’اجڑے باغ‘گالڑراکھے

جمعہ جنوری    |    میاں محمد ندیم

ایک انجانے خوف کی فضاء ہے پوری دنیا اضطراب کا شکار ہے مگر نوح انسانی کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والی چھوٹی سی اقلیت اپنے کھیل تماشوں میں مگن ہے‘کوئی دورے کررہا ہے توکہیں الیکشن کی گہماگہمی ‘کہیں جنگوں کی تباہی تو کہیں امن وشنانتی کے کھولے نعرے ‘حقیقت کیا ہے یہ کوئی بتانے کو تیار نہیں ‘جھوٹ کی دھول اتنی ہے کہ سچ نظرنہیں آرہا‘مگر اس میں قصور صرف ایک فیصد اقلیت کا نہیں بلکہ اس اکثریت کا ہے جو خاموش تماشائی بنی تباہی اور بربادی کے مناظرکو دیکھ رہی ہے ‘دنیا کا”مہذب“ترین ملک کہتا ہے کہ اہل مغرب کی لگائی آگ سے بچنے کے لیے گھربار چھوڑنے والوں سے ان کا سب کچھ چھین کر ضبط کرلو اور دنیا خاموش ہے‘اقوام متحدہ کی سرگوشی سی سنائی دیتی ہے کہ انسانوں کے ساتھ ایسا انسانیت سوزسلوک نہ کرو مگر اس کی پرواہ کسے ہے؟اسی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود امریکہ عراق پر چڑھ دوڑتا ہے مگر عالمی ضمیرسویا رہتا ہے‘افغانستان سے شروع ہونے والی تباہی اور بربادی کی یہ داستان پورے مشرق وسطی کو آگ اور خون میں دھکیل دیتی ہے مگر خاموشی چھائی رہتی ہے اقوام عالم کی اس نام نہاد نمائندہ تنظیم میں ‘اسی اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی اور شرمناک کردارکی وجہ سے ظالموں کو شہ ملتی ہے اور وہ ایک کے بعد ایک ملکوں‘شہروں اور بستیوں کو برباد کرتے چلے جاتے ہیں اور ان کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں‘داعش جیسے غیرریاستی عناصر کی دہشت اپنی جگہ مگر جو دہشت گردی ریاستیں اقوام متحدہ کے پرچم تلے کررہی ہیں ان کا حساب کون لے گا؟وہ عالمی عدالت انصاف جس کے اختیار کوکوئی طاقتور ملک مانتا نہیں اوروہ پسماندہ ممالک پر رعب جھاڑتی پھرتی ہے‘دہشت گرد قراردیئے جانے کے ڈرسے دنیا کی کتنی اقوام اور ملک بلیک میل ہورہے ہیں اس کا اندازہ ہے کسی کو؟دنیا کی کل دولت کا 99فیصد ایک فیصد اقلیت کے ہاتھوں میں جاچکا ہے یعنی کہ دنیا کی 99فیصد آبادی کے حصے میں دنیا بھر کی کل دولت کا صرف 1فیصد آتا ہے ہوس کے پجاری دنیا کا امن برباد کررہے ہیں ‘وہ عام آدمی سے آخری نوالہ بھی چھین لینے کے درپے ہیں یہ گھناؤنی حقیقت ہے اس دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ کی‘دہشت گردی کے نام پر ریاستیں اورعالمی اتحاد دنیا بھر میں ”اقتصادی دہشت گردی“کررہے ہیں ‘معاشی عدم مساوات دنیا میں خوفناک رجحانات کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہے معاشی بدحالی ‘بیروزگاری اور مہنگائی کی شرح میں اگرچہ دنیا بھر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے مگر پسماندہ ممالک اس سے زیادہ متاثرنظرآتے ہیں جو کہ ایک فطری عمل ہے ترقی پذیراور غربت کا شکار ممالک میں جہاں جرائم کی شرح خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے وہیں کرپشن نے ان معاشروں کو جڑوں سے ہلاکررکھ دیا ہے ‘ترقی پذیراور غریب ممالک ایک طرف ترقی یافتہ ممالک میں اعلی تعلیم‘صحت حتی کہ پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات عام شہریوں کی پہنچ سے دورہوتی جارہی ہیں ‘عالمی ادارہ صحت کے مطابق فارماسوٹیکل انڈسٹری دنیا میں سالانہ 500ارب ڈالر سے زیادہ کمارہی ہیں ان میں 10کمپنیاں ایسی ہیں جو دنیا کی اس بڑی انڈسٹری کے دوتہائی حصے کی مالک ہیں جن میں سے6کا تعلق امریکہ سے ہے یہ کمپنیاں آن دی ریکارڈ30فیصد منافع کماتی ہیں مگر آزاد ذرائع کے مطابق منافع کی شرح50فیصد بھی زیادہ ہے جو کہ ڈبلیو ایچ اوکے مطابق ”وحشیانہ“ہے اس گھناؤنے دھندے میں حکومتیں اور برسراقتدارطاقتور شخصیات ملوث ہیں مگر ہماری تان ڈاکٹروں پر جاکرہی ٹوتی ہے جنہیں یہ کمپنیاں محض چند مونگ پھلیاں ہی دیتی ہیں ‘دنیا کی سب سے انڈسٹری فوڈ ہے جس کا والیم ہزاروں ارب ڈالرزسالانہ ہے اور اس میں منافع کی شرح 50سے60فیصد کے درمیان ہے جس میں سالانہ 4سے6فیصد تک اضافہ ہورہا ہے یعنی آنے والے 25سالوں میں ایک عام انسان کے لیے خوراک کا حصول تقریبا ناممکن ہوجائے گا‘حکومتوں کی جانب سے عام شہریوں پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جارہا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں عام شہریوں کا جینا اجیرن ہورہا ہے‘پاکستان (دنیا کا وہ ملک جس میں روزانہ کی بنیاد پر15ارب روپے سے زیادہ کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں)کا ہی جائزہ لیا جائے تو وطن عزیزمیں ہرشہری مختلف براہ راست اور بلاواسط ٹیکسوں کی مد میں اپنی آمدن کا30فیصد سے زائدحکومت کو دے دیتا ہے جو دنیا میں ٹیکس کی بہت بڑی شرح ہے جبکہ اس کے مقابلے میں وطن عزیزکے شہریوں کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں حکومت کی مفت تعلیم صرف سالانہ اربوں روپے خرچ کرکے میڈیا پر کی جانے والی اشتہار بازی تک محدود ہے کیونکہ سرکار کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی تعداد آبادی کے ساتھ بڑھنے کی بجائے ”پرائیویٹ ایجوکیشن مافیا“اور حکومتی اداروں کی ملی بھگت سے کم ہوتی چلی جارہی ہے لاہور کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوزکرچکی ہے جوکہ1980کی دہائی میں 35لاکھ نفوس پر مشتمل تھی مگر سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ ہونے کی بجائے کمی واقع ہوئی ہے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے بڑے پیمانے پر بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی(اربنائزیشن)کی ایک بڑی وجہ پسماندہ علاقوں میں تعلیم ‘ صحت اور کی سہولیات کی کمی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ابھی تک نہیں ہوسکا کہ بڑے شہروں کے مسائل بھی بڑے ہوتے جاتے ہیں یہی حکمت تھی نبی کریم ﷺ کے فرمان میں کہ ”شہروں کو بڑھنے نہ دو‘شہربڑھنے لگیں تو نئے شہربسالو“مگر ان عقل کے اندھوں کو یہ سادہ سی بات کون سمجھائے کہ جتنے چھوٹے یونٹس ہونگے ان کا انتظام سنبھالنا بھی اتنا ہی آسان ہوگا-سابق فوجی آمرپرویزمشرف کے 9سالہ دور کے علاوہ برسراقتدارجماعت مسلم لیگ(ن)1980سے آج تک کسی نہ کسی صورت میں پنجاب کی حد تک اقتدار میں رہی ہے اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)کے تحت شہرمیں کئی بڑی رہائشی سکیمیں شریف بردران کے دوراقتدارمیں بنیں صرف ان میں سے تین رہائشی سکیموں علامہ اقبال ٹاؤن‘جوہرٹاؤن اور سبزہ زار کا ہی جائزہ لے لیں تو آپ کو حکمران طبقے کے ویژن کا اندازہ ہوجاتا ہے یہ سکیمیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئیں پلاٹ گنے ہوئے تھے اس کے باوجود آبادی کے مقابلے میں صحت اور تعلیم کی سہولیات میں کمی کا ایک بڑا خلاء نظرآتا ہے لاہور صرف ایک مثال ہے باقی صوبے یا ملک کا کیا ہوگا اس کا اندازہ ”دیگ کے اس ایک دانے“سے ہی ہوجاتا ہے---کسی نے کیا خوب جملہ کہا تھا”اجڑے باگاں دے کالڑراکھے“
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

میاں محمد ندیم کے جمعرات جنوری کے مزید کالم