”نیا دور نئی تہذیب“

بدھ فروری    |    ممتاز امیر رانجھا

#عتیقہ اوڈھو اور مشرف دونوں نیک انسان ہیں۔
#بہنوئی کے رزق پر اترانے اور عیاشی کرنے والوں کی کمی نہیں۔
#جعلی ڈگری ہو لڈرز کو زیادہ عزت ملتی ہے اور فیک ڈگری ہولڈر کو بھی اسٹیٹس ہوتا ہے۔
#خوشامد ایک بہترین حکمت عملی ہے۔
#خوشامدی میراثیوں کی جدید نسل ہے۔
#گدھا ”ٹو پیس“ میں بھی گدھا ہی ہوتا ہے اس کی زبان اور اخلاق اس کی اہم پہچان ہوتی ہے۔
#سستی یا مہنگی چیز خریدنے سے اسٹیٹس نہیں دِکھتابلکہ جعلی امیر کی گھٹیا گفتگو ہی اس کی پہچان ہوتی ہے۔

#ڈاکٹر عاصم اور عزیر بلوچ جیسے انسان دیرپا کامیابی نہیں دلاتے۔
#حرام کمائی کبھی اپنی نہیں ہوتی،اس کو کمانے کے لئے نجانے کتنی رشوت دینا پڑے۔
#ہر اینکر پرسن او ر ہر کالم نویس ایماندا ر نہیں ہوتا۔

(خبر جاری ہے)


#مبشر لقمان کو چاہے جس چینل پر بٹھا دو بکواس ہی کرے گا۔
# ایماندار صحافی بھوکے مرتے ہیں اور بے ایمان راج کرتے ہیں۔
#ایوارڈ کسی غریب کی دعا سے بڑا نہیں ہوتا۔
#گدھے کا گوشت بیچنے والے قصاب نہیں گدھ کہلاتے ہیں۔


#کتے پالنے والے انسان نہیں ہوتے۔
# قسطوں پر چیزیں بیچنے والے سود کو آمدن قرار دیتے ہیں۔
#ملک ریاض کے علاوہ بھی کئی لوگ فائلوں کو پہیہ لگانا جانتے ہیں۔
#زمینوں پر قبضے کرنے والے پراپرٹی ڈیلر کہلاتے ہیں۔
#چوری کی چیزیں بیچنے والا ہی بڑا کباڑیا ہوتا ہے۔
#آج کل رشتے فیس بک اور وٹس ایپ پر ہی بنتے اور ٹوٹٹے ہیں۔
#سب سے غریب وہ ہے جس کے پاس فیس بک والا موبائل نہیں ہے۔

#سیلفیش لوگو ں کی کمی ہو گئی ہے کیونکہ سیلفی والے زیادہ ہو گئے ہیں۔
#فیک ڈگری ہولڈر کو لکھاری اور بھکاری میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
#لفٹ دینے اور لفٹ لینے والے دونوں ہی ایک دوسرے سے مطلب نکالتے ہیں۔
#حرام کمانا فیشن بن چکا ہے۔
#زیادہ کرپشن کرنے والا زیادہ کامیاب ٹھیکیدار کہلاتا ہے۔
#وینڈر اور پھیری والے دونوں گاہک گھیرنا جانتے ہیں۔
#والدین سے زیادہ فیس بک بچوں کی تربیت کرتا ہے،یہ بچے کی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ پازیٹو تربیت لیتا ہے یا نیگیٹو۔

#امیر دوست دودھ دینے والی بھینس کی مانند ہوتا ہے۔
#غریب دوست گھریلو ملازم دکھائی دیتا ہے۔
#وائی فائی والا گھر تنہائی کا شکار نہیں ہوتا۔
#والدین بے شک نہ ہوں وائی فائی ضرور ہونا چاہیئے۔
#”ہم شریف کیاہوئے سارا زمانہ بدمعاش ہو گیا “سب سے مشہور ڈائیلاگ ہے۔
#جس کی بہن خوبصورت ہے اس کے دوست زیادہ ہوتے ہیں۔
# سرکاری ڈرائیور پٹرول ہی نہیں سرکاری گاڑیوں کے پارٹس اور گاڑیاں بھی چوری کرتے ہیں۔

#بے ایمان کلرک بینک مینیجر سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
#بیوی کو سمجھنا پروگرامنگ سے زیادہ مشکل کام ہے۔
#بے ایمان چپڑاسی دفتر کا بادشاہ ہوتا ہے۔
#پڑوسی کا مرنا گلی میں جانور کے مرنے کے برابر ہوتا ہے۔
#امیر آدمی گاڑیاں ایسے بدلتے ہیں جیسے گوالا بھینس۔
#بیٹیاں اپنی ماؤں کو بڑی خوشی سے ہیپی ویلینٹائین ڈے کہنے والوں کے نام شوق سے گنواتی ہیں۔
#گھر میں اذان کی آواز آئے نہ آئے ،گھر میں ساؤنڈ سسٹم ہیوی ہونا چاہیئے۔

#جو ذائقہ ہوٹل کے ”کھوتے“ میں ہے وہ گھر کی مرغی میں کہاں؟
#عائشہ ممتا ز نے بڑے ”مردہ گدھے“ پکڑوائے لیکن قصائی کہاں باز آتے ہیں۔
#میاں صاحب کے پانچ سال پورے ہوتے ہی یو پی ایس کا کاروبار ٹھپ ہوجائے گا۔خواب
#میٹروبس اور نج ٹرین لانے والے کچی گلیاں اور ٹوٹی پھوٹی سٹرکیں ٹھیک نہیں کر سکے۔
#واسا کے پانی میں مینڈک فری میں آتے ہیں۔
#ایک سالہ بچہ صبح اٹھتے دودھ نہیں مانگتا بلکہ کہتا ہے بابا کا سمارٹ فون دے دیں۔
#میرا نے نکاح پر نکاح نہیں بلکہ نکاح پر شادی کی ہے،یہ کونساجرم ہوا؟
#عمران خان تیسری شادی کرکے نیا پاکستان بنانے انڈیا جائیں گے۔
#بجلی آجائے تو بتانا میں نے نیا گانا ڈاؤن لوڈ کرنا ہے۔
#اداکارہ نور نے ہندو سے شادی کی لیکن اس کا نور ابھی بھی باقی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ممتاز امیر رانجھا کے منگل فروری کے مزید کالم