نیشنل ایکشن پلان اور دینی مدارس

جمعرات فروری    |    مولانا شفیع چترالی

16دسمبر2014ء کو پشاور میں پیش آنے والے المناک قومی سانحے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی و تخریب کاری کے عفریت پر قابوپانے کے لیے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے نسبتا سنجیدہ اقدامات کا آغاز کیا اور دہشت گردی، انتہا پسندی کے اسباب کے خاتمے کیے ایک ہمہ جہت قومی لائحہ عمل( نیشنل ایکشن پلان) تشکیل دیا گیا جس میں دیگر بہت سی تجاویز کے ساتھ ایک یہ تجویز بھی شامل تھی کہ ملک میں دینی مدارس کے معاملات کی نگرانی کا باقاعدہ نظام تشکیل دیا جائے۔
یہ تجویز پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد سے تقریبا ہر حکومت نے دینی مدارس کو” قومی دھارے“ میں لانے اور ان میں اصلاحات لانے کی بات کی لیکن بر سر زمین صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

(خبر جاری ہے)

نائن الیون کے بعد جب ہمارا خطہ دہشت گردی کی عالمی جنگ کا مر کز بنا تو پاکستان کے دینی مدارس ایک بار عالمی ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث بن گئے اور مدارس کا تعلق دہشت گردی و انتہا پسندی سے جوڑ کر پاکستانی حکومت پر دباو ٴ ڈالا گیا کہ وہ دینی مدارس کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے موٴثر اقدامات کرے۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں دینی مدارس پر ایک کاری وار یہ کیا کہ غیر ملکی طلبہ کے پاکستان کے دینی مدارس میں داخلوں پر قدغن عائد کردی جس سے حصول علم کے لیے پاکستان آنے بیسیوں ممالک کے طلبہ نے بھارت، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کا رخ کرنا شروع کردیا جہاں اس طرح کی پابندیاں نہیں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے ”ماڈل دینی مدرسہ“ کے نام سے دینی مدارس کا متوازی سرکاری نظام تشکیل دینے کی بھی کوشش کی لیکن اسے پذیرائی نہ مل سکی۔

آگے بڑھنے سے قبل یہاں اس سوال پر غور کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دینی مدارس سے متعلق حل طلب مسئلہ کیا ہے ؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں ذرا پیچھے جانا ہوگا۔ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو برصغیر میں انگریزوں کا قتدار قائم ہونے سے قبل تک اسلامی دنیا میں دینی اور دنیوی علوم کی اس طرح تفریق کہیں نظر نہیں آتی کہ کچھ ادارے صرف اور صرف مذہبی تعلیم دیتے ہوں اور کچھ ادارے خالص دنیوی اور فنی تعلیم فراہم کرتے ہوں۔
مسلمان معاشروں میں تعلیم کا نظام یہی چلا آیا ہے کہ بچوں کو ابتدائی عمر میں بنیادی دینی تعلیم قرآن، حدیث، فقہ، ادب وغیرہ کی تعلیم دی جاتی اور پھر ہر بچے کے ذوق اور حالات کے مطابق دیگر علوم مثلافلسفہ، منطق، ریاضی، طب، فلکیات جغرافیہ کی تعلیم کا بندوبست کیا جاتا۔ یہ سارا بندوبست سرکاری طور پر ہوتا اور امراء و غرباء سب یکساں طور پر اس سے مستفید ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ہمارے ہاں تعلیم کی قدیم و جدید یا دینی و عصری کی تفریق دکھائی نہیں دیتی ہاں البتہ” منقولی “و ”معقولی “ کی درجہ بندی ضرور نظر آتی ہے۔
ہمارے ہاں انگریزوں نے جب بر صغیر پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے اس نظام تعلیم کو یکسر تبدیل کردیا۔ انگریزوں نے نہ صرف علوم نقلیہ کو نصاب سے نکال دیا بلکہ برصغیر کی تعلیم کی زبان ہی تبدیل کردی۔ اس کے ردعمل میں ہمارے ہاں دو طبقے وجود میں آئے۔ ایک طبقے نے جس کی سر کردگی سر سید احمد خان کر رہے تھے مسلمانوں کا مفاد اسی میں دیکھا کہ وہ اس انگریزی نظام تعلیم کو قبول کر لیں اور جدید عصری تعلیم انگریزی زبان میں حاصل کر کے معاصراقوام کا مقابلہ بھی کریں اور انگریزوں کی حکومت کی مشینری کا حصہ بن کر مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کریں۔
جبکہ دوسری جانب ایک طبقہ علماء کا وہ تھا جس کو یہ احساس ہوا کہ اسلامی تعلیم سے بے بہرہ ہوجانے کی صورت میں برصغیر کے مسلمانوں کی نئی نسل دین سے دور ہوسکتی ہے، اس لیے خالص دینی تعلیم اور عربی و فارسی زبانوں کے تحفظ کے لیے ایک متبادل نظام تعلیم ضروری ہے۔ ان دونوں طبقات کو مسلمانوں کے بہت سے حلقوں میں پذیرائی ملی، سر سید احمد خان کو انگریز سرکار کا تعاون بھی حاصل ہوا اور عوامی چندہ بھی خوب ملا جب کہ علماء نے صرف عوام کے چندوں، زکوة، صدقات اور عطیات سے دینی مدارس کا ایک سلسلہ قائم کیا۔
اس طرح یہ دونوں دھارے ساتھ ساتھ چلتے رہے اور اس کے نتیجے میں مسلم معاشرے میں دو الگ الگ ذہنی ساخت کے حامل طبقے وجود میں آگئے۔ اب وقت گزرنے کے ساتھ ان دوطبقات کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے اور آج دینی مدارس کو قومی دھارے میں لینے کی بات کی جاتی ہے تو اس کی وجہ بھی دراصل وہی خلیج ہے جس کو پاٹنے کی ضرورت ہر درد مند مسلمان محسوس کرتا ہے۔
اس خلیج کو پاٹنے کا ایک موقع اس وقت ہاتھ آیا تھا جب بر صغیر کے مسلمانوں کی جدو جہد کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نو زائیدہ اسلامی مملکت میں دینی و عصری علوم کے ماہرین کی مشاورت سے ایک ایسا نظام تعلیم وضع کیا جاتا جو ایک مسلمان معاشرے کی جملہ روحانی، اخلاقی اور مادی ضروریات کی کفایت کرتا اور جس سے استفادہ کرنے والی نسل روح عصر کے ادراک کے ساتھ ساتھ اچھی اور باعمل مسلمان بھی ہو تی۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا، قیام پاکستان کے بعد ہماری اشرافیہ نے مقبوضہ ہندوستان کی مفتوحہ قوم کے لیے لارڈ میکالے کے وضع کردہ نظام تعلیم کو ہی بعینہ برقرار رکھا اور اس میں کوئی ایسی جوہری تبدیلی نہیں لائی گئی جس سے لوگوں کو واقعی تبدیلی کا احساس ہوسکے۔
یہی وجہ ہے کہ دینی مدارس کا وہ نظام بھی جو انگریزی دور کے مخصوص ماحول میں تشکیل دیا گیا تھا، برقرار رکھا گیا اور50کے عشرے میں ملک میں متعدد دینی مدارس قائم کیے گئے جن کی شاخیں اب ملک کے کونے کونے میں پھیل چکی ہیں۔ ہر مکتبہ فکر نے اپنے اپنے مدرسے قائم کیے اوراپنی ترجیحات کے مطابق تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ تقریبا چالیس ہزار دینی مدارس رجسٹرڈ مدارس ملک کے طول و عرض میں کام کر رہے ہیں۔
دینی مدارس کا نظام خالصتا عوام کے رضاکارانہ تعاون پر قائم ہے، دینی مدارس عوام کے تعاون سے ملک کے لاکھوں بچوں کو مفت تعلیم ہی نہیں بلکہ رہائش اور علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں، کسی سرکاری سرپرستی کے بغیر اتنے بڑے نظام کا کامیابی سے چلنا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی عوام کی غالب اکثریت دینی مدارس پر اعتماد کرتی ہے۔
جہاں تک دینی مدارس کے دہشت گردی انتہا پسندی اور فرقہ واریت میں ملوث ہونے کی بات کا تعلق ہے تو اگر چہ یہ الزام بہت زور و شور سے دوہرایا جاتا ہے اور نائن الیون کے بعداس میں مزید شدت آگئی ہے اور حکومتوں پر دباوٴ بھی ڈالا جاتا ہے مگر پاکستان کے ریاستی اداروں نے جتنی تحقیقات کروائیں، ان میں اس الزام کی کوئی ٹھوس تصدیق نہ ہوسکی۔
چودھری شجاعت حسین سے لے کر چودھری نثار علی خان تک وفاقی وزائے داخلہ نے جو براہ راست مدارس کی نگرانی کر رہے تھے، پارلیمنٹ میں رپورٹ دی کہ دینی مدارس کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کے جتنے بڑے واقعات ہوئے، ان کے ملزمان میں مدارس سے وابستہ لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے دہشت گردی سے تعلق جوڑکر دینی مدارس کے خلاف جو بھی اقدامات کیے جائیں گے، ان کی پذیرائی نہیں ہوسکے گی۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت نے دینی مدارس کے بارے میں جو اقدامات تجویز کیے ہیں، ان پر بعض تحفظات اور بعض مدارس پر چھاپوں اور بلاجواز گرفتاریوں کے باوجود دینی مدارس کی تنظیموں نے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کرکے اس امر کو ثبوت پیش کیا ہے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہیں اور شامل ہی رہنا چاہتے ہیں۔ رجسٹریشن، آڈٹ اور دیگر قانونی پابندیوں کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنی ا دارہ جاتی خود مختاری بر قرار رکھنا چاہتے ہیں، جوکہ بہر حال ان کا جائز مطالبہ ہے۔
دینی مدارس کا کوئی مطالبہ بھی ایسا نہیں ہے جو ملکی آئین و قانون یا ملی تقاضوں کے بر خلاف ہو۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور علماء مل کر اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کریں جو دینی و عصری تعلیم کو الگ الگ خانوں میں رکھنے کے نتیجے میں پیدا ہوچکی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو دینی مدارس کوایسے وسائل فراہم کرنے چاہئیں کہ وہ اپنے ہاں ضروری عصری تعلیم کا بھی بندوبست کرسکیں۔ اسی طرح دینی مدارس کی تحتانی اسناد کو بھی تسلیم کرکے مدارس کے بچوں کے عصری اداروں میں بھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے چند ہفتے قبل قومی اسمبلی میں نہایت جرأت مندانہ انداز میں دینی مدارس کا دفاع کیا اور بتایا کہ علماء کرام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے مخالف نہیں بلکہ معاون ہیں۔ وزیر داخلہ کے اس بیان پر دینی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا، مگر اب مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے بعض ایسے اقدامات سامنے آرہے ہیں جن سے ایک بار پھر دینی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایک جانب دینی مدارس پر بلاجواز چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے تو دوسری جانب پنجاب میں تبلیغی جماعت پر پابندیاں لگانے کا انتہائی غیر دانشمندانہ اقدام کیا گیا ہے جس نے اعتماد کی فضا میں زبردست تلخی گھول دی ہے۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی جنگ ملک کے ہزاروں دینی مدارس اور پر امن جدوجہد پر یقین رکھنے والی دینی قوتوں کو حریف نہیں بلکہ حلیف بناکر ہی جیتی جاسکتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہمارے حکمران کچھ قوتوں کو خوش کرنے کی کوشش میں دینی قوتوں سے بگاڑ بیٹھیں اور نیشنل ایکشن پلان کا انجام بھی جنرل مشرف کے اقدامات کا سا ہوجائے #
ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لادوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کرسکو
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

مولانا شفیع چترالی کے جمعرات فروری کے مزید کالم