ملنگ اور دبنگ

جمعہ جنوری    |    ندیم تابانی

”مدت ملازمت میں توسیع کی خبریں بے بنیاد ہیں ، توسیع لینے پر یقین نہیں رکھتا ،مقررہ ووقت پر ریٹائر ہو جاؤں گا“چیف آف پاک آرمی جنرل راحیل شریف نے دو ٹوک اعلان کر دیا ۔گزشتہ کئی ماہ سے خواہ مخوا کی بحث جاری تھی ، خود کو باخبر سمجھنے والے بھی اس رو میں بہکتے جا رہے تھے، کچھ لوگ ایسے بھی تھے ، جو دل کے پھپھولے پھوڑ رہے تھے ، اپنی بے بسی اور خواہشات کا اظہار کر رہے تھے،ان میں شیخ رشید پیش پیش تھے ، جنہوں نے ”عوامی “ خواہشات کی ترجمانی کرتے ہوئے کئی بار جنرل سے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی فرمائش کی ۔
ایسی ہی فرمائش ”مش ماموں “ نے بھی کی تھی ، جنرل کے آتے ہی الطاف حسین نے بھی کئی بار دہائی دی لیکن جنرل کے تیور دیکھ کر چپ سادھ لی ۔

(خبر جاری ہے)

عمران خان کی تو جنرل راحیل کی کھڑی انگلی دیکھنے کی آرزو میں آنکھیں سفید ہو گئیں اور سیٹی کی آوازیں سننے کے لیے کان تڑپ تڑپ گئے۔ دبے دبے نہیں کھلے کھلے لفظوں میں زبان بھی کئی بارفرمائش اور خواہش کرتی رہی۔
شیخ رشید نے چار قدم آگے بڑھ کر یہ بھی کہہ دیا تھا، جنرل راحیل نے جو کرنا ہے اپنے زمانہ چیفی میں کردیں ، میاں نواز شریف انہیں توسیع نہیں دینے والے ۔

شیخ کی یہ بات بھی خبر نہیں خواہش اور فرمائش تھی ،اکسانے کی ایک کوشش تھی ،ویسے ایک معنی میں یہ خبر بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ شیخ جی کو میائیں مزاج کا پتا بھی ہے میاں مزاج پر نظر رکھنے والے سبھی یہ کہہ رہے تھے کہ جنرل راحٰیل کو توسیع نہیں دی جائے گی۔ البتہ ان میں بہت سوں کی خواہش تھی کہ جنرل راحیل توسیع اپنا پیداشی اور آّئینی حق سمجھ کر چھین لیں۔ میاں جی نے واقعی توسیع نہیں دینا تھی زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا تھا ، کہ میاں ایک آدھ مرتبہ پوچھ لیتے ” جنرل راحٰیل آپ توسیع تو نہیں لیں گے نا !، میرا خیال ہے لینی بھی نہیں چاہیے ، زمانہ عروج میں ریٹائر منٹ ہی آپ کے لیے اعزاز ہے “
####
ایک غم دور ہوا تو ایک اور غم لگ گیا ، مبصرین اور ماہرین نے اب اس پر بحث شروع کر دی ہے کہ اگلا چیف کون ہو گا۔
سینئیر ترین جنرلوں کی فہرست شائع کی جا رہی ہے ۔ ان کی خدمات پر نظر ڈالی جا رہی ہے ، میاں جی کے مزاج کو بھی سونگھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، بہت سے ماہرین اور خیر خواہان یقینا بن مانگے مشورے بھی دیں گے ،لیکن میاں جی نے کرنا وہی ہے جو ان کے من کو بھائے ۔آنے والے بندے کے لیے جنرل راحیل کے دبنگ مزاج کا بھی لحاظ رکھنا ہو گا، سوچا رہا ہے کہ کیا کوئی اتنا دبنگ بھی ہو سکتا ہے ملنگ آرمی چیف کے فورا بعد دبنگ آرمی چیف نے پورے ملک کا ماحول الگ ہی کر دیا ، اس لیے اب دبنگی اور ملنگی کے بیچوں بیچ ایسا بندہ ڈھونڈا جا ئے گا، جو اپنے کام سے کام بھی رکھے اور حکومت کے کام بھی آتا رہے۔

####
جنرل راحٰیل کے اعلان سے بہت سے چہرے مرجھا گئے ہیں ، ان میں ایک چہرہ پرویز مشرف کا بھی ہے ، بہت سے لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ راحٰل شریف نے ”نو ماہ“ پہلے ہی کیوں اعلان کردیا، کیا یہ حکومت کو اطمینان دلانے کے لیے ہے کہ تم جو چاہو ، جیست چاہو کر لو ، ہم ٹانگ نہیں اڑائیں گے ، ادھر حکومت غافل ہو گی ، اُدھر ٹانگ اڑ جائے گی اور دھڑام ہو جائے گی ، یقینا اس کو بہت سے لوگ مفروضہ بھی قرار دیں گے اور بہت سے اس کے حق میں دور دور کی کوڑیاں لائیں گے۔
ظاہر ہے روٹی روزی حلال کرنا بھی تو ضروری ہے ، جن کا کام ہی تبصرہ ، تجزیہ کرنا ہے وہ بے چارے کچھ نہ کچھ تو کریں گے ، یہ کریں تو پھر کیا کریں ۔
####
پی پی کے سیکر ٹری اطلاعات اور پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات رہنے والے قمر زمان کائرہ نے انکشاف کیا ہے کہ جنرل کیانی کی مدت ِ چیفی میں توسیع میں امریکی رضا شامل تھی، کائرہ جی کی بدولت یہ مقبول فیصلہ نہیں تھا، مسٹر کیانی کا امیج خراب ہوا، کائرہ جی یہ وضاحت بھی کر دیتے کہ سیاسی سوجھ بوجھ میں چمپین مانے جانے والے بوجھ بھلکڑ مسٹر زرداری نے ایسا غیر مقبول فیصلہ کیوں کیا تھا جمہوریت کا پرچار کرنے والوں کو ایسی حرکت کیوں کرنا پڑی ؟ اس میں کس کا فائدہ تھا ، بلکہ کس کس کا فائدہ تھا ۔
امریکی رضا کی اہمیت کیا ہے اور کیوں ہے امریکی رضا ہی تھی نا حکم تو نہیں ۔ دوسری جانب فاقی وزیر عبد القادر بلوچ کہتے ہیں آرمی چیف نے وقت سے بہت پہلے بہت بڑی بات کہہ دی ، یہ فیصلہ تو بیس کروڑ عوام کو کرنا ہے ۔ جی بلوچ صاحب! درست فرمایا آں جناب نے آج تک پاکستان کے سارے فیصلے ”عوام “ ہی کیا کرتے رہے ہیں،پھر ان فیصلوں کو ماما اوباما یا ان کے پیش رو کرتے آئے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ندیم تابانی کے جمعرات جنوری کے مزید کالم