پاکستان میں بڑھتی دہشتگردی اور مذہبی جماعتیں!

منگل فروری    |    حافظ محمد فیصل خالد

پاکستان میں بڑہتی ہوئی دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے حکومت نے بعض مذہبی و سیاسی جماعتوں پر پابندے عائد کر رکھی ہے۔ ان جماعتوں میں (1) القاعدہ (2) سپاہ صحابہ (3) جیشِ اسلام (4) اسلام مجاہدین (5) الحرمین فاؤنڈیشن (6) اہلِ سنت و الجماعت (7) تنظیم نوجوانانِ اھلِ سنت (8) غاضی فورس (9) تحریکِ طالبان پاکستان (10) لشکرِ اسلام (11) حاجی نامدار گروپ (12) اسلامک سٹوڈنٹ موومنٹ آف پاکستان( 13) خیر الناس انٹرنیشنل ٹرسٹ (14) جمیعت الانصار (15) جمیعت الفرقان (16) ملتِ اسلامیہ پاکستان (17) خدام الاسلام (18) جیش، محمد ﷺ (19) سپاہِ صحابہ پاکستان (20) تحریکِ نفاذ ِ شریعتِ محمدی (21) لشکرِ جھنگوی ۔
وغیرہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ اس فہرست میں شامل دو بریلوی ،تنظیمیں،11 گیارہ سیاسی (بلوچستانی)تنظیمیں،1۔

(خبر جاری ہے)

1 ا یک سیاسی پشتون تنظیم ، اور6 چھ وہابی تنظیمیں شامل ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان جماعتوں پر پابندیاں عائد کرنے سے دہشتگردی میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ حقیقیت تو یہ ہے کہ ان جماعتوں پر پابندی کے باوجود انتہاء پسندی کے خاتمے میں خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ مثلاََ سانحہ آرمی پبلک سکول بھی ان پابندیوں کے بعد پیش آیا، سانحہ سفورا بھی انہیں پابندیوں کے بعد پیش آیا، پشاور ائیر بیس پر حملہ بھی انہیں پابندیوں کے بعد کیا گیا جبکہ حال ہی میں باچہ خان یونیورسٹی میں ہونے والا دہشتگردی کا واقعہ بھی ان پابندیوں کے بعد پیش آنے والے واقعات میں سے ہے جسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اس مسلے کی جڑ کو پکڑنے کی بجائے اس کے آلائے کار کو پکڑ رہے ہیں ۔

اور نتیجتاََ ہمیں اپنے مقصد میں واضع کامیابی نہیں مل رہی۔۔
پاکستان میں ان جماعتوں پر پابندی کے باوجود انتہاء پسندانہ حرکات کا تسلسل کے ساتھ جاری رہنا کم از کم یہ ثابت کر دیتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی صرف مذہبی جماعتوں سے ہی منسلک نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان بزدلانہ کاروائیوں میں وزیرِ اعظم صاحب کے بزنس پارٹنر ملک ہندوستان کی خفیہ ایجنسی راء اور اس کے اتحادیوں کا کا بنیادی کردار ہے جسکی مستند مثال حکیم محسود کے بھائی کا حالیہ بیان ہے جس میں اس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بھارتی خفیہ ایجنسی راء فنڈنگ کرتی ہے (اس کے علاوہ اس بات کے کئی شواہد منظرِ عام پر آچکے ہیں) ۔

اور بد قسمتی یہ کہ ا ن تمام تر حقائق کے باوجود ہمارے وزیرِ اعظم صاحب کا ہندوستان کیخلاف لب کشائی نہ کرنا کم ازکم راقم الحروف کی سمجھ سے بالا تر ہے۔کیا وجہ ہے کہ حکمران طبقہ ہندوستان کو اسکی اصلیت دکھانے سے گریزاں ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہندوستان اور اس کے اتحادیوں کو واضع طور پرمتنبہ نہیں کیا جارہا؟ کیا وجہ ہے کہ حکومتِ وقت اپنے ملک میں بسنے والوں پر تو دھڑا دھڑ پابندیاں عائد کر رہی ہے جبکہ جو ان پابندیوں کی بنیادی وجہ ہے اس سے ہمیشہ سے دانستہ طور پر در گزرکرتی رہی ہے اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے؟۔

یہ وہ چند بنیادی نقاط ہیں جو حکومتی حکمتِ عملیوں کے نتیجے میں سامنے آرہے ہیں ۔ اور اب اس ساری صورتِ حال میں وزیرِ اعظم صاحب سے گزارش ہے کہ براہِ کرم پاکستان کے وزیرِ اعظم بنیں نہ کہ ہندوستان کے اور اپنے ملک کے باسیوں پر پابندیاں عائد کرنے سے پہلے اپنے ہمسایہ بزنس پارٹنر ملک کی حرکات کا بھی نوٹس لیں اور نہ صرف نوٹس لیں بلکہ اس کے سدِباب کیلئے غیر معمولی اقدامات بھی کریں تاکہ اسناسور سے حقیقت میں جان چھڑائی جا سکے۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بزنس بچاتے بچاتے یا امن کی آشاکے چکر میں اپنا کاناقابل ِتلافی نقصان کرا بیٹھیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پاکستان

حافظ محمد فیصل خالد کے پیر فروری کے مزید کالم



متعلقہ کالم