دہشت گردی کی نئی لہر اور اس کے مقاصد !!

منگل فروری    |    یونس مجاز

صاحبو !!دہشت گردی کے ایک اور واقعہ نے قوم کو سوگوار کر دیا ہے کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر خودکش حملے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین ایف سی اہلکاروں سمیت گیارہ افراد شہید کر دئیے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہیں حسبِ روایت حملے کی ذمہداری پاکستانی طالبان دہشت گردوں نے قبول کی ہے نئی سال کے آغاز سے ہی پاکستان دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہے گزشتہ سال میں ضربِ عضب کے ذریعے پاکستان نے دہشت گردوں کی نہ صرف کمر تور کر رکھ دی تھی اور انھیں ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے مار بھگایا تھا بلکہ ان کی اکثریت مار دی گئی اور کچھ گرفتار کر لئے گئے تاہم ان کی سٹریم لیڈر شپ افغانستان بھاگ گئی جس کی وجہ سے پاکستان کے اندردہشت گردی کی کاروایوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی اسی بنیاد پر جنرل راحیل شریف نے یکم جنوری کو اپنے خطاب میں 2016کود ہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دیا تھا لیکن ملک دشمن عناصر اور ان کے بیرونی آقاوٴں کو وطن عزیز کی یہ کامیابی ایک آنکھ نہ بائی ابتدائی آٹھ دنوں میں چار دہشت گردی کے واقعات میں پچاس سے ذائد انسانی جانوں کو خون میں نہلا دیا گیا چارسدہ یونیورسٹی کے سانحہ نے تو پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا جس کی سازش افغانستان میں بھارتی مدد سے تیار ہوئی سیکورٹی ذرائع اس بات کو کنفرم کر چکے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان کے امیرمولوی فضل اللہ کے دستِ راس کمانڈر کی کال ٹریس ہوئی ہے جس کے مطابق کمانڈر نے بھارتی قونصلیٹ سے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے لئے تیس لاکھ بھارتی روپے حاصل کئے کال ٹریس ہونے والے نمبر سے یہی کمانڈر دہشت گردوں سے مسلسل رابطے میں تھا سیکورٹی اداروں نے ان پاکستانی چارسہولت کاروں کو بھی گرفتار کر لیا ہے جو اس واقعہ میں ملوث تھے تاہم ایک سہولت کار اپنی بیوی اور بھانجی سمیت غائب ہے جس نے اسلحہ خریدنے اور چارسدہ لانے میں مدد کی تھی جس کے تمام ثبوت افغان حکومت کو بھی فراہم کر دئیے گئے ہیں آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد یہ سب سے بڑا سانحہ محض اس لئے نہیں کہ اس میں20جانوں کو عالمی سازش کی بھینٹ چڑھنا پڑا بلکہ اس لئے کہ ایک بار پھر انسانی حقوق کے علمبردار عالمی ساہوکاروں نے تحصیلِ علم کے لئے آنے والوں کو نشانہ بنایا یہ وہ عالمی منصو بہ سا ز ہیں جو ایک طرف تعلیم کے فروغ کے نام پر اربوں روپے ترقی پزیر ممالک میں انوسٹ تو کرتے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے لیکن د وسری جانب گوادر پورٹ اور اقتصادی رہداری کا مروڑ جہاں چین نہیں لینے دے رہا وہاں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی بھی چاہتے ہیں چونکہ تمام تعلیمی اداروں کی سیکورٹی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے یہ د ہشت گردی کے لئے آسان ٹارگٹ ہیں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کا مقصد جہاں ضربِ عضب کی کامیابیوں کو گہنانا ہے وہاں افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو چھپانا بھی ہے جہاں افغان طالبان امریکیوں اور افغان فورسسز کو ناکو چنے چبوا رہے ہیں اصولی طور پر ہو نا تو یہ چائیے تھا کہ امریکہ اور اس کے حواری جو بظاہر دہشت گردی کے خاتمہ کے خواں ہیں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کامیاب کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کا ساتھ دیتے کہ ضربِ عضب کی وجہ سے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا تقریباْ صفایا ممکن ہوا ہے اور جو لوگ بھاگ کر افغانستان میں پنا ہ لئے ہوئے ہیں ان کے خلاف پاکستان سے مل کر کاروائی کی جاتی لیکن امریکہ اور اس کے حواری دہشت گردی کا خاتمہ نہیں چاہتے بلکہ وہ پورے عالم اسلام میں دہشت گردی پھیلانے کے ذمہ دار ہیں اس لئے تو اوبا ما نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں یہ پیشن گوئی کرکے امریکہ کے اہداف کو واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور اس سے ملحقہ علاقے کئی عشروں تک عدم استحکام کا شکار رہیں گے گویا امریکہ اس خطے کو کئی دہائیاں اضطراب میں رکھنا چاہتا ہے ترکی اور سعودی عرب میں بھی خودکش حملوں کے آغاز نے اس بات کو تقویت دی ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب اور ترکی بیمار ہوئے جس کے سبب اسے عطار کے لونڈے سے دوا کے طالب ہیں اور سعودی فوجی ترجمان کا یہ بیان حیران کن ہے کہ اتحادی تیار ہوں تو زمینی فوج شام بھیج سکتے ہیں ، عالم اسلام کی یہ بدقسمتی ہے کہ خوارجی یہ سب کچھ اسلام کے نام پر کر رہے ہیں جنھیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود جو امریکی ڈراوٴن حملے میں مارے گئے تھے کے قریبی ساتھی لطیف اللہ محسود نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان انٹیلی جنس پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے پاکستانی طالبان کی مدد کر رہے ہیں جیل میں قرآن پاک کے مطالعہ نے ان کی آنکھیں کھول دی ہیں جنرل راحیل شریف نے درست نشاندہی کی ہے کہ دہشت گردوں کو باہر سے فنڈنگ اور اندر سے حمایت مل رہی ہے بیرونی د شمن پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے دہشت گردوں کو تربیت ،پناہ اور مالی مد د فراہم کرتے ہیں انھوں نے یہ بھی درست کہا کہ بلوچستان علاقا ئی اور عالمی طاقتوں کے لئے پراکسی وار کا گڑ ھ بن چکا ہے اور اس پراکسی وار کا سامنا ہم سب کو ہے اسی لئے بیرونی خفیہ ایجنسیوں کے ملک میں موجود سہولت کاروں کے خلا ف آپریشن شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جو چند ڈالروں کے عوض ماں دھرتی کا سودا کرنے میں بھی دیر نہیں لگاتے بدقسمتی سے سی آئی اے ،را اور موساد سمیت دیگر کئی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ پاکستان کے مختلف ادروں میں سرایت کر چکے ہیں جن کے خلا ف آپریشن ناگزیر ہو گیا ہے پاکستان کے مذہبی حلقوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنے اپنے پیروکاروں کو یہ بات باور کرائیں کہ مسجدوں ،تعلیمی اداروں مذہبی مقامات اور بھرے بازروں میں خود کش حملوں سے معصوم عورتوں بچوں اور بے گناہ لوگوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں ہوتے وہ صرف اور صرف ہوس ذر کے پجاری اور اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار ہیں اس لئے ان سے مکمل برات کا اعلان کیا جائے اور ان کی حمایت کرنے والوں سے سوشل بائیکاٹ کیا جائے اگر آج بھی ہم متحد نہ ہوئے تو عراق ،لیبیا اور شام کی عوام کی طرح ہمیں بھی پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا کیو ں کہ امریکہ اور اس کے حواری ترکی ،ایران ،سعودی عرب سمیت پاکستان کو لیبیا اور عراق بنانے پر ایک ساتھ کام کر رہے ہیں پاکستان کو ٹریپ کرنے کے لئے ہی تو افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی کے حملے کروائے جا رہے تاکہ پاکستانی فو ج جذبات میں آکر یا عوامی د باوٴ میں افغا نستان میں دہشتگردوں کا تعقب کرتے ہوئے فوج اتارنے کی غلطی کر بیٹھے تو امریکہ افغان فوج کو جوابی طور پر پاکستان میں داخل کرنے کی آڑ میں پاکستان پر حملہ آور ہونے میں دیر نہیں لگائے گا اور یہی وہ لمحہ ہے جس سے پاکستان کو ہر حال میں بچنا ہے ورنہ ایک طرف سے بھارت اور دوسری طرف سے امریکی فوج بین الاقوامی بارڈر کراس کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے باوجود اس کے امریکہ اس بات سے آگاہ ہے کہ پھر ایٹمی جنگ کو کوئی نہیں روک سکے گا کیونکہ پاکستان اپنی بقا کے لئے ہر آپشن استعمال کر سکتا ہے اور چین کی مداخلت سے یہ عالمی جنگ کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

یونس مجاز کے منگل فروری کے مزید کالم