”عبداللہ آزاد ہے“

بدھ جنوری    |    مولانا شفیع چترالی

”عبد اللہ آزاد ہے“ دیکھنے میں تو ایک کتاب، ایک کہانی، ایک سفر نامہ یا ایک رپورتاژ ہے جو ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی سائنسدان باپ کے امریکا میں خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ہونہار اور لائق فائق بیٹے کی داستان الم پر مبنی ہے مگر درحقیقت ان ہزاروں مسلمان خاندانوں کا مقدمہ ہے جو نائن الیون کے بعد آزادی اورا نسانی حقوق کے علم بردار ملک امریکا میں انتہائی کرب ناک حالات سے دوچار کیے گئے۔
یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ نائن الیون کے بعد کس طرح مغرب کے چہرے سے آزادی، انصاف، انسانی حقوق اوررواداری کا” میک اپ“ اترا اور بکیسے امریکی عدالتوں اور حراست خانوں میں ہزاروں نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلا گیا اور ان کے خاندانوں کو اذیتوں اور مصائب کا نشانہ بنایاگیا۔

(خبر جاری ہے)


”عبد اللہ آزاد ہے“ایک دل چسپ اور معنی خیز ترکیب ہے۔اس فقرے کا پہلا لفظ” عبد اللہ“ بظاہر آخری حصے” آزاد ہے“ سے متعارض نظر آتا ہے کیونکہ ”عبدیت“ کا معنی ہوتا ہے بندگی اور غلامی۔

”عبد“ آزاد نہیں ہوتا، اس کے گلے میں عبدیت کا طوق ہوتا ہے، جب عبدیت کا اعتراف کرلیا تو کونسی آزادی، کہاں کی آزادی؟ مگر یہی وہ نکتہ ہے جو سمجھنے کا ہے۔دنیا میں سب سے بد ترین غلامی یہ ہوتی ہے کہ بندہ اپنے نفس اور خواہشات کا غلام بن جائے۔جو” عبد اللہ“ بن جاتا ہے وہی درحقیقت آزاد ہوجاتا ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر اسی نکتے کی تشریح کرتا ہے کہ ب #
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
علامہ اقبال نے ایک فارسی شعر میں اس نکتے کو مزید واضح الفاظ میں بیان کیا ہے، وہ فرماتے ہیں ب #
عقل گوید شاد شو، آباد شو
عشق گوید بندہ شو، آزاد شو
عقل کہتی ہے دنیاوی آسائشوں کے ساتھ خود کو خوش اور آباد رکھو جبکہ عشق یہ کہتا ہے کہ اللہ کا سچا” بندہ “بن جاو اور ”آزاد“ رہو۔
گویا اقبال کے نزدیک قلب و دماغ کی آسودگی و آزادی کے لیے آسائشوں اور خواہشات کی قربانی دینا ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان” عبد اللہ“ بن جاتا ہے تو اس کی سوچ کی پرواز بہت بلند ہوجاتی ہے۔ وہ زمان و مکان کی قید سے ماورا اور آفاقی بن جاتا ہے۔اقبال نے اس کو بھی نہایت خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے #
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
اسلام کی نظر میں”عبدیت “وہ تاج ہے جو کسی بھی مخلوق کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے لیے بھی ”عبدہ“ پہلے اور ”رسولہ“ بعد میں کہا گیا ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ”روح اللہ“ کا لقب عطا کیا گیا کیونکہ وہ کسی انسان کے نطفے سے پیدا نہیں ہوئے، ان کے بے شمار معجزوں میں ایک معجزہ ان کا شیر خوارگی میں کلام کرنا بھی ہے، اس معجزے میں ان کی زبان مبارک سے جو پہلا جملہ نکلا وہ ” انی عبداللہ“ تھا۔
آزادی کے اسلامی نظریے اور مغرب کے تصور آزادی میں بڑا فرق ہی نہیں بلکہ یہ براہ راست متصادم نظر آتے ہیں۔
مغربی نظریے کے تحت انسان کو صرف مادی و جسمانی خواہشات کی تکمیل کی آزادی حاصل ہے،آزادی کا یہ تصور انسانیت کو جہاں تک لے کر جاتا ہے، اس کا مشاہدہ ہم آج کے مغربی معاشرے کی اخلاقی صورتحال سے کر سکتے ہیں۔
”عبداللہ آزاد ہے“ ایک ایسے نوجوان کی داستان ہے جو مغربی معاشرے میں عبدیت والی آزادی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہے، یہ نوجوان مغربی معاشرے کی ان خوبیوں کا بھی معترف ہے جو اس کی نظر میں مغرب کی موجودہ ترقی و بالادستی کا باعث اور جو انسانیت کے مثبت اور تعمیری ارتقاء کی علامت ہیں مگرپھر اس نوجوان کا واسطہ ان تضادات سے پڑتا ہے جوخودآزادی کے مغربی تصور سے بھی متصادم ہیں۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے انسانیت کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھنے والا یہ ذہین نوجوان محض اپنے آبائی و مذہبی تشخص کی وجہ سے امریکی ایجنسیوں کی ایک انتہائی بھونڈی سازش کے تحت گرفتار کرلیا جاتا ہے اور اپنی نوخیز جوانی کے انتہائی قیمتی ساڑھے سات سال حراست کی اذیت ناکیوں کی نذر کردینے پر مجور ہوجاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ نوجوان ٹوٹتا نہیں ہے بلکہ اس کا کہنا یہ ہے کہ حراست کے اس عرصے میں اس نے وہ کچھ سیکھا اور جانا ہے جو باہر کی دنیا میں شاید نہ سیکھ پاتا۔

یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں ہے بلکہ اس وقت بھی ہزاروں نوجوان امریکی جیلوں اور حراست خانوں میں اسی طرح جرم بے گناہی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ امید ہے کہ”عبد اللہ آزاد ہے“ ان نوجوانوں کی آواز دنیا تک پہنچانے میں مدد دے گی۔میں آخر میں یہ گزارش بھی کروں گا کہ نائن الیون کے بعد مغرب میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے ان حالات کا ایک سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملک اور معاشرے کی ایسی تعمیر کرنی چاہیے کہ ہمارے بہترین اذھان تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے باہر جانے کی ضرورت محسوس نہ کریں۔ ہمیں ”برین ڈرین “ کے اس سلسلے کو روکنا ہوگا جو ہماری ترقی واستحکام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔(فاران کلب کراچی میں سید فراست شاہ کی کتاب ” عبد اللہ آزاد ہے“ کی تقریب رونمائی میں پڑھاگیا )
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

مولانا شفیع چترالی کے بدھ جنوری کے مزید کالم