یہ بھی تو دہشت گردی ہے

بدھ جنوری    |    حافظ ذوہیب طیب

یہ اللہ کاعذاب ہے یا ہماری کارستانیوں کی سزا کہ ہم پر ایسے اندھے، بے حس اور ظالم حکمران مسلط ہیں جنہیں اپنی ذات کے سوا اور کچھ دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔ ملک کے اثاثوں کو گدھوں کی طرح نوچتے ، ہڑپ کرتے اور اپنے سوئس بنک کے کھاتوں کو بھرتے ان لوگوں کی آنکھیں کرپشن سے آگے دیکھنے کو تیار نہیں۔ درندے آتے ہیں ، معصوم لوگوں کو اپنی حو س کا نشانہ بنا تے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں ۔ لیکن مسند اقتدار پر بیٹھے یہ لوگ اپنی روش سے ٹس سے مس ہو نے کو تیار نہیں ہوتے ۔
لوگ مرتے ہیں تو مریں، بچے یتیم ہوتے ہیں تو ہوں، سہاگ اجڑ تے ، شہر خاک و خون کا منظر پیش کرتے اور بارود کی بو اور خون کی لالی انسانوں کو نفسیاتی مریض بنا رہی ہو ، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ، کوئی سروکار نہیں ، کوئی پریشانی لاحق نہیں ۔

(خبر جاری ہے)


اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کیا ہو گی کہ ہمارے حکمران بھی دہشت گردوں کی طرح معصوم اور بے گناہ لوگوں پر قہر بن کر ٹوٹتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ گولیوں اور بارود سے لوگوں کے سینوں کو چھلنی کرتے ہیں اور یہ بھوک و افلاس سے سسکتے، ننھے منے معصوم بچے جو کسی ماں کے جگر کے ٹکڑے ہو تے ہیں کو قحط میں مبتلا کر کے موت کی وادی کا مسا فر بنا دیتے ہیں ۔

دہشت گرد ایک نہ ایک روز اپنی بزدلانہ کاروائی کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں لیکن نشہ حکمرانی میں مبتلا یہ لوگ اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں اور نالائقیوں کی وجہ سے مر نے والے معصوموں کی ذمہ داری قبول کر نے کی بجائے بے شرمی کی غلاظت میں ڈوبے ایسے یسے بیان صادر کرتے ہیں کہ بجائے لوگوں کے زخموں پر مرہم بنے، نمک اور مرچیں چھڑکنے کا کام دیتے ہیں۔
قارئین !صحرائے تھر ، ریگستان کا وہ علاقہ ہے جس کے ریت کے ذروں میں سورج کی کرنیں دکھائی دیتی تھیں۔
بارش ہونے کے بعد یہ علاقہ جنت نظیر کا سماں پیش کرتا تھا ۔رقص کرتے مور اور اونٹوں کے گلوں میں بندی گھنٹی کی دلکش آواز ایک خوبصورت منظر پیش کر رہی ہو تی تھی ۔اپنے روایتی لباس زیب تن کر کے یہاں کی خواتین اپنے مخصوص انداز میں سر پر گھڑا رکھ کر اور ہاتھوں کو دیدہ زیب چوڑیوں سے سجا کر گھومتی نظر آتی تھیں ۔لیکن افسوس!حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے تھر میں پچھلے تین سالوں سے رقص کرتے موروں کی جگہ بچوں کی موت کا رقص جاری ہے جسکی وجہ سے سیکڑوں کلیاں مر جھا چکیں ،جسکی وجہ سے اونٹوں کے گلوں میں بندھی گھنٹیوں کی دلکش آواز بھی سنائی نہیں دیتی ہیں۔
مائیں دیوانوں کی طرح ،بے بسی کے عالم میں اپنے بچوں کی طرف دیکھتی اور اس سوچ میں دکھائی دیتی ہیں کہ نا جانے کب موت ان کے گھر پر دستک دے دے؟۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں اس وقت بچوں کی تعداد کل آبادی کا 37فیصد حصہ بنتا ہے ۔اور ان ساڑھے 6کروڑ بچوں میں سے ہر تیسرا کسی نہ کسی صورت میں غذائی قلت کا شکار ہے ۔تھر میں ہر سال قحط سالی اور غر بت کی وجہ سے مر نے والے بچوں کا قصور یہ ہے کہ یہ خط غر بت سے بھی نیچے زندگی گذارنے والوں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں اور اس ناکردہ جرم کی پاداش میں غذا کی کمی یا پینے کا صاف نہ ہو نے کے باعث تھر کی چمکتی ریت کے ڈھیر تلے سو جاتے ہیں ۔

قارئین کرام ! خوراک، صحت اور تعلیم وہ بنیادی ضرورت ہے جسکی فراہمی ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ بھوک نہیں صرف پیاس کے حوالے سے تو حضرت عمر فاروق کا وہ تاریخی جملہ ” اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو قیامت کے روز مجھے اس کا حساب دینا پڑے گا“حکمرانوں کو چیخ چیخ کر اپنے روئیوں پر غور کر نے کی دعوت دیتا ہے لیکن وہ جن کے جسم میں دوسروں کا درد محسوس کرتے، دوڑتے پھرتے خلیے ، کرپشن اور حرام خوری کی وجہ سے مردار ہو چکے ہوں وہ بھلا اس تاریخی جملے پر کہاں کان دھریں گے؟ صحت کی ایسی مخدوش صورتحال کہ یہاں لوگوں کی عذاب ہوتی زندگی میں آسانیاں پیدا کر نے کی کوشش میں مصروف معروف سماجی رہنما ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے بقول:جب ہمیں تھر کے مختلف گوٹھوں میں جانے کا اتفاق ہوا تو رات گئے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا جس کے پاس ایک چھوٹی سی صندوقچی تھی جس میں چار پانچ قسم کی گولیاں وغیرہ تھیں۔
استفسار پر اس نے بتا یا کہ وہ ساتھ ساتھ کے چار پانچ گوٹھوں میں جا کر بیماروں کا علاج کر تا ہے ۔ ان پانچ گوٹھوں میں کسی قسم کی طبی سہولت نہ ہو ے کی وجہ سے ایک گوٹھ کی باری 2دن بعد آتی تھی اور ان سب گوٹھوں میں ہونے والی تما م بیماریوں کا دارومدار اس صندوقچی پر تھا“۔
قارئین محتر م !سائیں سر کارکہ عمر کی وجہ سے ان کے حواس اب قائم نہیں رہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو ان کے صوبے میں بچے قحط کی وجہ مر رہے ہیں اور وہ صرف بیانات داغنے کے علاوہ اور کچھ کرتے دکھائی نہیں دے رہے ۔ میرے نزدیک اس غذائی دہشت گردی میں جہاں سندھ حکومت ، روٹی کپڑا ،مکان پر سیاست کر نے والے بلاول بھٹو سمیت وفاقی حکومت بھی برابر کی شریک دکھائی دیتی ہے جو اس سارے خونی تماشے پر خاموش تماشائی بنے اپنے حصے کی ذمہ داری بھی ایسے لوگوں پر ڈالے بیٹھی ہے جو اندھے ہیں ، بے حس ہیں اور ظالم ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے بدھ جنوری کے مزید کالم