ایل این جی ......تھوڑا سا انتظار

پیر فروری    |    خالد ارشاد صوفی

ایل این جی گیس معاہدے کے ٹھیک دو روز بعدایوان بالا میں حکومت پر نا صرف تنقید کی گئی بلکہ بات وزیر اعظم اور وزیر پیٹرولیم کے خلاف ریفرنس تک پہنچ چکی ہے۔پاکستان میں عوامی فلاح و بہبود کے بیسیوں منصوبے شروع کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہر حکومت کی اپنی ترحیجات ہوتی ہیں اگر ان ”ترجیحات “ کے باوجودجاری منصوبوں میں عوامی بہتری کی کوئی صورت موجو د ہو تو اس پر شکر بجا لانا چاہیے مگر ہمارے ہاں ہر منصوبہ تنقید ، تشویش اور اندیشوں کا شکار ہوجاتاہے ۔
ایل این جی معاہدے کے حوالے سے کچھ حقائق ہمیں تنقید کرنے سے پہلے ٹھنڈے دل سے رائے سازی کی دعوت دے رہے ہیں ۔
اس حقیقت سے کون آگاہ نہیں کہ پاکستان توانائی کی کمی کے شدید ترین بحران کا شکار ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ہمارے پاس اپنی ضرورت کے مطابق نہ بجلی ہے اور نہ ہی قدرتی گیس۔ گرمیوں میں جن کی راتیں مچھروں کی بِھن بِھن سنتے اور سردیوں میں صبحیں ناشتے کے بغیر گزرتی ہوں‘ ان سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے ہمارے ملک کی زرعی،صنعتی اور سماجی زندگی کس قدرمتاثر ہوئی ہے۔

دفتروں میں‘ نجی محفلوں میں‘ کھانے کی میز پر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں لوگ ایک دوسرے سے ایک ہی طرح کے سوالات کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بجلی کی کمی کب پوری ہو گی؟ اس سال سردیوں میں گھروں کو سوئی (قدرتی)گیس مل سکے گی یا نہیں؟ سی این جی سٹیشن پر قدرتی گیس کی سپلائی کب شروع ہو گی؟ موجودہ حکومت اور حکمران توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے یا نہیں؟ ان کا ایسے سوالات کرنا بنتا ہے۔
پچھلے حکمرانوں نے عوام کو بجلی کی قلت دور کرنے کے سلسلے میں اتنے لالی پاپ دیے کہ اب وہ دودھ کے جلے کی طرح چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے کا کوئی منصوبہ بنے یا ملک میں گیس کی قلت دور کرنے کے لئے مخلصانہ اقدامات عمل میں لائے جائیں‘ انہیں یقین ہی نہیں آتا کہ حکمران ان کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں۔ گزشتہ بدھ کے روز پاکستان نے قطر سے ایل این جی‘ جسے انگریزی زبان میں لیکویفائیڈ نیچرل گیس کہا جاتا ہے‘کے حصول کا معاہدہ کیا‘ جس کے تحت پاکستان قطر سے سالانہ ایک کھرب ڈالر کی گیس خریدے گا اور خریداری کا یہ عمل2031تک جاری رہے گا‘ یعنی اگلے سولہ برس۔
اس کے بعد دونوں ملک اگررضا مند ہو گئے تو اس معاہدے کی توسیع کی جا سکے گی یا نیا معاہدہ کیا جا سکے گا۔
آگے بڑھنے سے پہلے زرایہ سمجھتے ہیں کہ لیکویفائیڈ گیس کیا ہوتی ہے؟۔ سکول کے زمانے میں سائنس کا یہ سادہ سا اصول تو سبھی نے پڑھا ہو گا کہ جب گیس کو کسی سلنڈر میں ڈال کر اوپر سے دباؤ ڈالا جائے تو وہ اس دباؤ کے زیر اثر پہلے گیس سے مائع کی شکل اختیار کر جاتی ہے اور اگر یہ دباؤ بڑھاتے جائیں تو ایک مقام ایسا آئے گا کہ وہ مائع سے ٹھوس بن جائے گی‘ لیکن مائع کو ٹھوس کی شکل میں تبدیل کرنے کے لئے بے تحاشا دباؤ کی ضرورت ہوتی ۔
جدید دور میں گیس کو مائع شکل میں لانے کے لئے بہترین ٹیکنالوجی ایجاد ہوچکی ہے۔ پاکستان قطر سے اسی طرح کی مائع شکل میں گیس حاصل کرے گا‘ جس پر سے جب دباؤ ہٹایا جائے گا تو وہ دوبارہ گیس کی شکل اختیارکر لے گی اور جلانے کے کام آئے گی۔
ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ”پنڈ“بعد میں بستا ہے‘ اُچکے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ قطر سے کئے گئے ایل این جی معاہدے کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔
دونوں ملکوں کے مابین معاہدہ تو گزشتہ بدھ کے روز طے پایا‘ لیکن حکومت کے مستقل ناقدین کی جانب سے اس معاملے پر تنقیدکا سلسلہ کافی پہلے شروع ہو گیا تھا۔ ایل این جی کس قیمت پر خریدی جائے گی؟ اس سے منافع کتنا کمایا جائے گا؟ یہ عوام کو کس نرخ پر دستیاب ہو سکے گی؟۔ اس حوالے سے واویلے‘تجزئیے‘ تبصرے اور قیاس آرائیاں پچھلے تقریباً ایک سال سے جاری ہیں‘ حالانکہ حکومت کی جانب سے مسلسل یہ واضح کیا جاتا رہا کہ قطر سے گیس کی درآمد کے سلسلے میں کیا ہو رہا ہے۔
مثلاً اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جولائی 2013میں یعنی نئی منتخب حکومت کے قیام کے تقریباً ایک ماہ بعد ایم این پی آر(منسٹری آف پٹرولیم اینڈ گیس ریسورسز) کو یہ اتھارٹی دی کہ وہ ایل این جی درآمد کے لئے قطر گیس سے بات چیت کا آغاز کرے۔ اس وقت ارادہ تھا کہ 500ایم ایم سی ایف ڈی(ملین کیوبک فٹ پر ڈے) یعنی روزانہ 500ملین کیوبک فٹ گیس درآمد کی جائے گی۔ منسٹری آف پٹرولیم اینڈ گیس ریسورسز نے پاکستان سٹیٹ آئل اور قطر کی حکومت نے
قطر گیس (کمپنی)کو بات چیت کے لئے نامزد کیا۔
اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان انرجی سیکٹر میں تعاون کے ایک ابتدائی معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے۔ اگست 2014میں یعنی اس کے تقریباً ایک سال بعد ایل این جی کی قیمتوں پر مذاکرات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے چیئرمین سیکرٹری پٹرولیم مقرر ہوئے ان کے علاوہ فنانس ڈویژن‘ واٹر اینڈ پاور‘اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے نمائندے‘ جو ایڈیشنل سیکرٹری سے نچلے رینک کے نہ تھے ‘ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کے ڈائریکٹر جنرلز‘ مینیجنگ ڈائریکٹر پی ایس اور مینیجنگ ڈائریکٹر آئی ایس جی ایس ایل(انٹر سٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ) (سیکرٹری کمیٹی)۔
مختلف اداروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے اتنے ارکان کی موجودگی میں کس طرح گھپلا کیا جا سکتا؟۔معاملات کو مزید شفاف بنانے کے لئے کچھ بین الاقوامی اداروں سے بھی مشاورت کی گئی۔ اس کمیٹی نے قطر گیس کے ساتھ کئی اجلاس کئے اور 13جنوری 2016کوگیس کی طے کردہ قیمت اور دوسری شرائط پر مبنی رپورٹ اقتصادی رابطہ کمیٹی کوپیش کی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس رپورٹ کا بغور اور تفصیلی جائزہ لے کر طویل المدتی ایس پی اے (سیل اینڈ پرچیز ایگریمنٹ) کی اجازت دے دی۔
یہ معاہدہ سولہ سال کے لئے ہے اور 2016سے2031تک چلے گا اور گیس کی قیمت جس ماہ میں ایل جی کارگو پاکستان پہنچے گا اسی ماہ کے خام تیل کی عالمی قیمت کا13.37فیصد ہو گی۔ اس معاہدے کی دوسری تفصیلات اخبارات میں آ چکی ہیں اس لئے اب کوئی بھی معاملہ ڈھکا چھپا نہیں رہا ؛ چنانچہ ممکن ہے کہ بے جا تنقید کرنے والوں کے منہ پر بھی کوئی ڈھکن لگ جائے۔
اس معاہدے کے سلسلے میں کچھ اور کامیابیاں بھی حاصل کی گئی ہیں‘ جو ظاہر ہے کہ حکومت کے کریڈٹ میں جاتی ہیں۔
مثلاً یہ کہ پچھلے دس برسوں میں تین حکومتوں نے کئی بار ایل این جی حاصل کرنے کی کوشش کی ‘ لیکن انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ علاوہ ازیں ایل این جی پیدا کرنے والے کسی بھی ملک سے یہ ایندھن حاصل کرنے کی تیاریوں کے لئے کم از کم پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے‘ لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نے یہ کارنامہ محض 20ماہ کی قلیل مدت میں سرانجام دیا‘ جس سے پاکستان کے خلیج کے مسلم ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات کا ثبوت ملتا ہے۔
اس کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ ایل این جی کے اس معاہدے کے لئے کوئی حکومتی گارنٹی نہیں دی گئی۔
اب آتے ہیں قطر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی کی قیمت پر۔ ناقدین کے منہ آج تک کون بند کر سکا ہے۔ قطر پاکستان ایل این جی معاہدہ طے پانے کے بعد رائے زنی کی گئی کہ اس کے بجائے اگر ایران سے گیس حاصل کر لی جاتی تو وہ سستی پڑتی۔آئیے اس کا بھی تجزیہ کر لیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایل این جی کی قیمت 5.35ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (ون ملین برٹش تھرمل یونٹ ) مقرر کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ برٹش تھرمل یونٹ گیس نہیں بلکہ اس سے حاصل ہونے والی حرارت ناپنے کا سکیل ہے۔ ایک برٹش تھرمل یونٹ حرارت کی وہ مقدار ہے جو 16اونس پانی کا درجہ حرارت ایک ڈگری فارن ہیٹ بڑھانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دس لاکھ تھرمل یونٹ حرارت پیداکرنے کے لئے کتنی گیس کی ضرورت ہو گی اور 5.35ڈالر میں میں یہ کتنا سستا سودا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے حاصل ہونے والی گیس 5.70ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی شرح سے ملنا تھی۔
گزشتہ ماہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کام شروع ہوا۔ یہ منصوبہ مکمل ہو گیا اور اس سے گیس حاصل ہوئی تو وہ 5.90ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پر ملے گی۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قطر سے ایل این جی حاصل کرنے کا سودا مہنگا نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف ہماری ایندھن کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ اس گیس سے سستی بجلی بھی پیدا کی جا سکے گی۔
اپوزیشن اور معترضین سے درخواست ہے کہ ایل این جی کو آنے دیجئے۔حکومت کو اس منصوبے پر عمل درآمد کا کچھ وقت دیجئے اگر یہ معاہدہ ملک کے لیے بہتر ثابت نا ہوا تو تازہ دم قلم اور زبان سے تنقید کے تیر چلائیے گااور بھرپور توانائی سے ریفرنس کا آپشن بروئے کار لائیے گا لیکن فی الحال تھوڑا سا انتظار کیجئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

خالد ارشاد صوفی کے اتوار فروری کے مزید کالم