آہ سر احسن اختر ناز

بدھ فروری    |    حُسین جان

تو جب تک جیا ،خوشبو تیرے بدن سے آتی رہی
مر کر بھی تیرے گلاب سوکھے نا ہوں گے
بی اے پاس کر لینے کے بعد بڑی خوائش تھی کہ جامعہ پنجاب کے ادارہ صحافت سے ایم اے کی ڈگری حاصل کروں۔ کسی نے ناز صاحب کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہمارا سلام کہنا اگر تم میرٹ پر آگئے تو داخل کر لیے جاؤ گے۔ قسمت اچھی تھی لہذا میرٹ لسٹ میں نام آگیا۔ پہلے دن اُن کے دفتر میں داخل ہوا تو بولے ہاں بھی کدھر آئے ہو۔
اپنا مدا بیان کیا تو کہنے لگے بس سن لی ہے بات چل ہون دوڑ جا۔ ہم خوشی سے سرشار تھے کہ اگلے دو سال تک انہی سے واسطہ رہنا ہے۔
ٓاحسن اختر ناذ صاحب ایک ادارا تھے اپنے آپ میں ایک انجمن تھے۔ اُن کے دُنیا سے چلے جانے سے جامعہ پنجاب یتیم ہو گئی ۔ پنجاب یونی ورسٹی ایک ایسے نرم دل سے محروم ہو گئی جس کی مثال نہیں ملتی۔

(خبر جاری ہے)

میں نے دو سال میں کبھی اُن کو غصے میں نہیں دیکھا۔ وہ کسی سے زاتی دشمنی نہیں رکھتے تھے۔

وہ اکثر ڈیپارٹمنٹ میں کوئی نا کوئی سیمنار ، یا بحث و مباحثہ کروایا کرتے تھے۔ تاکہ طلباء کے علم میں اصافہ ہو اور وہ لکھنے لکھانے میں محارت حاصل کر سکیں۔ ناز صاحب اندرونی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نیکبھی کسی اُستاد کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔ وہ جب تک ادارئے کے Directorرہے اُسے اپنے نام کی طرح احسن طریقے سے چلاتے رہے۔ یہ اُنہی کا فیض ہے کہ ہم جیسے نالائیک بھی آج ڈگری ہولڈر ہیں۔
اُن کا مطالعہ بہت وسعِ تھا۔
وہ اپنے کام کے ساتھ اتنے مخلص تھے کہ ڈیوٹی ٹائم میں اخبارات بھی نہیں پڑھتے تھے۔ جب ڈیپارٹمنٹ بند ہوجاتا تو رات دیر تک اخبارات کا مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ وہ کسی بھی موضوع پر گھنٹوں بات کر سکتے تھے۔ وہ نہایت سادہ لباس مگر خوش خوراک تھے۔ کبھی کوئی اُن کے پاس کسی کام سے جاتا تو وہ نہ نہیں کرتے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی کہ وہ ہر کسی کے کام آئیں۔ شوگر کی بیماری اُن کو اندر ہی اندر سے کھا رہی تھی۔
بقول ایک شاگرد کے جس کا کہنا ہے وہ اُسے اکثر تحفہ کہ کر پکارتے تھے کہ ڈاختر احسن اختر ناذ صاحب انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن کے ماتھے کا جومر تھے۔ اور یہ بات ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ماتھے کا جومرنہ رہے تو مانگ سونی ہو جاتی ہے۔ لاوارثی کا احساس شدت اختیا ر کرجاتا ہے۔
وہ اکثر ہم سے کہا کرتے تھے تم لوگ یہاں شامیں منانے آتے ہو پڑھنے نہیں، اُن کا یہ معمول ہوتا تھا کہ پورے ڈیپارٹمنٹ میں چکر لگاتے رہتے تھے۔
جو طلباء اُن کو کلاسز سے باہر نظر آتے اُن کو پیار سے ڈانٹ کر کلاس میں بھیج دیتے ۔ اُن کے پڑھانے کا انداذ بھی دوسرئے اساتذہ سے مختلف تھا۔ وہ تدریس میں روایتی طریقے کے سخت خلاف تھے۔ کلاس میں آکر وہ کوئی موضوع چھیڑ دیتے اور پھر ہمیں کہتے کے اس موضوع پر اپنا اپنا نطقہ نظر پیش کرؤ۔ حس مزاح میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور حاضر جوابی میں تو کمال تھا اُن کو۔ ایک دفعہ ہمیں پڑھا رہے تھے کہ ہم سے پوچھا کہ طالبان کے کے بارئے میں اپنی اپنی رائے دیں۔
کلاس کا ایک شوخا سا لڑکا اُٹھا اور بات شروع کرتے ہوئے بولا "گلبدین، حکمت اور یار"ابھی یہاں تک ہی پہنچا تھا کہ ناز صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ پتر بیٹھ جا اور گھر جا کر کسی کتاب کا مطالعہ کرنا جس میں طالبان کے بارئے میں تفصیل لکھی ہو۔ کیونکہ جو نام تم لے رہے ہو یہ تین لوگ نہیں بلکہ ایک ہی شخص کا نام ہے۔
ناذ صاحب کی ایک عادت کی ہم اکثر ممکری کیا کرتے تھے ، وہ جب بھی کلاس میں داخل ہوتے توزورر سے بولتے کہ ہاں بھئی کیا ہو رہا ہے۔
کون کون کلاس میں ہے اور کون کون کنٹین میں بیٹھا شام منا رہا ہے۔ پھر وہ کسی کو بھیج کر کیفے میں سے تمام طلباء کو بلاتے۔ جیسے جیسے سب آتے جاتے ناز صاحب کوئی نہ کوئی جملہ کستے رہتے۔ ناز صاحب کی عادت ہوتی تھی کہ وہ کبھی بھی اٹینڈنس خود نہیں لگاتے تھے یا تو سب کو پکڑا دیتے کے اپنی اپنی حاضری لگا کر دوسروں کو پاس کر دیں یا پھر CRکو کہتے کہ تم جو جو آیا ہے اُس کی حاضری لگا دو۔ وہ اکثر حیران ہوتے کے کلاس میں تو صرف چند لوگ بیٹھے ہیں لیکن حاضری سب کی لگی ہوئی ہے۔

وہ پیار بھری دھمکیاں بھی اکثر ہمیں دیتے رہتے۔ ایک دفعہ پیپروں کے دوران ہم سے کوئیغلطی ہو گئی اور نگران صاحب ہمیں اُن کے پاس لے گئے۔ پہلے انہوں نے ڈانٹا پھر کہا کہ پتر تجھے تو میں فیل ہی کروں گا۔ تیرا پیپر کینسل ہوگا۔ چل سائد پر لگ کر کھڑا ہو جا۔ ابھی مجھے کھڑئے 2منٹ بھی نہیں ہو ئے تھے کے بولے جا دفعہ ہو جا جا کر پیپر دے۔ ایسے ہی تھے ناز صاحب سب کے پیارے سب کے دلارے۔ بہت سے لوگ اکثر اُن کے خلاف سازشیں کرتے رہتے اور کچھ کامیاب بھی ہو گئے ۔

وہ جب تک صحت مند رہے اُنہوں نے اپنا رشتہ تعلیم و تدریس کے ساتھ قائم رکھا۔ وہ مسلسل جدوجہد کرنے والے انسان تھے۔ اپنا کام وہ ہمیشہ ایمانداری سے کرتے تھے۔ اُن کے لگائے ہوئے پھول آج مختلف چینلز اور اخبارات میں خوشبو بکھیر رہے ہیں۔ وہ اپنے طلباء کی مدد کرنے کو ہر وقت تیار رہتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا یہ میرے پھول ہیں جو ہمیشہ گلشن میں مہکتے رہیں گے اور ان کی خوشبو سے پورا ملک معطر ہوتا رہے گا۔
اسی لیے تو اُن کے بارئے میں لکھنے والوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں ۔ ہر ایک کی کوشش ہے کہ اُن کے ساتھ بتائے ہو ئے ہر لمحے کو قلم بند کیا جائے۔ میں کوئی بڑا لکھاری تو نہیں نہ ہی میری تحریر میں چاشنی ہے مگر پھر بھی اپنی سی کوشش کی ہے کہ اپنے اُستاد محترم کو خراج تحسین پیش کروں۔ وہ جہاں پہنچ چکے ہیں وہاں وہ کسی کی تحریر کے محتاج نہیں ۔ اللہ اُن کے درجات بلند فرمائے اور اُن کو جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حُسین جان کے بدھ فروری کے مزید کالم