شور مت مچاؤ

ہفتہ فروری    |    عمار مسعود

کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے؟ایسا کیا ہو گیا ہے؟ کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے ؟کون سا آسمان گر پڑا ہے۔؟ایک شخص ہی گرفتار ہوا ہے نا؟ بس چار سو سے زائد افراد کو ہی تو اس نے قتل کیا ہے نا؟ ہر مہینے کروڑوں روپیہ بھتہ ہی تو لیا ہے، اسلحہ ،بارود اور منشیات ہی تو سمگل کی ہیں۔لیاری کے علاقے میں صرف چالیس کے قریب ذاتی ٹارچر سیل ہی بنائے ہیں نا؟جوئے کے اڈوں کے ذریعے کروڑوں ہی تو کمائے ہیں نا؟ پولس افسران کو رشوت دے کر اپنے گینگ میں ہی شامل کیا ہے نا؟ چند ایکڑ زمینوں پربذریعہ بندوق قبضہ ہی تو کیا ہے۔
چند اہم افراد ہی تو ٹارگٹ کلنگ میں مارے ہیں۔ تھوڑی سی سرکاری املاک پر اپنا حق ہی تو جتایا ہے۔ جرائم پیشہ افراد کی مدد سے چھوٹی سی ذاتی فوج ہی تو بنائی ہے۔

(خبر جاری ہے)

دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں بوگس ووٹنگ ہی تو کروائی ہے۔ ایسا کون سا ظلم ڈھا دیا ہے؟ ایسا کون سا جرم کر دیا ہے کہ جس پر اتنا شور مچا ہوا ہے۔ ایسا آخر کیا ہو گیا ہے۔ کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے؟
ہم بھول جاتے ہیں ۔ ذرا یاد نہیں رکھتے۔ اس طرح کے معزز مجرمان پہلے بھی گرفتار ہوتے رہے ہیں۔

جرائم کی طویل اور سنگین فہرست پہلے بھی دکھائی دی جا چکی ہے۔ ہتھکڑیوں والی تصاویر پہلے بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔ ثبوت پہلے بھی مل چکے ہیں۔ ورداتوں کے ریکارڈ پہلے بھی دستیاب ہو چکے ہیں۔ ظلم کی اس طرح کی داستانیں پہلے بھی لکھی جاچکی ہیں۔ لیکن کچھ نہیں ہوتا ۔ یہاں کچھ بھی نہیں ہوتا۔
بہت عرصہ تو نہیں گزرا۔ ایان علی کا کیس سامنے آیا تھا۔ یہی شور مچا تھا ۔ یہی ہاہاکار ہوئی تھی۔ اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا اسی طرح چیخ رہے تھے۔
اربوں کی منی لانڈرنگ کا کیس پکڑا گیا۔پانچ لاکھ ڈالر تو ایک چکر میں پکڑے گئے تھے ۔ ایک بین الاقوامی منی لانڈرنگ کے ریکٹ کا سراغ مل گیا تھا۔ ایک دو نہیں اسی کے قریب ایسے دوروں کا انکشاف ہو گیا تھا۔ اس وقت بھی بڑے بڑے نام سامنے آنے تھے۔ اس وقت بھی قومی مجرموں کو سزا ملنی تھی ۔ اس وقت بھی بڑے بڑے برج الٹنے تھے۔ اس وقت بھی لوٹی ہوئی قومی دولت کا حساب ہونا تھا۔ اس وقت بھی مجرمان اور انکے بااثر سہولت کاروں کو عبرتناک سزا ملنی تھی۔
لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ وہی ایان علی انصاف کے منہ پر طمانچہ مار کر ہر طرف دندناتی پھر رہی ہے۔
داکٹر عاصم کا کیس بھی ابھی تازہ ہے۔ اچانک گرفتاری عمل میں آئی۔ ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ خبریں آنے لگیں کہ روز کئی کروڑ روپے کرپشن میں کمائے گئے۔ عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ دہشت گردوں سے رابطے کے انکشافات بھی سامنے آئے۔ دنیا بھرمیں سرمئی اکاونٹس کی تفصیل بھی سامنے آئی۔سیاسیت کے بڑے بڑے نام لرزکر رہ گئے۔
سہولت کاروں کے ملک سے فرار پر پابندی لگا دی گئی۔ نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ ریمانڈ کے دنوں میں اضافہ کر دیا گیا۔سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ بکتر بند میں مسلح حصار میں پیشیاں ہو نے لگیں۔ لیکن کچھ بھی نہیں ہوا اور کچھ بھی نہیں ہو گا۔کیونکہ یہی یہاں کی رسم ہے ۔ یہی اس ملک کی ریت ہے۔
رینٹل پاور پراجیکٹ کیس بھی یاد ہو گا آپ کو۔ یہی سب کچھ تو ہوا تھا۔ قومی مجرموں کے خلاف سراغ تو تب بھی مل گیا تھا۔
تب بھی اربوں کی لوٹی رقم وصول ہونے کا امکان تھا۔ تب بھی ملزموں کو قرار واقعی سزا ملنی تھی۔ تب بھی قومی خزانے کے لوٹنے والوں کو عبرتناک سزائیں ملنی
تھیں۔ کچھ بھی نہیں ہوا۔ اور کسی بھی کیس میں کچھ نہیں ہوتا۔ سوئس بینک کیس ہو، حج سکینڈل ہو، ٹڈاپ سکینڈل ہو، سرے محل، ترکی کے وزیر اعظم کی اہلیہ کے ہار کا غبن ہو ۔ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بس سکرینوں پر بریکنگ نیوز کے پھٹے مارے جاتے ہیں۔ لوٹی رقم لال رنگ سے لکھی دکھائی جاتی ہے۔
اخبارات میں شہ سرخیاں لگتی ہیں۔ معزز ملزمان کی تصاویر اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ اچانک سے نیب سے خفیہ دھندوں کے کارناموں کی لدی پھندی فائلیں بھی برآمد ہوتی ہیں۔ حد یہ کہ حالیہ کچھ واقعات میں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاتی ہیں۔ مسلح حصار میں عدالتی پیشی کی فوٹیج بھی چلتی ہے۔ سہولت کاروں کے نام بھی سامنے آتے ہیں ۔ مگر کچھ نہیں ہوتا۔ نہ کسی کو سزا ملتی ہے نہ کوئی ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔
تو صاحبان بات تو یہ پتہ چلی کہ نہ الزام لگانے سے کوئی فرق پڑتا ہے نہ تصویر دکھانے سے۔
نہ کروڑوں کی کرپشن کے اعداد کوئی فرق ڈالتے ہیں نہ جرائم کی طویل فہرست سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ نہ ظلم کی داستانیں گنوانے سے کوئی تشفی ہوتی ہے نہ ای سی ایل میں نام ڈالنے سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ فرق صرف انصاف کے چور دروازے سے پڑتا ہے۔جہاں ہر بڑا مجرم آکر جانے کیسے پناہ لیتا ہے ؟قانون کی کون سی ایسی کنجی ہے کہ سب باعزت رہا ہو جاتے ہیں۔ کسی کو سزا نہیں ہوتی۔ کوئی قصور وار نہیں نکلتا۔ کسی کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔
سب گواہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ سب ثبوت دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ سب دلیلیں آواز کھو دیتی ہیں۔ سب سہولت کار گم ہو جاتے ہیں۔ گھناونے جرائم کی فہرست اچانک ورق سادہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ گرفتاریوں کے بعد تو یہ مجرمان اور بھی پاک اور پوتر ہو کر نکلتے ہیں۔ پہلے چھپتے پھرتے ہوں گے مگر پھر سرعام ہمارے سامنے دنددناتے پھرتے ہیں۔
ہمیں سمجھنا ہو گا کہ انصاف صرف گرفتاری کا نام نہیں۔ انصاف صرف ہتھکڑیاں پہنا دینے کا نام نہیں۔
انصاف صرف ای سی ایل پر نام ڈال دینے کا نام نہیں۔ انصاف ان مجرموں کو چند دن کی جیل دکھانے کا نام نہیں۔ انصاف بکتر بند گاڑیوں میں عدالت کے سامنے پیشی کروانے کا نام نہیں۔عوام کی طرف سے ان مجرمان کو کوڑے لگیں یا درے مارے جائیں اس سے عوام کو فرق نہیں ۔ انکو سڑکوں پر گھسیٹا جائے یا انکی بامشقت قید میں ڈال دیا جائے۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا۔ فرق تو تب پڑے گا جب لوٹی ہوئی رقوم وطن واپس آئیں گی۔ مسروقہ املاک قومی خزانے کو واپس کی جائیں گی۔ لوٹا ہواخزانہ ان سے وصول کیا جائے گا۔ اربوں واپس اسی ملک میں لائے جائیں گے۔ٹیکس گزاروں کا پیسہ ملک کے کام آئے گا۔ اور اگر یہ سب نہیں ہو سکتا تو پھر کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے؟ایسا کیا ہو گیا ہے؟ کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے ؟کون سا آسمان گر پڑا ہے۔؟یک شخص ہی گرفتار ہوا ہے نا؟ کیوں اتنا شور مچا رکھا ہے؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے جمعہ فروری کے مزید کالم