ڈاکٹر احسن اختر ناز !

منگل فروری    |    محمد عرفان ندیم

سکندر اعظم سے کسی نے پوچھا تھا”تم اپنے باپ پر اپنے استاد کو کیوں ترجیح دیتے ہو؟ “ اس نے بڑی خود اعتمادی کے ساتھ بڑا خوبصورت جواب دیا۔ اس نے کہا: ”میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لے کر آیا اور میرا استاد مجھے زمین سے آسمان پر لے گیا۔ میرے باپ نے میرے جسم کی پرورش کی اور میرے استاد نے میری روح کی پرورش کی۔ میرا باپ میری فانی زندگی کا باعث بنا جب کہ میرا استاد ارسطو میری جاودانی زندگی کا سبب بنا“۔
ڈاکٹر احسن اختر ناز بھی ایک ایسے ہی استاد تھے لیکن افسوس وہ بہت جلد ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ۔ ان کی اس جلدی موت اور ان کو اس حد تک پہنچانے میں کس کا ہاتھ تھااس کا تذکرہ میں بعد میں کروں گا پہلے میں ان کی شخصیت کے کچھ روشن پہلو آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔

(خبر جاری ہے)

میں 2012سے2014تک ادارہ علوم ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی کا اسٹوڈنٹ رہا ہوں ، ان دو سالوں میں مجھے ڈاکٹر صاحب کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔

ہمدردی اور رحمدلی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا ،کبھی کسی طالبعلم کو سخت سست نہ کہا ،کبھی ڈانٹنے کی نوبت آتی تو اشاروں کنایوں سے سمجھا دیتے ۔ ” اوئے نوجوان “ اور ” اوئے نمونے “ ان کا ڈائیلاگ تھا اور یہ الفاظ وہ از راہ تفنن کہتے تھے ۔ ان کا لیکچر علمیت سے بھرپور ہوتا تھا ،بات بات پر حوالے دیتے اور ساتھ یہ بھی بتاد یتے کہ یہ بات فلاں کتاب میں لکھی ہے ،میرے پاس آج بھی ان کتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو انہوں نے دوران لیکچر لکھوائی تھیں اور صرف کتابوں کے نام نہیں وہ یہ تک بتا دیتے تھے کہ یہ کتاب لائبریری کے فلاں سیکشن میں پڑی ہے اور اگر کوئی کتاب ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری میں نہ ہوتی تو وہ بھی بتا دیتے کہ یہ کتاب آپ کو یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں فلاں جگہ پر ملے گی۔
طلبا نے کوئی اسائمنٹ تیار کرنی ہوتی یا کوئی اور مسئلہ ہوتا سیدھا ناز صاحب کے پاس پہنچ جاتے کہ سر اس موضوع پر کوئی کتاب بتا دیں حالانکہ وہ سبجیکٹ ناز صاحب نہیں کوئی اور استاد پڑھا رہے ہوتے تھے ۔ دوسروں کے کام آنااور خدمت خلق ان کی فطرت میں شامل تھا اور یہ کام وہ بغیر کسی صلہ و ستائش کے کرتے تھے ۔ طلبا کے چھوٹے چھوٹے مسائل خود ہی حل کر دیا کرتے تھے اور ڈائریکٹر شپ سے برطرف ہونے کے بعد بھی وہ طلبا کے کام آتے رہے ۔
2013کے شروع میں جب ان سے کچھ شناسائی ہو گئی تو ان کے آفس میں آنا جانا ہو گیا ، اپنے کچھ کالم پیش کیئے تو بھرپور حوصلہ افزائی کی اور ایک بار تو یہاں تک کہہ دیا ” نوجوان تم بہت آگے جاوٴ گے “ ۔ جب بھی کسی طالبعلم کو مخاطب کرتے تو ” اوئے نوجوان “ کہہ کر پکارتے ، یہ ان کا تکیہ کلام تھا ۔ کلاس میں بھی ہنس مکھ رہتے ، بات بات پر لطیفہ سنانے کے ماہر تھے ،ان کا پریڈ کب ختم ہو جاتا پتا ہی نہیں چلتا تھا ۔
طالبات کی طرف سے کبھی کبھار مایوس ہو جاتے اور از راہ تفنن کہاکرتے کہ آپ نے تو صرف کچن جرنلزم کرنی ہے ۔
بطور ڈائریکٹر انہوں نے جو خدمات سر انجام دیں ان میں ان کا نمایاں کارنامہ یہ تھا کہ وہ ہر سال سلیبس کا از سر نو جائزہ لیتے تھے ،ہر سال چھٹیوں میں خود بھی ڈیپارٹمنٹ آتے اور اپنے اسٹاف کو پابند کرتے اور بیٹھ کر نصاب کو معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے۔ دوسرا اہم کارنامہ یہ تھا کہ وہ ہر جمعرات کو ڈیپارٹمنٹ کے حمید نظامی ہال میں سیمینار کر واتے تھے جس میں مختلف پرفیشنلز ، دانشوروں اور کالم نگاروں کو مدعو کرتے ، اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ وہ طالبعلم جو سارا ہفتہ تھیوریز پڑھ کر تھک جاتے تھے انہیں کچھ وقت عملی صحافت سیکھنے کے لیے مل جاتا تھا ،ان کی برطرفی کے بعد یہ مفید سلسلہ رک گیا ، بعد کی انتظامیہ سے درخواست کی گئی تھی کہ اس روایت کو جاری رکھا جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔
بطور ڈائریکٹر وہ اپنے مزاج اور رویے میں وہ سختی پیدا نہیں کر سکے جو انتظامی معاملات کے لیے ضروری ہوتی ہے اور ان کی اس نرمی کی وجہ سے ڈیپارٹمنٹ کے کچھ عناصر نے انہیں بلیک میل کیا اور اس سے ناجائز فائدہ اٹھایا ۔ اب تو وائس چانسلر نے بھی اس بات کا اقرار کر لیا ہے کہ ڈاکٹر احسن اختر ناز کے معاملے میں مجھے دھوکے میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ ذیادتی ہوئی ۔ ڈاکٹر احسن اختر ناز کا ایک” جرم“ جو ناقابل معافی تھاوہ یہ کہ وہ وائس چانسلر کی میٹنگز میں صاف اور کھری بات کر دیتے تھے اوروہ صاف گوئی سے باز نہیں رہ سکتے تھے۔
آخری سالوں میں ان کی شخصیت کواس قدر متنازعہ بنا دیا گیا تھا کہ ان کا ایک عام اسٹوڈنٹ بھی حیران تھا کہ ایک سیدھا سادھا ، نرم دل اور شفیق استاد اس جرم کا ارتکاب کیسے کر سکتا ہے جس کا ان پر بہتا ن باندھا گیا ہے ۔ اب ان کے جانے کے بعد سب ان کی بے گناہی کا اعتراف کر رہے ہیں لیکن شاید اب ان کا یہ اعتراف ڈاکٹر صاحب کے دل پر لگے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتا ۔ ناز صاحب ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ میں اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑتا ہوں اور اب ان کا فیصلہ حقیقتا اللہ کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی فیکلٹی کے اندر کچھ لوگ ایسے تھے جو ان سے خائف رہتے تھے اور انہیں اپنی نا اہلی کا خوف تھا ۔ ایک بار دورا ن میٹنگ فیکلٹی کے کچھ ممبران کی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ چپقلش ہو گئی ، ڈاکٹر صاحب سادہ طبیعت کے مالک تھے سب برداشت کر گئے اور کسی کو خبر تک نہ ہونے دی لیکن اگلے روز ملک کے ایک بڑے اخبار نے جوجھوٹی خبر لگائی اسے پڑھ کر بے اختیار رو دیئے ، یہ رونا محاورے والا رونا نہیں تھا وہ حقیقت میں رو دیئے تھے کیونکہ خبر قطعی طور پر جھوٹی تھی اوریہ خبر خود فیکلٹی کے ممبران نے لگوائی تھی۔
ان پر جو بہتا ن باندھے گئے تھے وہ کہانی بھی سن لیں ۔ جو لو گ ادارہ علوم ابلاغیات سے وابستہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس ڈیپارٹمنٹ میں فیمیل اساتذہ کی تعداد ضرورت سے زائد ہے اور ماضی میں ان میں سے کچھ خواتین ایسی بھی تھیں جو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے مکمل طور پر نا اہل تھیں اور یہ محض سفارش کی بنیاد پر ڈیپارٹمنٹ میں گھس آئی تھیں ، ناز صاحب جب بھی ان کے خلاف کوئی ایکشن لینے لگتے تو یہ بلیک میل گروہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف کھڑا ہوجاتا ، کبھی ان پر بہتان طرازی کی جاتی اور کبھی ان کے خلاف جھوٹی خبریں لگوادی جاتی ،جب بھی انہوں نے کرپٹ عناصر کے خلاف ایکشن لینے کا ارادہ کیا انہیں اسی طرح کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اوربلآخر انہیں اس عہدے سے برطرف ہو نا پڑا ۔
شوگر کے مریض وہ پہلے ہی تھی اوپر سے اس طرح کی بہتان طرازیوں نے انہیں مزید پریشان کر دیا تھا ، وہ سیدھے سادھے ، سچے اور کھرے انسان تھے ان الزامات نے انہیں اند ر سے گھائل کر دیا تھا ، برطرفی کے بعد وہ دن بدن کمزور ہوتے چلے گئے ، کچھ عرصہ پہلے شوگر کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی گئی تھی اور اب وہ ہم میں نہیں رہے ۔ ہم ،ہمارے معاشرے اور ان کے ڈیپارٹمنٹ سب نے مل کر انہیں موت کی دہلیز پر پہنچایا اور ہم سب ان کی بے وقت موت کے ذمہ دا ر ہیں ۔
ہم وہ بد قسمت قوم ہیں جو کرپشن ،میرٹ ،لوٹ مار اور جعلی مینڈیٹ کے خلاف لمبی چوڑی تقریریں کرتے اور نعرے لگاتے ہیں لیکن جب کوئی عملی طور پراس کے خلاف قدم اٹھاتا ہے ہم اسے بلیک میل کرتے ہیں اس پر بہتان لگا کر اسے فارغ کردیتے ہیں اور اس کے مرنے کے بعد یہ کہہ کر کہ مطمئن ہو جاتے ہیں ” اس معاملے میں ہم سے غلطی ہوئی “ ۔یہی ہماری قوم کا دوغلا پن ہے ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ آج وہ لوگ جو ان کی زندگی میں ان کی قدر نہیں کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے آج وہی ان کی وفات پر تعزیئے اور مرثیے لکھنے بیٹھ گئے ہیں ۔ ڈاکٹر ناز ٹھیک ہی کہتے تھے کہ میں اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑتا ہوں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے پیر فروری کے مزید کالم