والے ایک ’قومی لیڈر“ سے جب میڈیا نے وہی سوال دہرایا تو حضور فرماتے ہیں”دیکھیں جی سیکورٹی گارڈ کی بر وقت کارروائی سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔وگرنہ یہاں بہت بڑا نقصان بھی ہو سکتا تھا“۔سرکار کا یہ بیان سن کر مجھے خود پر شک ہونے لگا کہ شاید میں ہی کچھ”اوور ریئکٹ“ کر رہا ہوں۔
نقصان واقعی بڑا ہو سکتا تھا۔لیکن میں یہ سوچ کر اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا کہ انہیں کیا معلوم کہ ایک پی ایچ ڈی پروفیسر کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔ وگرنہ یہ اسے چھوٹا نقصان نہ کہتے۔ اگر انہیں پی ایچ ڈی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا تو اب تک یہ صاحب وزیرِ اعظم نہ بن چکے ہوتے!۔ خیر سلسلہ چلتے چلاتے بادشاہ سلامت یعنی وزیرِ اعظم صاحب تک پہنچا تو انہوں نے بھی سوئٹزرلینڈکی خوشبودار فضاؤں سے پیغام بھیجتے ہوئے مذمت کی رسم نبھانے کے ساتھ نقصان کے حوالے سے کم و بیش اپنے ممکنہ جانشین والی بات ہی دہرائی ۔
میں نے خود سے کہا کہ چھوڑو ان کی باتوں کو، کوئی نہ کوئی توضرورمیری اس بات کی تائید کرے گا ہی کہ یہ کوئی چھوٹا موٹا نقصان نہیں ہے۔ امید کی رہی سہی کرن محافظینِ وطن کے ترجمان المعروف ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ کہہ کر ختم کر دی کہ ”اس سے بھی زیادہ نقصان ہو سکتا تھا“۔میں کل سے سوچ رہا ہوں کہ نہ جانے بڑا نقصان کیا ہوتا ہے؟ یونیورسٹی کے سارے طلبا شہید کر دیے جاتے تو کیا بڑے نقصان کا کرائٹیریا پورا ہو جاتا؟؟
میرے ملک کے حکمرانوں کو کوئی جا کر بتائے کہ صاحب! جب ماں اپنے بیٹے یا بیٹی کو گھر سے سینکڑوں میل دور یونیورسٹی میں پڑھنے کیلئے روانہ کر تی ہے توجب تک اس کا بیٹا مہینوں بعد دوبارہ چھٹیوں پر واپس نہ آ جائے اس وقت تک اسے ایک دھڑکاسا لگا رہتا ہے ۔
اس سارے عرصے میں اس کیلئے اس کے بیٹے کی سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز معنی نہیں رکھتی۔ اور اگر اس کا بیٹا سلامت واپس نہ آئے تو اس کیلئے اس سے بڑا نقصان کوئی نہیں ہو سکتا!۔۔۔ اگر آپ کو بڑے نقصان کا تعین کرنے میں دقت ہو رہی ہے تو جائیے جا کر اس عمر رسیدہ والد سے جا کر پوچھئے جو ڈھلتی عمر میں اپنے بیٹے کی تعلیمی ضروریا ت کو پورا کرنے کیلئے دن رات اس امید پر ان تھک محنت کر تا ہے کہ ایک نہ ایک دن اس کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اس سے بہتر زندگی گزارے گا۔
اپنی اسی امید کو پورا کرنے کی خاطر وہ آپ کے”قومی خزانے“ کو سینکڑوں روپے ٹیکس دے کر اپنی آدھی سے زیادہ کمائی یونیورسٹی میں پڑھنے والے اپنے بیٹے کو بھیجتا ہے ۔ جب ایک سفاک دہشت گرد کی بندوق سے نکلی ہوئی گولی جس پر آپ کی غلط پالیسیوں کا ٹیگ لگا ہوتا ہے اس باپ کی امید کا خون کرتی ہے تو اس کیلئے دنیا جہاں کا سب سے بڑا نقصان یہی ہوتا ہے۔ اب بھی اگر آپ کو بڑے نقصان کا اندازہ نہیں ہوا تو جایئے کبھی کسی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے کی کوشش کیجئے۔
اگر داخلہ مل جائے تو پھر پی ایچ ڈی کو پورا کرنے کی کوشش کیجئے ۔ جب بیس سال کی محنت کے بعد آپ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لیں تو پھر بتایئے گا کہ بڑا نقصان کیا ہوتا ہے؟؟
ہمارا ایک قومی المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیں دس پندرہ افراد کی شہادت سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ کئی عشروں سے جاری غلط ریاستی پالیسیوں کے ہیبت ناک اثرات نے ہمیں ان اندوہناک حادثوں کا عادی بنا دیا ہے۔ اب ایسے سفاکانہ حملے ہمیں معمول کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ”دیدہ زیب حکمران“ بیس افراد کی شہاد ت کو شا ید بڑا نقصان نہیں سمجھتے چاہے وہ افراد قوم کے معمار طلبا اور پی ایچ ڈی اساتذہ ہی کیوں نہ ہوں۔اگر ہم شروع سے ایک ایک فرد کی جان کو اہمیت دیتے تو شاید ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
کیا آج ہم اپنے سیکورٹی اداروں سے یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ ٹوٹی ہوئی کمر والے یہ چار درندے میرے ملک کے مستقبل کو کیسے گھائل کرنے میں کامیاب ہوئے؟؟ بقول آپ کے اگر آپ نے تقریباََ معلومات حاصل کر لی ہیں تو کیا کارروائی عمل میں لائی گئی ہے؟؟جب سرحد پار سے اس سفاکیت کی سازش تیار کی گئی تھی تو سرحد کے اندر اسے کیسے گھسنے دیا گیا؟ ضربِ عضب کی کامیابیوں کو پائیدار بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟؟ مانا کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں لیکن اس جنگ کے اسباب و سدِ باب جاننے کیلئے بنائے جانے والے اداروں کی کارکردگی کہاں ہے؟ آخر ایسی کون سی طاقتیں ہیں جن کے خلاف میرے ملک کے ہزاروں فوجی جوان جامِ شہادت نوش کرنے کے باوجود ان طاقتوں کو زیر نہیں کر سکے؟ میرے ملک کے سینکڑوں سیاستدانوں ، علماء، طلبا اور ہزاروں شہریوں کو بموں سے اڑانے کی ذمہ داری قبول کرنے والے اصل مجرم کب تختہ دار پر لٹکائے جائیں گے؟ کیا ہمارے سیکورٹی اداروں نے اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کا جائزہ لیا اور کیا ان کو دور کرنے کی کوششیں کیں؟؟ آخر نیکٹا کو فعال کرنے میں کونسی طاقت رکاوٹ بن رہی ہے؟ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کیوں نہیں کیا جا رہا؟ ضربِ عضب کے بعد بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال کو اچانک کس طرح خراب کر دیا گیا؟ یہ وہ سوال ہیں جو آج ہر محبِ وطن شہری کے ذہن میں اٹھ رہے ہیں۔
اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں ،تری رہبری کا سوال ہے
اور
جب تلک شہر کے حالات سنوارے جائیں
عین ممکن ہے کہ ہم لوگ بھی مارے جائیں
آرمی چیف صاحب! دورانِ آپریشن آپ کا یونیورسٹی پہنچنازخمی عوام کیلئے لازماََ حوصلہ افزائی کا سبب بنا ہوگا لیکن اس قوم کے حوصلے بلند کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اُن دہشت گردوں کے ناپاک عزائم پست کیے جائیں جو آئے روز اس قوم کے حوصلے پست کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔
آج میڈیا کے نمائندے شہداء کے والدین سے ان کے حوصلے اور عزم کے بارے میں جب سوال کرتے ہیں تو مجھے اے پی ایس کے اس شہید کی ماں کے الفاظ یاد آتے ہیں کہ جس نے کہا تھا ”فخر کس بات کا؟ میں نے تو اپنے بچے کو سکول پڑھنے کیلئے بھیجا تھا قربانی کیلئے نہیں“۔ قلم کی طاقت بجا لیکن جب دیر ہو جائے توبندوق سے نکلی گولی کوقلم بردار نرم ہاتھ جگر چھلنی کرنے سے نہیں روک پاتے۔ اور جب قلم بردار قتل ہوتے ہیں توقوم کیلئے اس سے بڑا نقصان کوئی نہیں ہوتا!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

انجینئر عثمان حیدر کے جمعہ جنوری کے مزید کالم