میٹرو کا درد

پیر جنوری    |    شاہد سدھو

پنجاب حکومت نے میٹرو بسوں اور اورنج ٹرین کے منصوبے کیا شروع کیے کہ کچھ لوگوں کی حالت غیر ہوگئی۔ میٹرو کا درد کتنا شدید ہے اور اس درد سے کچھ لوگوں کی جو حالت ہورہی ہے وہ پاکستان کے عوام کے سامنے اظہر من الشمس ہے ۔ انکی حرکات و سکنات سے ظاہر ہے کہ میٹرو کا درد اب ان کے دماغوں پر بھی چڑھ چُکا ہے۔ شِکست خوردہ سیاستدانوں اور تنگ ذہن صحافیوں کی پُوری کوشش ہے کہ کِسی طرح پنجاب حکومت میٹرو بسوں کے منصوبے روک دے اور اورنج ٹرین کے منصوبے پر بھی روک لگادے۔
اِن منصوبوں کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے کِسی بھی واقعے اور معاملے کو میٹرو سے جوڑ دِیا جاتا ہے۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں گاوٴں میں فلاں واقعہ ہوگیا اور حکومت کو کوئی فکر نہیں اور یہ میٹرو بنانے میں لگی ہوئی ہے۔

(خبر جاری ہے)

حد تو یہ ہے کہ اگر خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو ملبہ پنجاب حکومت کے میٹرو اور اورنج ٹرین منصوبے پر ڈال دِیا جاتا ہے۔ پختون علاقے کے ایک صحافی نے جو ہر معاملے کو ایک خاص رنگ دینے کے ماہر ہیں ، اپنے حالیہ کالم میں فاٹا کے ترقیاتی بجٹ کو بلا سوچے سمجھے میٹرو بس اور اورنج ٹرین سے جوڑ دیا ، حالانکہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میٹرو اور ٹرین منصوبے پنجاب حکومت کے منصوبے ہیں اور وفاقی بجٹ سے انکا کوئی تعلق نہیں۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد پر رائے زنی کرتے ہوئے شِکست خوردہ سیاستدان بیان بازی فرماتے ہیں کہ جتنی اہمیت حکومت میٹرو منصوبوں کو دے رہی ہے اتنی توجہ نیشنل ایکشن پلان پر نہیں۔ یہ جان بوجھ کر بھولے بنے ہوئے سیاستدان اچھی طرح جانتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے اکثر نکات کا تعلق صوبائی حکومتوں سے متعلق ہے اور صوبائی حکومتوں نے ہی اِس پر عملدرآمد کروانا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب ہی وہ صوبہ ہے جہاں نیشنل ایکشن پلان پر سب سے زیادہ عملدر آمد ہورہا ہے، چاہے یہ دہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن ہوں، کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کی پولیس مقابلوں میں ہلاکتیں ہوں، ہیٹ اسپیچ پر گرفتاریاں اور سزائیں ہوں، لاوٴڈ اسپیکر کے استعمال پر کنٹرول ہو، منافرت پر مبنی کتابوں کی ضبطی ہو، مدرسوں کی جیو فینسنگ ہو، یا ٹیرر فنانسنگ کے خلاف اقدامات ہوں۔
شِکست خوردہ سیاستدان اور تنگ ذہن صحافی بجائے اسکے کہ دوسرے صوبوں کی حکومتوں پر بھی ترقیاتی کاموں کے لئے زور ڈالیں ، پنجاب حکومت کو بھی عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں سے روکنا چاہتے ہیں۔ وہ تمام سیاستدان جِن کے اپنے بچے تو لندن ، دبئی ، ملائشیا اور اسپین کی فضاوٴں میں ہر طرح کی سہولتوں سے فیض یاب ہورہے ہیں اور یہ خود پاکستان میں لگژری گاڑیوں میں دندناتے پھرتے ہیں، پاکستان کے عوام کو جدید اور باعزت سفری سہولیات سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔
عوام کو کنفیوز کرنے کے لئے کبھی ان کے بیانات ہوتے ہیں کہ فلاں جگہ بڑا ہسپتال نہیں ہے تو کبھی فلاں جگہ یونیورسٹی نہیں ہے۔ جبکہ سامنے کی بات ہے کہ بڑے ہسپتالوں ، یونیورسٹیوں، ملازمتوں کی جگہوں، شاپنگ کے لئے بازاروں تک پہنچنے کے لئے سستی اور معقول ٹرانسپورٹ اور اچھی سڑکیں از حد ضروری ہوتی ہیں۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے شہروں میں بہترین پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کام کر رہے ہیں۔
لندن، نیویارک، پیرس، شنگھائی ، ممبئی اور دہلی جیسے شہروں میں اگر چند گھنٹوں کے لئے میٹرو ٹرینیں بند ہوجائیں تو تمام کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہوجاتی ہیں۔ جب کہ ہمارے شہر ہمہ وقت مفلوج حالت میں رہتے ہیں اور ہمارے شِکستہ ذہن سیاستدانوں اور لنڈے کے دانشوروں نے عوام کو باور کروایا ہُوا ہے کہ یہی ہے زندگی اور یہی ہے ان کا نصیب۔ اِس بات میں کِسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر ہمارے شہروں میں بھی بہترین پبلک ٹرانسپورٹ اور بہترین سڑکوں کا نظام بن جائے تو اِس سے معاشی سرگرمیوں میں واضح اضافہ ہوگا۔
ہمارے ازلی حریف بھارت کے آٹھ شہروں میں میٹرو ٹرین کے منصوبوں کا آغاز ہو چُکا ہے ۔ اِن شہروں میں دہلی ، ممبئی، کلکتہ، بنگلورو، گڑگاوٴں، چنائی اور جے پور شامل ہیں۔ جبکہ ناگ پور، حیدر آباد دکن، لکھنئواور کوچی سمیت سات شہروں میں میٹرو زیر تعمیر ہے۔ بھوپال، کانپور، چندی گڑھ، میرٹھ اور پٹنہ سمیت اٹھارہ دیگر شہروں کا منصوبہ منظور ہوچُکا ہے اور پلاننگ کے مراحل میں ہے۔ موجودہ بھارتی حکومت میٹرو ٹرینوں کا سسٹم بھارت کے پچاس شہروں میں قائم کرنے کے منصوبے کا اظہار کر چُکی ہے۔
اِس کے علاوہ احمد آباد، اندور اور سورت سمیت بھارت کے سات شہروں میں لاہور اور پنڈی اسلام آباد میٹرو بس سسٹم طرز کے ریپڈ بس میٹرو سسٹم بھی کام کر رہے ہیں۔ امرتسر، لدھیانہ ، وشاکاپٹنم سمیت نو مزید شہروں میں میٹرو بس سسٹم زیر تعمیر ہے اور چھ دیگر شہروں میں اس طرح کے منصوبے پلاننگ کے مراحل میں ہیں۔
قارئین یقیناً یہ جانتے ہونگے کہ بھارت کے دارالحکومت دہلی شہر کی چھہتر (۷۶) فیصد آبادی کچی آبادیوں یا غیر پلان شدہ بے ہنگم علاقوں میں رہائش پذیر ہے ۔
اِس شہر میں آج بھی تین لاکھ سے زیادہ لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے اور جاگتے ہیں اور یہاں کے سرکاری ہسپتالوں کے آس پاس کے علاقے اور گلیاں سیکڑوں مریضوں اور اُن کے تیمار داروں کا ٹھکانہ ہیں۔اِن دنوں بھی معروف بھارتی ٹی وی چینل نے دہلی اور ممبئی کے لاکھوں بے گھر، فٹ پاتھ کے مکینوں کو سردی اور ٹھٹھر کر مرنے سے بچانے کے لئے کمبل اکٹھا کرنے کی مہم شروع کی ہوئی ہے۔ چالیس کروڑ سے زائد بھارتی عوام بجلی کے کنکشن سے محروم ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت بچوں کی غذائیت کے معاملے میں پاکستان اور بنگلہ دیش سے بھی کہیں پیچھے سب صحارا افریقی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔ اِس سب کے باوجود تعمیرو ترقی کا سفر جاری ہے اور کہیں سے یہ آواز نہیں آتی کہ جب تک خطِ غربت سے نیچے زندگی گذارتے چالیس فیصد بھارتی عوام دو وقت کی روٹی کھانا شروع نہیں کر دیتے اُس وقت تک عوامی بھلائی کا کوئی منصوبہ نہیں بننا چاہئیے۔
اگر ۶۵ سالوں کے بعد کہیں کوئی اچھی ابتداء ہوئی ہے تو اُس کی تعریف کرنی چاہئیے اور اس سے بھی بہتر منصوبوں کے لئے حکمرانوں کو مجبور کر نا چاہئیے۔
سندھ کی حکومت کو کراچی میں میٹرو ٹرین اور میٹرو بسوں کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ اپنے ہم عصر شہروں کے مقابلے میں کراچی بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ حیدر آباد ، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی میٹرو بسوں کے منصوبے شروع ہونے چاہئیے۔ پشاور، ایبٹ آباد، مردان اور ڈی آئی خان میں بھی میٹرو بس سسٹم کا آغاز ہونا چاہئیے۔ کوئٹہ کو بھی میٹرو سسٹم کی ضرورت ہے۔ پنجاب حکومت کو فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، بہاولپور اور سرگودھا میں بھی میٹرو بس سسٹم قائم کرنا چاہئیے۔
لاہو ر ، راول پنڈی اسلام آباد اور ملتان میٹرو بس سروس، لاہور ٹورسٹ بس سروس اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے نہ صرف عوام کے لئے فائدہ مند ثابت ہونگے بلکہ یہ پاکستان کا دنیا بھر میں بہتر امیج قائم کر نے میں بھی معاون ثابت ہوں گے اور بیرونی ممالک سے سیاح بھی پاکستان کو ایک بہتر ملک سمجھتے ہوئے یہاں کا رُخ کریں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے اتوار جنوری کے مزید کالم