یہ نجکاری کالعدم قرار دیں

جمعرات فروری    |    شاہد سدھو

چند صحافی اور کالم نگار پی آئی اے کی مبینہ نج کاری کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کِسی کی نجکاری مخالفت میں دلیل یہ ہے کہ جب میاں نواز شریف اپنی جلاوطنی ختم کرنے کی کوشش میں وطن واپس پہنچے تو ایئر پورٹ پر پی آئی اے کے ملازمین نے میاں صاحب کو دیکھ کر تالیاں بجائی تھیں، لِہٰذا ان تالیوں کا صلہ سالانہ تیس ارب روپے قومی خزانے سے ادا کرکے دیا جائے۔ کِسی صاحب کا فرمان ہے کہ فلاں ایئر مارشل صاحب کے دور میں قومی ایئر لائن کی کارکردگی بہتر تھی۔
تاہم ترپ کا پتہ نما دلیل سوشل میڈیا پر ظہور پذیر ہوئی ہے جِس میں فرمایا گیا ہے کہ ڈکٹیٹروں نے تو کِسی قسم کی نجکاری نہیں کی بلکہ اپنے ادوار میں سرکاری شعبے میں صنعتیں لگائیں۔ یہ جمہوری حکومتوں کو نجکاری کا بخار کیوں چڑھ جاتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

قربان جائیے ! بوٹ چمکانے کی کوشش میں بھولے بادشاہ سب کو اپنی طرح ہی سمجھتے ہیں۔جناب ! ڈکٹیٹروں کی نجکاری نے تو وطن عزیز کی چولیں ہلادی ہیں اور ملک کا چپہ چپہ خون میں نہلا دِیا ہے۔

کیا جہاد کی نجکاری ، جرمِ عظیم نہیں ہے۔ کیا اس نجکاری کے نتیجے میں قائم ہوئی ملٹی نیشنل جہادی انڈسٹری نے ساری دنیا میں ہمارے ملک کو تماشا نہیں بنادِیا۔ کیا ڈھاکہ سے کشمیر تک اِس نجکاری نے ہمیں آٹھ آٹھ آنسو نہیں رُلایا۔کیا اِس بچے کچھے ملک کا ذرہ ذرہ اِس نجکاری کے ہاتھوں موت، بھوک اور غربت کا شِکار نہیں ہوا۔ کیا اِس نجکاری کے نتیجے میں اغوا، تاوان، بھتہ، گھر گھر، دوکان دوکان سیکیورٹی گارڈ کی صنعتیں وجود میں نہیں آئیں۔
کیا اِس قوم کے سیکڑوں ارب ڈالر اِس جہادی نجکاری کی گولڈ ہینڈ شیک اسکیموں میں برباد نہیں ہو رہے۔ کیا اِس قوم کے خون پسینے اور قرضوں کے بوجھ سے بنائے گئے اربوں ڈالر کے اثاثے اِس نجکاری کے نتیجے میں بھرتی کئے گئے جہادی مزدوروں نے بموں سے نہیں اُڑائے۔ کیا چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جب ریاست نے جہاد کی نجکاری کردی ہو۔ اِس دنیا میں تو لمحوں کی خطائیں ، صدیوں کو سزائیں دیتی ہیں جبکہ ہماری خطائیں تو لمحوں کے بجائے عشروں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
اگرچہ آرمی اسکول کے سانحے کے بعدحالات کافی تبدیل ہوئے ہیں ، مگر اب بھی بہت سے حلقوں میں یہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ شاید نجکاری کی اِس پالیسی سے مکمل طور پر جان نہیں چھڑائی گئی اور کئی جہادی صنعتوں کو پھلنے پھولنے اور پیداوار جاری رکھنے کی اجازت ہے۔یا شاید جیسے عام نجکاری کے نتیجے میں کچھ ظالم صنعتکار قابو سے باہر ہوجاتے ہیں اور کارٹیل بنا کر استحصال کرتے ہیں ،تو اسی طرح سے ایسی ہی کچھ نجکاری شدہ جہادی صنعتیں بھی ہاتھ سے نکل گئی ہیں اور من مانی کر رہی ہیں۔ حکومتوں کا کام صنعتیں چلانا نہیں، ہر طرح کی صنعتوں کی نجکاری کردیں ، مگر جہادی نجکاری کو صدقِ دل سے کالعدم قرار دینا ہوگا۔ جہادی صنعت کی نج کاری کو کالعدم قرار دینے سے اِس ملک کے بہت سے مسائل کا حل نکل آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

نجکاری

شاہد سدھو کے بدھ فروری کے مزید کالم



متعلقہ کالم