کاش ! !!

اتوار جنوری    |    قاری عبدالرحمن

پاکستان کا نام، اس کی آزادی اور اڑسٹھ سال گزرنے کے باوجود دنیا کے نقشے پر اس کا وجود ہی دشمنوں کے سینے پر سانپ لوٹنے کے مترادف ہے، چھپے اور کھلے دشمنوں نے اول روز سے اس کو مٹانے کے لیے جو کمر کسی ہے تو آج تک اپنی کیے کو جاری رکھے ہوئے ہیں، پاکستان کو نقصان پہنچانے، اس کو تباہ کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر سب ایک ہیں یہ الگ بات ہے کہ سب کے طور طریقے اپنے اپنے ہیں کوئی زہر دے کر مار رہا ہے کوئی فقط گڑ کھلا کر مارنا چاہتا ہے۔
کوئی سینے پر وار کر رہا ہے تو کسی نے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی ذمے داری اٹھا رکھی ہے۔ پرایوں سے کیا گلہ کچھ اپنے بھی ایسے ایسے گل کھلاتے ہیں کہ دشمن بھی دنگ رہ جاتا ہے ۔ یہ گل کوئی تو سادگی میں کھلاتا ہے اور کوئی ذاتی مفادات کے لیے۔

(خبر جاری ہے)


جب سے پاک چین اقتصادی راہ داری کی بات چلی ہے ،تب سے تو ایک ایک دشمن کی حالت ناگفتہ بہ ہے، ان دشمنوں میں کچھ اپنے” دوست“ بھی پیش پیش ہیں اور ان میں وہ بھی سر فہرست ہیں جو مائی باپ اور سرپرست کا درجہ رکھتے ہیں اور جو کھلے دشمن ہیں ان کا تو کہناہی کیا! ایک طرف دشمنوں نے یہاں دہشت گردی کا طوفان اٹھا رکھا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو اندرونی اور بیرونی بے شمار سازشوں میں الجھا دیا ہے ،یوں لگ رہا ہے ایک جیسے ایک جال بُن دیا گیا ہو ، سیاسی اور عسکری قیادت کو اس نظر نہ آنے والے جال میں پھنسا دیا گیا ہے ۔

بلا شبہ سیاسی اور عسکری قیادت کی توانائی اور وسائل کا ایک بڑا حصہ محض اس جال کو تار تار کرنے کی کوششوں میں صرف ہو رہا ہے ۔
دشمن نے تو یہی کرنا ہے ،اس کا کام دشمنی کرنا ہے ، اس نے جب خود کو پاکستان اور اس کے وسائل اور طاقتوں کا دشمن بنایا ہے تو اس دشمنی کی جو شکل جو صورت اسے اچھی لگے گی ،اس کے خیال میں جس طرح پاکستان زیادہ کم زور ہوگا ، اس کی طاقت تقسیم در تقسیم ہو کر ختم ہو گی،دشمن وہ کرے گا، ہم دشمن سے نہ تو یہ تقاضا کر سکتے ہیں کہ وہ دشمنی چھوڑ ے نہ اس سے یہ فرمائش کر سکتے ہیں کہ بھلے تم ہمیں نقصان پہنچاؤ ، لیکن پلیز اس کا روٹ ، راستہ اور طریقہ یہ رکھو ، جب بھی کچھ کرنا چاہو ہمیں بتا دیا کرو تا کہ ہم اس کے توڑ کا سامان کر دیا کریں۔
دشمن سے کسی بھلے یا نرمی کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔اس لیے ہمیں دشمن کی چالوں کے خلاف بولنے لکھنے اور اسے نصیحت کرنے اور اسے بھلے کا سبق دینے کی بجائے اس سے بچاؤ کی تدبیریں اختیار کرنی چاہییں۔
ہر شخص جس میں تھوڑی بہت بھی سوجھ بوجھ ہو ، وہ یہ سمجھتا ہے دشمن کے مقابلے میں کامیابی کے لیے سب سے پہلا اور سب سے مئوثر ہتھیار ملی وحدت اور اتفاق ہے۔ دشمن تو خیر سے اتنا چالا ک ہے اس نے ہمیں توڑنے پھوڑنے اور ختم کرنے کے لیے جس پہلو پر سب سے زیادہ نظر رکھی وہ ہمارا اتفاق و اتحاد کا پہلو ہی ہے ۔
اس نے یہ طے کر رکھا ہے ہمیں آپس میں لڑا لڑا کر اور الجھا الجھا کر مارے گااور ہم اتنا سادہ لوح اور بھولے بھالے ہیں کہ پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی گودس میں گرتے جا رہے ہیں ، اس نے ہمیں یہ حساس دلایا اور سمجھایا ہے کہ وہ ہمارا سدا کاخیر خوا اور بھلا چاہنے والا ہے اور اس نے ہم میں سے ہر ایک کو بھی یہ سمجھا اور سکھا دیا ہے کہ فلاں اس کا دشمن ہے ۔ اس کے پڑھائے اور سکھائے سبق کو ہم نے اتنا ڑٹا ہے کہ اب سانس کی طرح یہ سبق بھی ہماراحصہ بن گیا ہے ۔

مذہبی اختلاف تو خیر ایک الگ مسئلہ ہے اس نے ہمیں یقینا دیمک کی طرح چاٹا ہے ، پارا پارا کردیا ہے اور اس کا رونا روتے ہمارے کئی خیر خوا اور بڑے قبروں میں اتر چکے لیکن ہم نے خود کو ان سے بہتر عالم سمجھا اور اس بابت کبھی کسی کو خاطر میں نہیں لائے ، لیکن اس مذہبی اختلاف سے کہیں زیادہ مہلک سیاسی اختلاف ہے، کیوں کہ ایک تو مذہبی اختلاف مسجد ، مدرسے اور ان کے متعلقات تک محدود رہتا ہے اور دوسرا یہ کہ ملک کی باگ ڈور اسی سیاسی قیادت کے ہاتھ ہے،جس کا ایک ہونا لازم اور ضروری ہے اس لیے کم از کم قومی معاملات اور مسائل و وسائل پر ہم سب کی ایک آواز اور ایک نعرہ ہونا چاہیے
لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے طے کر رکھا ہے اپنے ذاتی اور جماعتی مشترک مفادات کی خاطر ایک ہو جائیں گے ۔
مل کر حکومت کرنا مل بانٹ کر کھانا اور کھیلنا ہمارا مشترکہ ہدف ہوگا، لیکن کسی قومی مسئلے پر ایک نہیں ہوں گے ۔ کالا باغ ڈیم کب سے متنازعہ ہوا،چلا ہی آرہا ہے ایک ہی پارٹی کے کچھ لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ اس کے خلاف لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ، اب ایسا ہی کچھ پاک چین اقتصادی راہ داری کے مسئلے پر ہو رہا ہے ۔ آئے دن الجھا ؤ اور اختلاف ۔ کبھی اس کا روٹ متنازعہ بن جاتا ہے کبھی اس کے کام میں ترجیح اور تاخیر کا پہلو زیر بحث آنے لگتا ہے کاش ہم سب مل کر اس راہ داری کے مسئلے پر ہی ایک ہو جائیں۔ شمن کے دانت کھٹے یوں ہی ہوں گے جب ہم ایک ہو جائیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

قاری عبدالرحمن کے ہفتہ جنوری کے مزید کالم