ایک اور دھرنا ۔۔۔؟؟؟

ہفتہ فروری    |    پروفیسر رفعت مظہر

جب پاکستان میں اکلوتا پی ٹی وی ہوا کرتا تھا تو ہم اُس کے قسط وار ڈرامے بڑے شوق سے دیکھتے تھے ۔یہ ڈرامے ہفتہ وار ہوتے تھے اورہم پوراہفتہ بڑی بے چینی سے اگلی قسط کے منتظر رہتے۔ اب تو تفریحی چینلز کی بھرمار ہوگئی ہے اِس لیے ڈراموں میں وہ کشش باقی نہیں رہی ۔شایدانہی ڈراموں سے متاثر ہوکر محترم عمران خاں نے بھی اپنی قسط وار سیاست کاآغاز کیا ۔2011ء میں اُن کے مینارِ پاکستان میں کیے گئے سیاسی ڈرامے کی پہلی قسط اتنی زبردست تھی کہ باقی سیاسی اداکاروں کے چھکے چھوٹ گئے اورہر کوئی اپنے سیاسی تھیٹربند ہوجانے کے خوف میں مبتلاء ہوگیا ۔
اُس وقت صرف ہم ہی نہیں پوراملک ہی خاں صاحب کے ڈرامے کی اگلی قسط دیکھنے کے لیے بے چین رہتا۔نیوزچینلز کوتو ریٹنگ چاہیے ،خواہ وہ کہیں سے بھی ملے اِس لیے وہ گھنٹوں بلکہ پہروں خاں صاحب کے اِس سیاسی ڈرامے کی قسطیں دکھاتے رہتے ۔

(خبر جاری ہے)

طلسماتی شخصیت محترم عمران خاں کا یہ ڈرامہ اتنا مقبول ہوا کہ گھرگھر اِس پر تبصرے ہونے لگے ۔اِس ڈرامے کی خصوصیت یہ تھی کی اِس میں موسیقی بھی تھی ،ماردھاڑ اوربڑھکیں بھی لیکن آہستہ آہستہ یہ ڈرامہ اپنی کشش کھوتا چلاگیا اور اُس وقت تو اِس ڈرامے میں بالکل ہی جان باقی نہ بچی جب ایک کہنہ مشق فنکار نے ”اندرکھاتے“ ہی میدان مارلیا ۔

کچھ عرصے کے لیے تو سارے سیاسی تھیٹربند ہوگئے لیکن پھر عمران خاں نے ”دھرنا“ نامی ایک ایسی قسط پیش کی کہ سارے سیاسی تھیٹروں کے دَر آہستہ آہستہ وا ہونا ہونے لگے اور پھر ایک وقت ایسابھی آیا کہ ایک طرف اکیلے عمران خاں اوردوسری طرف سارے سیاسی تھیٹرمالکان ۔ شنید ہے کہ اب خاں صاحب دھرناپارٹ ٹو کاآغاز کرنے جارہے ہیں ۔
ہم توخوش تھے کہ چلو ہمارے سیاسی تھیٹروں کی رونقیں ایک دفعہ پھربحال ہوجائیں گی اور سونامیوں نے بھی دھوم دھڑکے کے لیے ”لنگوٹ“ کَس لیے تھے لیکن بُراہو پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاجس نے ہڑتال ختم کرکے فلائٹ آپریشن بحال کردیا حالانکہ اُسے حکومت کی جانب سے ملا ”کَکھ“ بھی نہیں ۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین نے تویہ کہہ دیاکہ معاملات سلجھ گئے اِس لیے احتجاج کاجواز باقی نہیں رہا لیکن حقیقت یہی ہی کہ حکومت ڈَٹی رہی اورہڑتالیوں کوہی ”نیویں نیویں“ ہوکر گھر لَوٹنا پڑاجس سے خاں صاحب کے دھرنا پارٹ ٹو کو بھی یقیناََ بہت بڑا دھچکا لگاہوگا ۔وہ توہڑتالیوں کے ساتھ ڈَٹ کر کھڑے ہوگئے تھے حالانکہ اُن کے اپنے منشورمیں بھی پی آئی اے کی نِجکاری شامل تھی لیکن اُنہوں نے دھرنا پارٹ ٹوکو کامیاب بنانے کے لیے ایک دفعہ پھریوٹرن لے لیا۔
یہ پی آئی اے والے بھی عجیب ہیں کہ جب اُنہیں بہت کچھ مل رہاتھا اور وزیرِاعظم صاحب نے ملازمین کے مکمل تحفظ کے ساتھ اگلے چھ ماہ تک نجکاری پروگرام کو ”فریز“ کرنے کی گارنٹی بھی دے دی تھی تاکہ پی آئی اے اپنی کارکردگی دکھاسکے ، اُس وقت یہ ”ھِل مَن مذید“ کے نعرے لگاتے رہے لیکن جب حکومت ڈَٹ گئی تویہ پیچھے ہَٹ گئے ۔ہم توہمیشہ پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف رہے ہیں اوراب بھی ہیں کیونکہ ہمارا نظریہ تویہ ہے کہ گھرکا سامان بیچنے سے گھربستے نہیں ،اُجڑ جاتے ہیں ۔
ہم نے انہی کالموں میں عرض کیاتھا کہ پی آئی اے کو بھی خواجہ سعدرفیق جیسا کوئی پُرعزم وزیرمِل جائے توایک دفعہ پھرپی آئی اے لاجواب لوگوں کی باکمال سروس بن سکتی ہے ۔ہوسکتا ہے کہ حکومت کے ذہن میں بھی کوئی ایسی ہی پلاننگ موجودہو لیکن ہڑتال نے سب کچھ ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ۔یہ ہڑتال شایدایک آدھ دِن بعدہی ختم ہوجاتی لیکن سیاسی جماعتوں کی” مہربانیاں “ جلتی پرتیل کاکام کرتی رہیں اورکپتان صاحب کی توآنکھوں کی چمک دوگنی ہوگئی ۔
وہ پی آئی اے ملازمین کے ساتھ اظہارِیکجہتی کے لیے ہفتے کواحتجاج میں شامل بھی ہوئے اوراپنے 5 نکات پرمشتمل مطالبات بھی پیش کردیئے ۔پتہ نہیں اُنہوں نے شیخ مجیب الرحمٰن کی طرح 6 نکات پیش کیوں نہیں کیے ۔شاید اُن کے ذہن میں ہوکہ 6 نکات بہت بدنام ہوچکے اِس لیے چلو ایک کم نکتے پرہی اکتفا کرلیتے ہیں ۔
خاں صاحب نے 2011ء میں اپنے آپ کو ”تھرڈآپشن“ کے طورپر پیش کیااوراِس میں کوئی شک نہیں کہ اِس میں اُنہیں کامیابی بھی حاصل ہوئی کیونکہ وہ پیپلزپارٹی کو پیچھے چھوڑکر آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کی حکومت بھی لے اُڑے لیکن وہ اسی پراکتفا کرنے کی بجائے سڑکوں پر نکل آئے کیونکہ اُنہیں وزیرِاعظم بننے کی جلدی ہی بہت ہے ۔
اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیاخاں صاحب مضبوط ترین پوزیشن پرموجود میاں نواز شریف صاحب کی حکومت کامقابلہ کرپائیں گے؟۔۔۔۔ یہ بجاکہ 2014ء کے دھرنے نے میاں صاحب کودفاعی پوزیشن اختیارکرنے پرمجبور کردیا تھا لیکن اب صورتِ حال یکسر مختلف ہے ۔اب خاں صاحب نہ تواُتنے ہردلعزیز رہے جتنے وہ 2011ء سے 2013ء کے دَوران تھے اورنہ ہی تحریکِ انصاف میں وہ اتحادنظر آتاہے جوپہلے تھا۔ اُنہوں نے مطالبات منظورنہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک شروع کرنے اوردھرنا دینے کااعلان توکر دیالیکن اب اُن کے اندازمیں وہ قطعیت نظرنہیں آتی جو کبھی ہواکرتی تھی ۔
یوں تو پیپلزپارٹی نے ”اندرکھاتے“ اپنی بھرپور حمایت کایقین دلارکھا ہے لیکن خاں صاحب تذبذب میں کیونکہ اُن کے ساتھ پہلے بھی ”ہَتھ“ ہوچکا ہے ۔وہ امپائرکی انگلی کھڑی ہونے کاانتظار کرتے ہی رہ گئے اورامپائر کی انگلی توکجا ،پوراامپائر ہی”پھُر“ ہوگیا۔ ویسے بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہاتھ ملانے میں تحریک ِانصاف میں ٹوٹ پھوٹ کاخدشہ ہے کیونکہ سونامیے تو”ہتھ جوڑی“ کے قائل ہیں ہاتھ ملانے کے نہیں۔ شایدیہی وجہ ہے کہ ابھی تک نہ توخاں صاحب نے دھرناپارٹ ٹو کے لیے کسی حتمی تاریخ کااعلان کیا اورنہ ہی احتجاجی تحریک کاحالانکہ اُن کی اتحادی جماعت اسلامی 23 مارچ کواحتجاجی تحریک کااعلان کربھی چکی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

دھرنا

پروفیسر رفعت مظہر کے ہفتہ فروری کے مزید کالم



متعلقہ کالم