کرپشن فری پاکستان کیسے ممکن ہے

منگل فروری    |    میر افسر امان

اس سے قبل کہ اصل موضوع ،کرپشن فری پاکستان کیسے ممکن ہے پہلے پاکستان میں جاری کرپشن پر بات کر لیتے ہیں تاکہ اس کا حل پیش کرنے میں آسانی ہو۔ صاحبو!پاکستان کا المیہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن اُوپر سے نیچے تک پھیلی ہوئی ہے۔پاکستان کے ہر روز کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو کرپشن کی خبروں سے بھر ے پڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان کے الیکٹرونک میڈیا پر پروگرام دیکھیں ہر چینل پر اینکرز حضرات سیاست دانوں اور بیروکریٹس کی کرپشن کے ثبوت پیش کر رہے ہوتے ہیں۔
سیاست دانوں کی تقریریں سن لیں وہ ایک دوسرے کی کرپشن کے قصوں سے بھری ہوتی ہیں۔ دوسری طرف سیاست دان کرپشن کو پکڑنے والے اداروں پر بھی کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں۔پاکستان کے مرد اوّل اور اس کے بعد پاکستان کے صدر بننے والے صاحب پر کرپشن کے مقد مات قائم ہوئے تھے۔

(خبر جاری ہے)

جب پاکستان کے مرد اوّل تھے، تونو سال کرپشن کے مقدمات میں جیل کاٹ چکے ہیں ٹین پرسنٹ سے ہنڈرنٹ پرسنٹ تک مشہور ہوئے تھے۔ جب صدر بنے تو صداراتی استثنیٰ کا سہارا لے کر کرپشن کے مقدمات سے بچتے رہے۔

اخباری خبروں کے مطابق اسی دوران کرپشن کا ریکارڈ بھی گم کر دیا تھا۔ ان پر نیپ نے کچھ دن پہلے یہ کہہ کر کرپشن کا مقدمہ خارج کر دیا کہ فوٹو اسٹیٹ پر کرپشن کے مقدمے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ گذشتہ الیکشن کے دوران موجودہ حکمرانوں نے ان کو گلے سے پکڑ کر کرپشن کا پیسہ وصول کرنے کے وعدہ پر الیکشن جیتے تھے۔اب اقتدار میں آکر اپنے دعوے بھول گئے ہیں اور کرپشن کا پیسہ اب بھی سوئس بنکوں میں ویسے کا ویسا ہی پڑا ہوا ہے۔
اس کے بدلے حکومت آرام سے چلانے کے لیے اب موجودہ اپوزیش ان کے ساتھ فرنڈلی اپوزیشن والا معاملہ کررہی ہے۔یہی اپوزیشن جب اقتدارمیں تھی تو اس کے دو وزیر اعظموں پر کرپشن کے مقدمے قائم ہوئے تھے جو اب بھی چل رہے ہیں۔ان کے وزاراء پر بھی کرپشن کے مقدمات قائم ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے نیپ نے ۱۵/ برس قبل کے۱۵۰/ کیسز جس میں موجود ہ وزیر اعظم صاحب،وزیراعلیٰ اور کچھ وزیروں کے خلاف ،جن میں قاف لیگ کے صدر بھی شامل ہیں سپریم کورٹ میں نیپ میں زیر التو کرپشن کیسز کی لسٹ جمع کرائی تھی۔
جس پر وزیر اطلاعات برہم ہوئے تھے اور کہا تھا کہ نیپ کی کرپشن کے کیس بھی کہیں چلنے چاہیئں۔ نجی ٹی وی کے پروگراموں بتایا گیا ہے کہ نیپ پر پریشر تھا کہ اُس کو صرف سندھ میں کرپشن نظر آرہی ہے کیاپنجاب میں کرپشن نہیں ہے ۔اس پرنیپ نے پنجاب کے کچھ کیسز تیار کیے ہیں جس میں حکومت کے اہلکار اور بیروکریٹس اور خود وزیر اعظم صاحب بھی شامل ہیں۔ بہاول پور میں نون لیگ کے بلدیاتی الیکشن جیتنے والے حضرات کے پروگرام میں موضوع سے ہٹ کر وزیر اعظم صاحب نے نیپ پربڑی سخت تنقید کی اور کہا کہ نیپ حکومت کے لوگوں کو ناجائز تنگ کر رہی ہے۔
ایماندار لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور یہ کئی سالوں سے ہو رہا ہے۔ اس سے ترقی رک رہی ہے۔ بلکہ نیپ کے سربراہ کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر آپ باز نہ آئے تو اس پر ضروری قانونی کاروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ اس پر پیپلز پارٹی کے سابقہ مرد اوّل/ صدر صاحب نے دبئی سے بیان جاری کیا کہ وزیر اعظم صاحب صرف نیپ ہی نہیں ایف آئی اے بھی ناجائز لوگوں کر تنگ کو رہی ہے۔عمران خان جو خود تو کرپشن سے پاک ہیں مگر ان کی پختونخواہ کی حکومت نے بھی قانون سازی کی ہے کہ کسی ممبر اسمبلی کو کرپشن پر پکڑنے سے پہلے اسپیکر سے اجا زت لینی پڑے گی۔
بیوروکریٹ کو پکڑنے سے پہلے سیکرٹیری سے اجازت لینے پڑے گی۔اس پر احتجاج کرتے ہوئے خیبر پختون خواہ کے نیپ کے ڈائریکٹر نے استعفیٰ دے دیا ۔ یہ ساری داستان سنانے کا مقصد کسی کو بدنام کرنا نہیں ہے۔ بغیر ثبوت کسی کو گرفتار کرنا بے انصافی ہے۔ ثبوت ملنے پر اور ثابت شدہ کرپشن کے عوض صرف ۱۵ / فی صد لیکر کرپٹ لوگوں کوچھوڑدینا بھی مکمل انصاف نہیں۔اس طرح تو لوگ کرپشن کو کاروبار بنا لیں گے جیسے سیاستدانوں نے بنایا ہوا۔
صاحبو!ہمارے ملک کے سربراہ ہی اگر کرپٹ ہوں تو دوسروں کو بھی کو شہ ملتی ہے۔ اسی لیے ہر طرف کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے۔ کرپشن کی روک تھام کے لیے ہمارے ملک کے سیاسی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ سیاسی لوگ الیکشن جیتنے کے لیے کڑروں روپے خرچ کرتے ہیں پھر اقتدار میں آکر عوام کی کمائی میں اربوں کی کرپشن کرتے ہیں۔ سیاست دان الیکشن کے مقررہ اخراجات کو اپنے گوشواروں میں غلط بناتے ہیں مگر صرف نمائشی اقدامات کے علاوہ ان کی پکڑ نہیں ہوتی۔
ہمارے ملک میں سرمایا کے بغیر کوئی بھی الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ سیاست کو پیسے کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔ اصلاح اس طرح ہو سکتی ہے کہ سب سے پہلے آزاد اور خود مختیار الیکشن کمیشن بنے۔ ملک میں ووٹر لسٹیں نیشنل آئڈنٹی کارڈ کے تحت نادرہ بنائے۔ حلقہ بندیاں شفاف طریقے پر بنائی جائیں۔ الیکشن الیکٹرونک طریقے پر ہوں جیسے ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ہوتے ہیں۔ الیکشن میں سیاسی پارٹیاں اپنا پروگرام حکومت پاکستان کے ٹی وی اسٹیشن کے ذریعے پیش کریں ۔
اس میں حکومت دوسرے نجی ٹی وی اسٹیشنوں کو پیسے ادا کر کے سیاسی جماعتوں کو اپنے منشور پیش کر نے کا بھی اہتمام کرے۔تا کہ شہروں شہر بڑے بڑے جلسے کر کے منشور پیش کرنے میں جو بے انتہا پیسے خرچ ہوتے ہیں وہ خرچ نہ ہوں اور لوگ بغیر پیسہ خرچ کرے الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ الیکشن کے دوران سیاسی پارٹیوں کو کارنرز میٹنگ کی اجازت ہو ۔ صرف ایک ایک بڑا جلسہ کرنے کی اجازت ہو۔ الیکشن کئی مرحلوں میں ہوں۔ ملک میں ہر مناسب جگہوں پر پولنگ اسٹیشنز قائم ہوں جہاں لوگ مقررہ وقت تک اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں جیسے برطانیہ میں ہوتا ہے۔
الیکشن میں حصہ لینے والے سیاسی پارٹیوں کے امید واروں کے الیکشن سے پہلے اثاثوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے اور الیکش جیتنے کے بعد ہر دو سال میں اسکے اثاثوں کی جانچ پڑتال کا موثر نظام کا وضع کیا جائے۔کوئی بھی شہری کسی بھی حکومتی اہلکار یا بیروکریٹس پر عدلیہ میں مقدمہ قائم کرنے کا حق رکھتا ہو۔ مقدمے کا فیصلہ کم از کم وقت میں کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں ۔ عوام اور سیاسی پارٹیوں سے رائے معلوم کر کے الیکشن کو مذید بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی جائے۔
یہ سب کام ایک ایماندار الیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے جس پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔ یہ سارے کام کر لینے کے باوجود اصل کا م تو پاکستان کے عوام نے کرنا ہوتا ہے جو کہ ووٹرز ہیں ان کو بھی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ عوام برسا برس سے ان ہی لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں جن کی کرپشن انہیں معلوم ہوتی ہے۔ عوام کو بھی اس روش کو تبدیل کرنا ہو گا۔ کیا پاکستان کے عوام کو ان کے شہروں، محلوں اور گلیوں میں ایسے پڑھے لکھے لوگ نظر نہیں آتے جو کرپشن سے پاک ہیں اور ہر الیکشن میں اپنے آپ کو پیش بھی کرتے ہیں؟ کیا ان کرپشن سے پاک لوگوں کو سارا پاکستان نہیں جانتا؟پاکستان میں یہ ہزاروں لوگ بلدیاتی ، صوبائی،قومی اور سینیٹ میں نہیں رہے ہیں؟ کیا کبھی ان لوگوں پر کسی بھی طرف سے کرپشن کا الزام لگا ہے؟ کیا ان کی جماعت کو سارا پاکستان منظم اور جمہوری نہیں مانتا؟ کیا یہ جماعت اپنے اندرونی انتخابات جب سے یہ قائم ہوئی ہے تسلسل سے نہیں کروا رہی ہے؟ کیا اس جماعت کا کوئی فرد اپنے آپ کو الیکشن کے لیے پیش کر سکتا ہے جب تک اس جماعت کی شوریٰ اسے انتخاب کے لیے نامزد نہیں کرے؟ کیا یہ جماعت ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتی رہی۔
کیمنسٹوں کے نعرے ایشیا سرخ ہے کو کس جماعت نے روکا تھا اور قوم کو نعرہ دیا تھا کہ ایشیا سبز ہے؟ کیا یہ پاکستانی عوام کی خاموش اکثریت کی خواہشات کے مطابق اسلامی نظامِ حکومت کی داعی نہیں ہے؟ ا گر یہ ساری باتیں صحیح ہیں بلکہ ہماری ذاتی معلومات کے مطابق سو فی صد صحیح ہیں تو پھر عوام ان کو منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں میں کیوں نہیں بھیجتے؟ اگریہ ایماندار لوگ پاکستان کے ایوانوں میں جاتے تو نہ کرپشن ہوتی اور نہ ہی آج جیسے حالت پیداہوتے اور ملک ترقی کرتا۔
صاحبو!کرپشن کا ایک ہی حل ہے کہ ایسی خوبیوں والی جماعت کے لوگوں کو ایوانوں میں بھیجا جائے تاکہ عوام کی کرپشن سے جان چھوٹے ۔ یہی کرپشن فری پاکستان کا فارمولہ ہے جو ہم نے پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔یاد رکھیں ،کرپشن کرنے والے لوگ کرپشن فری پاکستان نہیں بناسکتے۔اللہ پاکستانی عوام کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پاکستان کرپشن

میر افسر امان کے پیر فروری کے مزید کالم



متعلقہ کالم