بیانیہ اور تبصرے

منگل فروری    |    میر افسر امان

آج کل پاکستان میں کچھ سیاسی لیڈروں کے بیانیوں پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر خوب تبصرے ہو رہے ہے۔افغانستان جو اپنی آزادی کے لیے امریکا سے لڑ رہا ہے اور جو چالیس سال سے جنگ کی حالت میں ہے اُس کے متعلق طرح طرح کی نا مناسب باتیں ہو رہی ہیں۔ بھارت نواز قوم پرست سرخ پوش کسی نئے ایجنڈے کے تحت اپنے پُرانے بیانیہ افغان جہاد کو فساد سے جوڑ رہے ہیں۔ اس پر بات کرنے سے پہلے ایک تاریخی بات جو کہ سرخ پوشوں کے مربی بھارت کے گاندھی نے تحریک پاکستان کے دوران کسی موقعہ پر کہی تھی کہ ”مجھے پاکستان کے بننے پر اتنی فکر نہیں جتنی اس بات کی فکر ہے کہ جب پاکستان بن جائے گااور افغانستان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے سمندر سے جا ملے گا مجھے اس کی فکر ہے“ اسی سوچ کے تحت بھارت نے افغانستان کو اپنا بنانے کے لیے اپنے آلہ کار سرحدی گاندھی غفار خان کو خوب استعمال کیا تھا۔

(خبر جاری ہے)

جس نے اپنے پرانے خاندانی بغض کی وجہ سے پاکستان میں دفن ہونا بھی پسند نہیں کیا تھا اورجلال آباد افغانستان میں دفن ہے۔ پاکستان بنتے وقت صوبہ سرحد میں اس کے بھائی کی حکومت تھی۔ صوبہ سرحد کے اندر متحدہ ہندوستان کے نظریہ کے تحت غفار خان نے بھارت کے ساتھ رہنے کی تحریک چلائی تھی ۔متحدہ ہندوستان کی اس سوچ کو قائد اعظم  نے اپنے بیانیہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ “کے تحت صوبہ سرحد کے اندر ریفرنڈم کے ذریعے شکست سے دو چار کیا تھا۔
مولانا مودودی نے بھی متحدہ قومیت کے نظریے کہ” قومیں اوطان یعنی وطن سے بنتیں ہیں“ کو قوم رسول عاشمی کے نظریے کے تحت لکھی گئی تحریروں سے رد کیا تھایہ تحریریں آج بھی کتابی شکل میں موجود ہیں۔ بقول شاعر اسلام علامہ اقبال
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں ہے قوم رسول عاشمی
صوبہ سرحد میں یفرنڈم میں عبرت ناک شکست کے بعد اورقیام پاکستان سے لے کر آج تک بھارت نوازسرخ پوشوں نے ہار نہیں مانی اور مختلف طریقوں سے پاکستان کے مقصد وجود کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جیسے اپنی پچھلے دورِ حکومت میں امریکا سے ڈالر لے کر افغانستان میں مداخلت اور امریکا کی حمایت کرتے رہے اور اب تک کر رہے ہیں۔
اور ا ب بھی جہاد افغان کو فساد سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جب افغانستان پر روس کے حملے کے بعد بھارت نواز اورسرخ پوشوں کی مرضی کی حکومت قائم ہوئی تھی تو سرحد کے سرخ پوش سو سو گاڑیوں کے جلوس لے کر افغانستان جایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم پاکستان میں سرخ ٹینکوں پر بیٹھ کر آئیں گے۔روس کے سرخ ٹینکوں پر بیٹھ کر کیا آتے کہ ایک خبرکے مطابق ان کے اُس وقت کے سکریٹری جنرل گدھے پر سوار ہو کر چھپ کر افغانستان سے پاکستان آئے تھے پاکستان دشمنی کے باوجود پاکستان نے اُنہیں پناہ دی ۔
غفار خان بھی اپنی زندگی میں ہمیشہ بھارت یاترہ کرتے رہے ہیں وہاں سے روپوں کی تھلیاں بھر بھرکر لاتے رہے ہیں۔یہ ساری داستان حال ہی میں سامنے آنے والی کتاب”فریب ناتمام“جو کہ ایک سرخ پوش جمعہ خان صوفی نے لکھی ہے میں دیکھی جا سکتی ہے۔جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تو افغانستان کے لوگ پاکستان کی حکومت سے مدد لینے کے لیے آئے تھے ۔ تو ذولفقار علی بٹھو نے اس مسئلے کی باریکی کو محسوس کرتے ہوئے افغانوں کو درے سے اسلحہ فراہم کرنے کا بندوبست بھی کیا تھا۔
پھر ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کی حکومت نے باقاعدگی سے افغانوں کی ہر طرح سے مدد کی۔ ان کو ٹرنینگ دی گئی اور روس سے افغانستان کو آزاد کرانے کے لیے ہماری فوج نے بھر پور کردار ادا کیا اور افغانستان سے روسی فوجیں نکل گئیں۔ روس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا۔ مشرقی یورپ روس کی گرفت سے آزادہوا۔ دیوار برلن گرا دی گئی۔چھ اسلامی ریاستیں قازقستان،کرغیزستان،اُزبکستان،ترکمانستان، آزربائیجان،اور تاجکستان کی شکل میں آزاد ہوئیں ۔
اس طرح ہماری فوج نے روس سے بدلہ لے لیا جو اُس نے بھارت کے ساتھ مل کر ہمارے ملک کو توڑا تھا۔اس تناظر میں یہ جہاد پاکستان کو بچانے کے لیے ضروری تھا اور عین جہاد تھا فساد نہیں تھا۔ مگر کیا کیا جائے کہ ہمارے ملک کے مذہب بیزار، سیکولر، روشن خیال، سرخ پوش اور تاریخ سے نابلد کچھ لوگوں کا کہ انہیں یہ سب کچھ نظر نہیں آتا اور خود ساختہ بیانیہ تیار اور پیش کر کے پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے کی بے سود کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
کاش مسلمان ہونے کے ناتے ان لوگوں کو دکھیا افغانوں، جن کو پہلے روس نے تباہ برباد کیا اب امریکانے ان کا تورابورا بنا دیا ہے لاکھوں شہید ہوگئے لاکھوں اپاہچ بنا دیے گئے لاکھوں مہاجروں کی شکل میں دربدر ہوگئے، کی ہمدردی کے بجائے ان کے دکھوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ سب دنیا جانتی ہے کہ روس نے وسط ایشیا کی مسلم ریاستوں پر ایک تسلسل سے قبضہ کرانا شروع کیا تھا اور بالآخروہ دریائے آمو تک پہنچ گیا تھا وہ گرم پانیوں تک رسائی چاہتا تھا۔
اب بیچ میں صرف افغانستان اور پاکستان رہ گیا تھا جس کے لیے اس نے افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔اگر پاکستان، روس کو افغانیوں کے ساتھ مل کر نہ روکتا تو روس خیرپختونخواہ کے سرخوں کے پروگرام کے مطابق پاکستان پر قبضہ کر کے اپنا مقصد حاصل کر لیتا ۔مگر بھٹو اور ڈکٹیٹر ضیاء دونوں یہ بات سمجھ گئے تھے ۔اس لئے د ونوں کی حکومتوں نے افغان جہاد کی بھر پور مدد کی اورپاکستان کو بچایا۔ ایک تو تاریخ سے بے خبر نئے نئے اینکر پرسن ہیں جن کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ بے خبری میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔
لیکن مذہب بیزار، سیکولر،روشن خیال، صوبہ پختونخواہ کے بھارتی مفادات کے نگران جو پہلے روس کے مدد گار تھے اب امریکا سے ڈالر لے کر اس کے مفادات کے حامی بن گئے ہیں اور امریکی فنڈڈ نجی ٹی کے مالکان اور ان پر شوز میں پاکستان دشمن غفار خان کے بے بنیاد بیانیہ کہ افغان جہاد فساد ہے کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام میں پھیلا کر پاکستان دشمنی اور اس کے آئینی اسلامی تشخص کو تبدیل کرنے والے اینکر پرسن نے یہ بے بنیاد کی مہم چلا رکھی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے ضیاء دور سے مولانا موددی کا پر تشدد بیانیہ اختیار کیا ہوا ہے۔ اپنی مرضی کی سوچ کو بڑھانے کے لیے بیچ میں سے بھٹو، ڈکٹیٹر مشرف اور زرداری روشن خیالوں کی حکومتوں کو غائب کر دیا۔ اگر مولانا مودودی کا بیانیہ اور ملک ِپاکستان کا بیانیہ ایک جیسا تھا جس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بچایا تو یہ بل لکل صحیح اور حالات کے تناظر میں وقت کی ضرورت تھی اور پاکستان کو بچانے کی لیے آئندہ بھی ضروری ہے اور ضرورت رہے گا۔
ویسے بھی جماعت اسلامی پاکستان میں پرامن جمہوری جد وجہد کے ذریعے تبدیلی پر یقین رکھتے ہوئے ایک عرصے سے ملکی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ اس نے خیبرپختونخواہ میں ایم ایم اے کی مخلوط حکومت پانچ سال کی جس کی بیرونی دنیا نے تعریف بھی کی تھی۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی پر امن، جمہوری اور آئین کے تحت سیاست کرنے والی جمہوری پارٹی ہے ویسے بھی کسی پر تشدد پارٹی کی حکومت کی بین الاقوامی جمہوری برادری تعریف نہیں کرتی۔
کراچی میں اس کے نمائندے تین دفعہ لوکل گورنمنٹ کے سربراہ کے طور پر کامیابی سے چلا چکے ہیں ان کی لوکل حکومتوں کی بھی بین الاقوامی برادری نے تعریف کی تھی ۔ جماعت اسلامی ہوا میں کام نہیں کر رہی ۔اس کا تحریر ی دستور ہے جس میں انڈرگراؤنڈکام کرنے کی نفی کی گئی ہے ۔ جو لوگ جن میں خیبرپختونخواہ کے سابقہ روسی مدد گار اور موجودہ امریکی مفادات کے مقامی کارندے شامل ہیں جو جماعت اسلامی کے خلاف اس مہم میں شامل ہیں۔
ان کے لیے ان کے بھارتی مربیوں کی یہ بات صحیح بیٹھتی ہے کہ منہ میں رام رام اور بغل میں چھری والی کہاوت ہے۔کیا نجیب دور میں سو سو گاڑیوں کے قافلے افغانستان میں لے جانے والوں صوبہ سرحد کے بھارتی ،روسی ہمدرد اور موجودہ امریکی کے مقامی کارندوں نے افغانیوں کو بے دردی سے ختم کرنے کی حمایت نہیں کی تھی؟ یقیناً کی تھی اس طرح وہ تشدد میں خود شامل تھے ۔ کراچی میں سپریم کورٹ نے ان کے عسکری ونگ کا بھی کہا تھا جوقتل غارت کرتے رہے ہیں۔ در اصل یہ قائد اعظم محمد علی جناح کے بیانیہ یعنی پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے خلاف ہیں۔ جس بیانیہ کی پشتبان پاکستان میں مولانا مودودی کی قائم کردہ جماعت اسلامی ہے ۔ کیونکہ جماعت اسلامی کا بھی یہی بیانیہ ہے ۔ جس پرتشدد بیانیہ کا الزام وہ مولانا موددی پر لگاتے ہیں یہ وہی بات ہے کہ منہ میں پر رام رام ااور بغل میں چھری۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

میر افسر امان کے منگل فروری کے مزید کالم