”جمہوریت پسند منافق“

بدھ فروری    |    میاں محمد ندیم

جنرل صاحب سے ریٹائرڈمنٹ کے بعد پہلی ملاقات تھی برسوں بعد اسی شہرمیں مگر منظرنامہ بدل چکا تھا وردی کے بغیر-کچھ ادھرادھرکی باتوں کے بغیرکہنے لگے سناؤ کچھ بدلا بھی یا سب ویسے ہی چل رہا-میرے مسکرانے پر کہنے لگے بڑے ضدی ہو-عرض کیا ضدی نہیں بس اصولوں پر سمجھوتہ اور منافقت نہیں جانتا کہ یہ ”ہنر“سکھانے والے استاد ہمارے زمانے میں نہ تھے-جنرل کے بال مکمل سفید ہوچکے تھے وہ جاہ وجلال جو آنکھوں سے دیکھا تھا اب عاجزی اور انکساری میں بدل چکا تھاکچھ دیر تک برطانیہ میں گزرے شب روزکا ذکر کرتے رہے -جنرل مشرف کے بااعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے-بڑے بڑے طرم خانوں کو بندہ ناچیزنے ان کی چوکھٹ پر سررگڑتے دیکھا جو آج اسمبلیوں میں کھڑے ہوکر بڑے بڑے واعظ دیتے ہیں جنرل کے ایک پرانے ”لے پالک“کا ذکر چل نکلا جو پنجاب کا وزیربھی رہا ہے 2002میں پہلی مرتبہ الیکشن لڑا تو موصوف ہار گئے میں نے کہا پتہ ہے اس نے دوکروڑکی آفر کروائی تھی کہ جنرل صاحب سے کہو مجھے سینٹ کا رکن بنوا دیں -جنرل ہنس پڑے کہنے تمہارا کیا خیال ہے مجھے علم نہیں تم ہی بیوقوف نکلے جو اسے صلواتیں سناکر دوبارہ کال نہ کرنے کا کہہ دیا-وہ اچھے وقت تھے قلم کی حرمت اس طرح نیلام نہیں ہوتی تھی ہم تنخواہ پر ہی گزارا کرتے رہے اللہ نے مال کے فتنے سے محفوظ ہی رکھا یہ اس کا شکرہے -یہ اسی کا فضل ہے کہ اس نے مجھ جیسے گنہگار کو ایک غیرمسلم کو کلمہ پڑھانے جیسی عظیم سعادت سے نواز-بیشک اللہ ہی خالق ومالک ہے تمام جہانوں کا اور ہمیشہ کے لیے بادشاہی اسی کی ہے-جب میں مدعا بیان کیا کہ میں سوچ رہا ہوں اس دور پر کتاب لکھوں اور چونکہ زیادہ تر واقعات کا تعلق ہے جنرل کی سروس کے زمانے میں ان کے دفتر سے ہے تو جنرل کے چہرے پر سنجیدگی آگئی کہنے لگے کچھ باتیں تاریخ پر چھوڑدینا ہی اچھا تھا اس وقت کے تقاضوں کے مطابق ہروہ اقدام اٹھایا گیا جو ضروری تھا لہذا اس پر اگلی ملاقات میں تفصیلی بات چیت کی نشت طے کرکے ملاقات اختتام پذیر ہوئی میرے آنکھوں کے سامنے اس زمانے کے واقعات کسی فلم کی طرح چل رہے تھے -میں فوج کی سیاست میں مداخلت کا حامی نہیں ہوں میرے نزدیک ہر ادارے کو اپنی متعین شدہ حدود کے اندر رہنا چاہیے اور اس سے تجاوزنہیں کرنا چاہیے مگر ہمارے جو سیاستدان اور دانشور فوجی آمروں کو برا بھلا کہتے ہیں یہی انہیں اقتدار کا راستہ دکھاتے ہیں پاکستان کے پہلے فوجی آمر کو وردی میں کابینہ کے اجلاس میں بیٹھانے والے کون تھے؟ایواب خان کو اقتدار میں لانے اور اس کی ذہن سازی کرنے والے کون تھے؟اب تک بہت ساری کتابیں اس موضوع پر لکھی جاچکی ہیں لہذا کوئی بات خفیہ نہیں رہے ”قائد عوام “کے پہلے قائدمیرجعفر(غدارسلطان میسورٹیپوسلطان شہید) کے پڑپوتے سکندرمرزا تھے جوکہ تاج برطانیہ کی فوج اور بعد میں سول سروس میں رہے”قائدعوام“ان کے دور میں وزیررہے ‘ جنرل ایواب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کے لیے جو سیاسی جماعت تشکیل دی اس کا سیکرٹری جنرل کون تھا؟ایواب خان کا وزیرخارجہ اور ایواب خان کی سیاسی پارٹی کا سیکرٹری”قائدعوام“تھا جو ”کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے“مشرقی پاکستان ہاتھ سے نکل رہا تھا تو ایواب خان کے جانشین جنرل یحیی خان کو ”قائدعوام“لاڑکانہ لے جاکر رقص وسرور کی محفلیں سجا رہے تھے جنرل ضیاء الحق نے ”قائدعوام“کا تحتہ الٹا تو کتنے بڑے بڑے جمہوریت کے مامے چاچے ضیاء الحق کی مجلس شوری میں تھے؟کئی جمہویت کے ٹھیکدار تو پیدوار ہی جنرل ضیاء الحق کے دور کی ہیں کہ جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کی موت پر خود کو یتیم کہا -میثاق جمہوریت والے ضیاء الحق کی چھترچھایہ میں فوج کی نرسری کے ہی پودے ہیں -یہ منافقت ہے ایسے ہی جیسے لبرل فاشسٹ ہر خرابی کا ذمہ دار مولوی کو قراردیتے ہیں اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جناب قیام پاکستان سے لیکرآج تک کوئی بھی ایسی دور بتادیں جس میں مولوی حکومت میں رہے ہوں تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں بھئی دوسروں کی نااہلیوں اور ناکامیوں کو مولوی پر کیوں ڈالتے ہو-خرابیوں کی ذمہ داری حکومتوں پر آتی ہے کہ پاور اس کے پاس ہے اگر کچھ غلط ہورہا ہے تو اس کا سدبا ب کرنا حکومت کا کام ہے پیپلزپارٹی آج طالبان کے نام سے چڑتی ہے تو جناب افغان جہاد کے خالق ذوالفقار علی بھٹواور جنرل نصیراللہ بابر تھے اور بعد میں بے نظیربھی کچھ عرصہ تک ”مدرآف دی طالبان“کہلانے میں فخرمحوس کرتی رہیںآ ج کس منہ سے بلاول اور ان کی ساری جماعت طالبان اور افغان جہاد پر تبرے کررہی ہے بھئی یہ آپ کے نانا کے لگائے پودے ہیں جس کی قیمت پوری قوم کئی دہائیوں چکا رہی ہے آپ نے ٓآج تک اس غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے قوم سے اس پرمعافی مانگی؟آپ کو حق نہیں پہنچتا کہ آپ انہیں”ظالمان“کہیں حقیقی ظالمان تو آپ ہیں ان کو بنانے والے -بدقسمتی سے ہماری سیاسی تاریخ منافقت سے عبارت ہے جس کا آغاز بھی منافقت اور انجام بھی منافقت-ہمت نہیں پڑی جاکر دیکھنے کی صرف ٹی وی پر چند جھلکیاں ہی دیکھ پایا کہ نواب زاداہ نصراللہ خان کی تاریخی بیٹھک کو میٹروٹرین کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے جولوگ نواب صاحب کو ذاتی طور پر جانتے تھے ان کے علم میں ہے کہ زندگی کا ایک بڑا حصہ دوتین کمروں کی اس عمارت میں گذارنے والا وہ مردقلندر کیا حاصل نہیں کرسکتا تھا مگر وہ حقیقی معنوں میں نواب تھے وضعداری ایسی کہ دشمن بھی داد دیئے بغیرنہیں رہتے تھے نواب صاحب کے ڈیرے کے باقاعدہ ممبرزجن میں مجھ جیسا معمولی قلم مزدوربھی تھا اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ بے نظیر بھٹو اور شریف بردران کی وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے والا کون تھا-آج یہ لوگ کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں کہ ”ناداں گرگئے سجدے میں جب وقت قیام آیا“کے مصداق جب قربانی کا وقت آیا تو یہ بیرون ملک بھاگ کھڑے ہوئے دونوں جماعتوں کے جمہوریت کے ٹھیکدار لوگ کہتے ہیں کہ جسٹس افتخار چوہدری کی عدلیہ بحالی تحریک مشرف کی رخصتی کی وجہ بنی درست ہے مگر نواب صاحب نے مشرف کو سیاسی طور پر اتنا بے بس اور کمزور کردیا تھا کہ اس کا کھوکھلا اقتدار عدلیہ بحالی تحریک کا دباؤ برداشت نہ کرسکا نواب صاحب مشرف اور اس کے حواریوں کے حواس پر کس قدر چھائے ہوئے تھے ایک چھوٹی سی مثال یہاں پیش کرونگا جس میں چشم دید گواہ ہوں اور کئی دوسرے صحافی دوست بھی ماسوائے ہمارے پیارے عزیزدوست اخترحیات مرحوم کے کہ وہ اب دنیا میں نہیں ہیں2002کی بات ہے جب جیالے ‘متوالے گھروں میں بیٹھ کر مشرف کے خلاف احتجاج کیا کرتے تھے ہم کچھ صحافی جوکہ ان دنوں گورنر پنجاب کو کور کرتے تھے گورنر خالدمقبول کے ساتھ پنجاب کے دوتین شہروں کے دورے گئے واپسی پر تقریبا شام ہونے کو تھی جب ہیلی کاپٹرلاہور کی حدود میں داخل ہوا تو گورنر صاحب نے اپنے ملٹری سیکرٹری کو بلاکرکہا کہ پائلٹ سے کہو مینار پاکستان گراؤنڈ پر نیچی پروازکرئے کیونکہ اسی دن نواب زادہ نصراللہ خان مینار پاکستان پر اے آرڈی کا جلسہ کررہے تھے گورنر صاحب دیکھنا چاہتے تھے کہ کئی ہفتوں کی پکڑدھکڑ اور پنجاب میں غیراعلانیہ کرفیو کے بعد کتنے لوگ پنڈال میں موجود ہیں -ہیلی کاپٹرنے جب نیچی پروازکرتے مینار پاکستان گراؤنڈ پر دوتین چکر لگائے تو جنرل صاحب کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی تمام تر پابندیوں اور سختیوں کے باوجود پنڈال میں ایک جم غفیرتھا یہ تھا نواب زادہ نصراللہ خان کا جادو‘یہ نواب زادہ نصراللہ خان ہی تھے جنہوں نے جدہ میں بیٹھے شریف بردران اور دوبئی میں بیٹھیں بے نظیربھٹو مرحومہ کے درمیان نکلسن روڈکی اس بیٹھک میں بیٹھ کر میثاق جمہوریت سائن کروادیا مگر یہ احسان فراموش نکلے پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور پھر نون لیگ کی یہ نواب صاحب کی بیٹھک جوکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ورثہ تھی اس کو محفوظ نہ کرسکے شرم کا مقام ہے ان احسان فراموشوں کے لیے-جنرل صاحب کی بات سے آغازکیا تھا تو اگر انہوں نے حامی بھری تو میں قومی سیاست میں شرافت کے نقاب چڑھائے ان شرفاء کو ضرور بے نقاب کرنا چاہونگا جوکہ ہوس اقتدار میں فوجی بوٹ چاٹتے رہے اور آج جمہوریت کے چیمپیئن بنے ہوئے ہیں-
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

میاں محمد ندیم کے منگل فروری کے مزید کالم