کیا سے کیا ہو گئے ہم

ہفتہ جنوری    |    عمار مسعود

بہت پرانا قصہ نہیں ابھی چند برسوں پہلے کی بات ہے۔ اسی ملک میں ، انہیں لوگوں کے مسئلے کچھ اور تھے۔ ان کی روش کچھ اور تھی، چلن کچھ اور تھا۔ راستہ خار زار اور منزل معدوم تھی۔ کرپشن کے قصے تھے جو زبان زد عام تھے۔ وزراء تو وزراء وزیر اعظم بھی متاثرین سیلاب کے لیئے عطیہ کیئے جانے والے ہار کے کیس میں مطلوب تھے۔پنجاب میں گورنر راج کی سازش کی جا رہی تھی۔ بلوچستان کے نام پر پیکچ کا اعلان کر کے بلوچوں کے حقوق بھول گئے تھے۔
بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ قومی پرچم نذر آتش کیا جا رہا تھا۔ قائد کی ریذیڈنسی کو آگ لگا دی گئی تھی۔میمو گیٹ سکینڈل میں حکومت پر وطن سے غداری کا مقدمہ چل رہا تھا۔ سوئس بینک کیسز کے ریکارڈ سر عام مٹائے جا رہے تھے۔

(خبر جاری ہے)

حج کے سکینڈل میں ہم ساری دنیا میں بدنام ہو رہے تھے۔حجاج کرام دنوں تک ائرپورپٹس پر بے بسی کا تماشا بنے ہوئے تھے۔ ٹڈاپ کیس کی فائلیں نیب میں دفن ہو رہی تھیں۔

بے نظیر انکم سپورٹ میں گھپلے ہو رہے تھے۔ این آئی سی ایل کیس زور پکڑ رہا تھا ۔کے پی کے میں ہر دوسرے روز ایک نیا دہشت گردی کا واقعہ ہو تا تھا۔ لاشوں کی فوٹیج چلتی تھی اور تعزیت کے پیغامات سکرین پر سارا دن چلتے تھے۔ امن عامہ کے حالات روز بہ روز بگڑتے جا رہے تھے ۔فوج اور سول حکومت کے تعلقات خراب تھے۔ افواہیں گرم تھیں کہ صبر کا پیمانہ لبریز آج ہوتا ہے یا کل۔ صدر مملکت کا عہدہ حکومت میں سب سے اہم ہو گیا تھا۔
وزیر اعظم کے انتخاب سے لے کر ہر پراجیکٹ کے وسائل پر صدر زرداری کا حکم چلتا تھا۔ ایوان صدر کے اندر چھوٹے چھوٹے کمروں میں سلمان فاروقی بڑے بڑے کمیشنوں کا فیصلہ کرتے تھے۔کراچی کے حالات بتدریج ابتر ہوتے جا رہے تھے۔ بھتہ مافیہ ہر سڑک پر حکومت کر رہاتھا۔نامعلوم افراد دن دیہاڑے قانون کی دھجیاں بکھیر رہے تھے ۔سپیکر قومی اسمبلی جمہوریت کی کامیابی کے بعد اربوں کے قرضے معاف کروا رہی تھیں۔ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ اٹھارہ گھنٹے تک بڑھ گیا تھا۔
ترقیاتی منصوبے ناپید تھے۔ رینٹل پا ورپرجیکٹ کی کرپشن کا شور ساری دنیا میں پھیلا تھا۔عوام اور حکومت دو مختلف اکائیاں تھے۔ دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔ دونوں ایکدوسرے کے مسائل سے بے خبر اپنی اپنی غرض میں جی رہے تھے۔
اس دور آشوب کو گزرے زیادہ وقت نہیں گزرا۔ بہت پرانا قصہ نہیں چند برسوں کی بات ہے۔ اب ہماری سوچ مختلف ہو گئی ہیں ۔ چند برسوں میں چیزوں کو پرکھنے کا زاویہ تبدیل ہو گیا ہے۔
روش بدل گئی ہیں انداز بدل گیا ہے۔ اب سب لوگ سڑکوں کے افتتاح کی بات کر رہے ہیں ۔ انفراسڑکچر کے ضمن میں گفتگو ہو رہی ہے۔ صوبے اور وفاق تصادم کے بجائے تعاون کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ ہر اہم مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے۔ ہر صوبے کے مسائل کو سنا جا رہا ہے۔دہشت گردی کے خلاف پہلی دفعہ ایک منظم اور کامیاب آپریشن کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔کراچی میں رینجرز کا لازوال آپریشن سب جماعتوں کے اتفاق سے ہو رہا ہے۔
روشنیوں کے شہر سے تاریکی کم ہو رہی ہے۔ ملزمان کو سزا ہو رہی ہے۔ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند لاشیں ناپید ہو گئی ہیں۔ موبائل چھیننے کی ورداتیں اکا دکا رہ گئی ہیں۔ بھتہ مافیا کہیں دبک کر روپوش ہو گیا ہے۔عسکری اداروں کی توقیر میں اضافہ ہو رہا ہے۔بلو چستان میں علیحدگی تحریکیں دم توڑ گئی ہیں اور اب بلوچ خود مذاکرات کی میز پر آگئے ہیں۔ کوئٹہ میں چودہ اگست کی تقریبات منائی جا رہی
ہیں۔میلوں اور کنسرٹس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
لوڈ شیڈنگ میں بہت حد تک کمی آئی ہے۔ گو کہ یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا مگر بہتری ضرور آئی ہے۔ اب پاک چائنہ اقتصادی راہداری کی بات ہو رہی ہے۔ مثبت مقابلے کے تحت صوبے اپنے اپنے علاقے کی ترقی کی دوڑ میں حصہ مانگ رہے ہیں۔ پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں عوامی فلاح کے لیئے ایکدوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں میٹرو بن رہی ہیں۔ فوج اور سول حکومت میں تصادم ختم ہو گیا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری ملک میں آ رہی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں کام ہو رہا ہے۔صوبے بڑھ چڑھ کر اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔درخت لگائے جا رہے ہیں۔تاریخی اور قومی ورثے کی حفاظت کا شعور اجاگر ہو رہا ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کو جی ایس پی پلس سٹیٹس مل گیا ہے۔ بیس فیصدڈیوٹی فری ہونے کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ معلومات کے خزینے یو ٹیوب سے پابندی اٹھ گئی ہے۔ لوگ سیاسی چپقلشوں میں الجھے رہنے کے بجائے معیشت کے انڈی کیٹر سے حکومتوں کی کارکردگی کو چانچ رہے ہیں۔
حکومت اور عوام میں رابطہ نظر آ رہا ہے۔سمت درست ہو رہی ہے ۔ صحیح منزل کا تعین ہو رہا ہے۔
چند برسوں میں بہت کچھ بہتر ہو گیا مگر ابھی بہت سا کام باقی ہے۔بہت سے سیکٹر ابھی بھی نظر انداز ہو رہے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں ابھی بے تحاشا کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت عامہ کی حالت زار اب بھی ابتر ہے۔کر پشن ابھی بھی جڑ سے ختم نہیں ہوئی۔پولیس کا محکمہ اب بھی من مانیاں کرتا پھر رہا ہے۔ عدالتوں کا نظام بوسیدہ سے بوسید ہ ہوتا جا رہاہے۔
لاکھوں مقدمات دہائیوں سے التوا میں پڑے ہیں۔ فوری انصاف اب بھی خواب ہوتا جا رہا ہے۔ترقی کے ابتدائی ثمرات کا دور افتادہ علاقوں پہنچنا اب بھی ناپید ہے۔ تھر میں اب بھی بھوک اور طبی سہولتوں کی کمی سے بچے مر رہے ہیں۔بے ورزگاری اب بھی اس وطن کے جوانوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ لوڈ شیڈنگ کا عفریت ابھی معیشت اور عوام کی زندگی عذاب کیئے ہو ئے ہے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ اب بھی معیشتوں کا منہ چڑا رہی ہے ۔
غربت اسی طرح غریب پر راج کر رہی ہے۔ زرعی ترقی دن بہ دن خواب ہوتی جا رہی ہے۔عوام ترقی کے ثمرات کے اب بھی منتظر ہیں۔ دہشت گردی میں کمی تو ہوئی ہے مگر اس کا جڑ سے قلع قمع ابھی باقی ہے۔تحفظ اور امن انسان کی بنیادی خواہشات ہیں ان خواہشات کی تکمیل میں ابھی بہت وقت باقی ہے۔
چند برسوں کے بعد زمانہ حال بھی ماضی ہو جائے گا۔ لوگ اس وقت کیا سوچ رہے ہوں گے یہ آج کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ آج وہ ہے جو ابھی ہے اسکو ماضی ہو نے سے پہلے کچھ کر لیں۔
جس جس کو قدرت نے موقع دیا ہے وہ اس ملک کو بہتری کے لیئے بدل دیں۔ پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے۔ کئی دہائیاں سمت کے تعین میں گزر گئی ہیں۔اب جو سمت کا تعین ہو گیا ہے تو منزل سجھائی دینی چاہیئے۔ ترقی دکھائی دینی چاہیے۔ بہتری کا امکان نظر آنا چاہیے۔ ایک باوقار ملک بننا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ یہ بات بھی ماضی ہو جائے یہ قصہ بھی پر انا ہو جائے۔ یہ کردار بھی سوچ سے معدوم ہو جائیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے ہفتہ جنوری کے مزید کالم