حیا کے سفیر

پیر فروری    |    زاہد رضا چوہدری

اللہ تعالی قرآن کی سورہ نور میں فرماتا ہے ”وہ لوگ جو ایمان والوں میں بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں،انکے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے“ اسی سورہ کی ایک اور آئت میں فرمایا ”مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،یہی انکے لئے پاکیزگی ہے،لوگ جو کچھ کریں،اللہ سب سے باخبر ہے۔اور مسلمان عورتوں سے بھی کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں“۔

صحیح بخاری کی روائت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں(یہود و نصاری) کی قدم بقدم پیروی کروگے۔اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہونگے تو تم لوگ اس میں بھی داخل ہونے کی کوشش کرو گے۔

(خبر جاری ہے)

ایک جگہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ سے روائت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب لوگوں کا یہ حال ہو جائے کہ وہ برئی دیکھیں اور اُسے بدلنے کی کوشش نہ کریں،ظالم کو ظُلم کرتے ہوئے پائیں اور اُسکا ہاتھ نہ پکڑیں،تو قریب ہے کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے، قسم تُم پر لازم ہے کہ بھلائی کا حُکم دو اور برائی سے روکو،ورنہ اللہ تُم پر ایسے لوگ مسلط کریگا جو تُم میں سے بدتر ہونگے،اور وہ تُم کو سخت تکلیف دیں گے۔

پھر تہارے نیک لوگ اللہ سے دعا مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوگی۔ “
چودہ فروری دنیا بھر میں ’اظہار محبت‘ کا دن ہے ،جسے پورے جوبن پر منایا جاتا ہے۔ دنیا اس دن ’ اظہار محبت میں ایسے خود کفیل نظر آتی ہے جیسے پورا سال نفرت کرتے گزرتی ہے۔‘ اس دن چھوٹا بڑا،شریف غیر شریف ، فنکار، اداکار، طالب علم استاد ‘ گویا ہر خاص و عام محبت کے اظہار کے لئے ایک دوسرے کو پھولوں کے تحائف پیش کر کے بین الاقوامی اجازت نامے سے ضرور مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
محبت کے اظہار کا یہ کھیل میاں بیوی یا شادی شدہ رشتوں کی بجائے غیر شادی شدہ افراد کے مابین زیادہ زور شور سے کھیلا جاتا ہے،جبکہ منچلے اور دل پھینک عہد و پیماں کی قلابیں ملاتے جامے سے باہر دکھائی دیتے ہیں،ان کی جانب سے اس دن نہ صرف رقص و سرور کی محافل کا انعقاد ہوتا ہے بلکہ اس سے آگے ’ سینسرڈ‘ سرگرمیاں بھی اپنے پورے جوبن پر رچائی جاتی ہیں۔۔دلچسپ بات یہ کہ کاروباری طبقہ یہ دن ایک تجارتی ذریعے کے طور پر پروموٹ کرتا ہے۔
جس میں میڈیا اور لبرل کلاس اپناکلیدی کردار ادا کرکے اس کی کامیابی کو یعقینی بناتے ہیں۔ بڑے بڑے سرما یہ دار ،ہوٹل مالکان ، ملکی و غیر ملکی کمپنیاں ، سب اپنے اپنے طریقہ واردات سے بھاری رقم سمیٹتے ہیں،یعنی ’ محبت کے اظہارکا دن‘ دنیا بھر میں اب کاروبار کا ایک منافع بخش دن بن چکا ہے ۔بحر کیف میری دلچسپی یہاں محض مذہب اسلام کے ماننے والوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے پیروکاروں سے بھی ہے،کیونکہ محبت کے اظہار کے نام پر یہ محرکات دراصل مسلم ہی نہیں بلکہ ہر مذہب رنگ و نسل کی تعلیمات کے برعکس ہے اور اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی ایسی غیراخلاقی سرگرمیوں کی ممانعت ہے۔
فرانس نے ایک موقع پراس لغو تہوار کو1776 میں ممنوع قرار دے دیا تھااور اٹلی،ہنگری، آسٹریا اور جرمنی نے بھی اس فحش رسم سے پیچھا چھُڑا لیا جبکہ انگلینڈ میں puritans کے دور حکمرانی تک اس پر پابندی رہی مگر چارلس دوئم نے اپنے رُمانوی ذوق کی بنا پر اسے دوبارہ ہوا دی۔۔ایک عیسائی روائیت کے مطابق،
ترجمہ:۔ چنانچہ خدا کی مرضی یہ ہے کہ تم پاک بنو یعنی حرامکاری سے بچے رہو(تھسلینکیوں باب4آیت3)
دوسری روائیت،
ترجمہ:۔
اور جیسا کہ مقدسوں کو منسب ہے تم میں حرام کاری اورکسی طرح کی ناپاکی یا لالچ کاذکر تک نہ ہو۔(افسیوں باب5آیت3)
تیسری روائیت،
ترجمہ:۔اسطرح ’سدوم اور عمورہ‘ اور انکے آس پاس کے شہر جو انکی طرح حرامکاری میں پڑ گئے اور غیر جسم کی طرف رغب ہوئے، ہمیشہ کی آگ میں گرفتار ہو کر جامی عبرت ٹھہرے ہیں۔(یہودہ باب1آیت7)
مندرجہ بالا روایات سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کا ہرمذہبی حلقہ کسی فحش اور لغو پر مبنی سرگرمیوں کی قطعی نفی کرتا ہے۔
یہ مذہب سے مفرور ،اخلاق کے دشمن اور روایات سے باغی اور تخریبی اذہان کی کاروائیاں ہیں جودنیاکو مثبت تہذیب اور طرز حیات کی بجائے منفی راستے کی طرف دھکیلتی ہے۔ مغرب نے اگر چہ اپنی الحامی کتابوں کے برعکس اپنے مذہب سے بیگانگی اختیار کرتے ہوئے اپنے تہذیب و تمدن میں لغویات و خرافات کی بھر مار کرلی ہے تاہم مسلمانوں نے بھی قرآن و حدیث کی تعلیمات کو پس پُشت ڈالنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں چھوڑی ہے۔
مسلمان نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کے ناطے آپﷺ سے محبت اور اُنکی تعلیمات پر عمل دارآمد کے داعی جبکہ دیگر مذاہب کے پیرو کار بھی اپنی مذہبی تعلیمات کے دعویدار نظرآتے ہیں۔اب تمام مذاہب کے پیرو کاروں کو گر اس بات کا ادراک ہے کہ انکے مذاہب میں ایسی غیر اخلاقی سرگرمیوں کی قطعی نفی کی گئی ہے تو پھر ایسی سرگرمیوں کا و قوع پذیر ہونا بالواسطہ یا بلا واسطہ مذہب سے رُو گردانی کے سوا کچھ نہیں ہے اور ایسی غیر اخلاقی سرگرمیوں کا رواج پانا ،دراصل مذہب کے اصل تشخص کی پامالی کا باعث بنتا ہے۔ اب فیصلہ یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ مذہبی تعلیمات کی روشنی میں تمام انسانوں کو دنیا میں حیا کا سفیر بن کر جینا ہے یابے حیائی کے علمبردار۔بصورت دیگر نبی اکرم کا یہ قول نقل کرونگا کہ، ”جب تجھ میں شرم نہ رہے تو جو چاہے کر“۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

زاہد رضا چوہدری کے پیر فروری کے مزید کالم