تبدیل ہوتا تھانہ کلچر۔۔۔لیکن!

جمعہ فروری    |    حافظ ذوہیب طیب

ماضی قریب میں محکمہ پولیس کو عوام کی طرف سے شدید نفرت کا سامنا کر نا پڑتا تھا جسکی بڑی وجہ پولیس ملازمین کا ہتک آمیز رویہ تھا۔ فرعونی غرور سر پر چڑھائے یہ لوگ انسان کو انسان نہیں سمجھتے تھے ۔ جسکی وجہ سے عام آدمی تو دور کی بات معاشرے کا پڑھالکھا طبقہ اپنے جائز کام کے لئے بھی تھانہ جانے سے حتی الامکان گریز کر تا تھا ۔ چند ٹکوں کی خاطرلوگوں کی عزتوں کو خاک میں ملا دینا ان کا نصب العین سمجھا جا تا جبکہ مجرم کو بے گناہ اور بے گناہ کو مجرم بنا دینا ان کے دائیں ہاتھ کا کام ہو تا تھا۔
انصاف طاقت ور کے گھر کی باندی اور کمزورجس کے حصول کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھاتے نظر آتے اورغنڈے، بد معاش اور سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والے ”کن ٹٹے“ تھانوں میں اپنی مرضی کے ایس۔

(خبر جاری ہے)

ایچ ۔اوز اور باقی عملہ تعینات کراتے تھے۔
گذشتہ دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی عوام کے سماجی مسائل سے چشم پوشی اور اس حوالے سے آئین و قانون پر عملدرآمد میں کوتاہی سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت کے دوران بے لاگ ریمارکس دیتے ہوئے بھی جس طرف اشارہ کیا ہے کہ تھانے کروڑوں میں بکتے اور ایس۔

ایچ ۔اوکروڑوں دے کر لگتے ہیں ۔ انصاف کے حصول کے لئے کوئی سائل تھانے میں مقدمہ درج کرانے کے لئے جائے تو اسے عملے کی طرف سے ذلت آمیز سلوک کا سا منا کر پڑتا اور پیسے لئے بغیر اس کی شنوائی نہیں ہوتی ۔ اکثر مقدمات تو درج ہی نہیں ہوتے جس کے لئے سائلین کو اعلیٰ عدالتوں کو دروازہ کھٹکٹا نا پڑتاہے۔ تفتیش اور چالان پیش کر نے کا نظام بھی اتنا ناقص ہے کہ مقدمات عدالتوں میں بھیجے جانے کے عمل میں کئی کئی مہینے لگ جاتے ہیں ۔

قارئین !مجھے یہ لکھتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ لاہور میںآ پریشن ونگ کی حد تک تھانہ کلچر میں کافی حد تک تبدیلی دیکھنے کو نظر آئی ہے جس کے لئے سی۔سی۔پی۔او امین وینس اورڈی۔ آئی۔جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف نے اپنے تما م وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے مشکل کام کا بیڑہ اٹھایا اور اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کی ۔ اس کے لئے انہوں نے سب سے پہلے تھانہ کلچر میں ”منشی ازم“ کو کمزورکر نے کے لئے پڑھے لکھے ایماندار ایڈمن افسروں کو تھانے میں تعینات کیا اور اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے صدیوں سے جاری گھسے پٹے نظام کو منشی خانوں کی پوٹریوں میں دفن کر دیا۔

برادرم حماد اسلم کی اخباری پورٹ کے مطابق1،ڈی آئی جی،3ایس پی،11ڈی ایس پی،132انسپکٹر اور 3500کانسٹیبل ، پولیس کے اعلیٰ افسران،وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ پنجاب اور انکے عزیزوں کو سیکورٹی فراہم کر نے کے لئے مصروف عمل ہیں۔ میں ان دونوں افسران کی قابلیت کا اس لئے بھی قائل ہوں کہ نفری کی شدید کمی پر بھی انہوں نے کافی بہتر انداز سے ڈلیور کیا اور کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ تھانوں کے تما م بیٹ افسران کوخصوصی ایپ سے مزین اینڈ رائیڈفون کی فراہمی جس کی وجہ سے دنوں کا کام سیکنڈوں میں ہو جا تا ہے ۔
اسکی مدد سے تھانے یا ناکے پر کھڑا اہلکار کسی مشکوک شخص اور گاڑی کو روک کراس کا شناختی کارڈ نمبر یا اسکی گاڑی کا نمبر درج کرے گا تو کچھ ہی سیکنڈ میں اس کا تما م بائیو ڈیٹا سکرین پر آجا تا ہے جس سے یہ معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں کہ یہ شخص کسی مقدمے میں پولیس کو مطلوب یا اس کی گاڑی وموٹر سائیکل چوری کی تو نہیں؟حال ہی میں ڈی۔آئی۔جی کے آفس میں قائم کردہ مرکزی آپریشن روم جسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا ہے کو بھی لاہور کے تمام تھانوں بشمول ڈویژنوں کے ساتھ منسلک کر کے روزانہ کی بنیاد پر پولیس رسپانس یونٹ کی نقل و حر کت کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔
اس کے علاوہ یہاں سائلوں کی سوشل میڈیا، ایس ایم ایس ،وٹس ایپ اور ہیلپ لائن پر آنے والی کالز کو مانیٹر کر کے متعلقہ حکام تک پہنچایا جا تا ہے جس کے بہت اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں ۔
قارئین محترم ! میں یہاں بالخصوص ذکر کروں گا ڈاکٹر حیدر اشرف کا جنہوں نے سابقہ پولیس افسران کی طرح رویہ اختیار نہیں کیابلکہ وہ لوگوں کے مشوروں کو بغور سنتے اور اس پر عملدرآمد کر نے کی ہر ممکنہ کوشش بھی کرتے ہیں جس میں سے ایک موٹر سائیکل سوار شہریوں کی بغیر کسی وجہ سے کے پکڑ دھکڑ اور تھانوں میں بند کر نے کا جو رواج تھا اسے ختم کیاجو یقینا ایک بہت بڑا اقدام ہے ۔
بے شک ان تما م کاوشوں کی وجہ سے تھانہ و پولیس کلچر میں بہتری آئی ہے اور خوشی کی بات تو یہ ہے جس کاسینئر صحافیوں اور کالم نگاروں نے بھی اپنی رپورٹس اور کالموں میں ذکر کیا ۔نہیں تو اکثر پولیس افسران کو یہ شکوہ ہو تا تھا کہ میڈیا ہمارے اچھے کاموں کو بھی منفی رنگ دے دیتا ہے ۔
لیکن ! تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے کی جانے والی ان سب کاوشوں پر اُس وقت پانی پھر جاتا ہے جب کسی تھانے دار کے ہاتھوں معصوم اور بے گنا ہ شخص موت کی وادی کا مسافر بن جاتا ہے ۔
تھانے کا چھوٹا عملہ منشیات فروشوں ، جواریوں اور بد معاشوں کے ساتھ مک مکا کر کے اور ان سے بھاری منتھلیاں لے کر گلیوں ، محلوں اور شہروں کو ان مافیاز کے ہاتھوں یر غمال بنا کر خاموش تما شائی کا کردار اداء کرتے ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ پولیس ملازمین بالخصوص تھانے میں تعینات عملے کی اخلاقی اور سماجی تر بیت کا آغاز بھی کر دیا جائے ۔ امید ہے کہ اس طرح مزید بہتر طور پر تھانہ کلچر کی تبدیلی کے ثمرات نظر آنا شروع ہو جائیں گے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

تھانہ

حافظ ذوہیب طیب کے جمعہ فروری کے مزید کالم



متعلقہ کالم