کیا احتساب ہوگا۔۔۔۔ ؟؟

منگل فروری    |    پروفیسر رفعت مظہر

وزیرِاعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب نے بالآخر” کھڑاک“ کرہی دیا ۔اپنی جلاوطنی سے لے کراب تک تووہ ”ٹھنڈے ٹھار“ ہی نظرآتے رہے اورہم بھی اُس نوازشریف کوتقریباََ تقریباََبھول ہی چکے تھے جوبینظیر بھٹوکے استقبال کے لیے ایئرپورٹ جانابھی پسندنہیں کرتے تھے حالانکہ کسی بھی وزیرِاعظم کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پرجانا ہروزیرِاعلیٰ کااخلاقی فرض ہوتاہے ۔1988ء سے 1998ء تک میاں نوازشریف اوربی بی بینظیرایک دوسرے کوسکیورٹی رِسک ہی قراردیتے رہے یہاں تک کہ پرویزمشرف نے دونوں کا ”مَکوٹھَپ“ دیا۔
پرویزمشرف نے کہاکہ اب دونوں کبھی پاکستان نہیںآ سکیں گے لیکن دونوں ہی آئے اورایک دفعہ پھرسیاست میں ”اِن“ ہوئے۔بینظیراین آراو کی چھتری تَلے اورمیاں نواز شریف میثاقِ جمہوریت کے سہارے جوبعد میں”مذاقِ جمہوریت“ ثابت ہوا ۔

(خبر جاری ہے)

بینظیربھٹو توابدی زندگی کی طرف لوٹ گئیں اوراللہ سلامت رکھے میاں نواز شریف میدانِ سیاست میں اکیلے رہ گئے ۔تب ”کرپشن کنگ“ کوبھی ایوانِ صدرمیں رہائش کاموقع ملا ۔

وہ جسے کبھی مسٹرٹین پرسنٹ اورکبھی مسٹرسنٹ پرسنٹ کاخطاب ملاکرتا تھا ،وہی ملک کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے ۔میاں شہباز شریف اپنی انگشتِ شہادت زورزور سے ہلاتے اورمائیک توڑتے احتساب احتساب کی ”بڑھکیں“ تولگاتے رہے ،سڑکوں پر گھسیٹنے کے دعوے بھی کرتے رہے لیکن ہوا ”کَکھ“ بھی نہیں۔ میاں نواز شریف صاحب البتہ اُس دورمیں بھی خاموش اور”ٹُک ٹُک دیدم ،دَم نہ کشیدم“ کی عملی تصویربنے رہے۔

پھر کپتان صاحب کی تحریکِ انصاف آندھی طوفان بن کراُٹھی اورسیاسی ایوانوں میں ہلچل مچاگئی۔ کپتان صاحب کابَس ایک ہی نعرہ کہ پیپلزپارٹی اورنواز لیگ دونوں ہی کرپٹ۔ کپتان صاحب کی ایک بات توبہرحال تسلیم کرنی پڑے گی کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان احتساب کے معاملے میں ”اندرکھاتے“ مُک مکاتھا کیونکہ ہم نے دیکھاکہ آصف زرداری صاحب نے اپنے پورے دورِحکومت میں قومی احتساب بیوروکو عضوِمعطل ہی رکھااور نیب کے ہرچیئرمین کوبے بَس۔
کپتان صاحب کو خیبرپختونخوا کی حکومت ملی تواُنہوں نے اِس صوبے میں آزاد احتساب کمیشن کانعرہ بلندکر دیا ۔سونامیے ہمیشہ سینے پھلاکر دعوے کرتے رہے کہ پختونخوامیں احتساب کاایسا نظام متعارف کروادیا گیاہے کہ اب اِس سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا خواہ کوئی وزیرشزیر ہویا وزیرِاعلیٰ لیکن ہواوہی کہ ”کھودا پہاڑ ،نکلاچوہا“۔ جب احتساب کمیشن کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل(ر) حامدخاں نے بلاامتیاز کارروائیاں شروع کیں توخیبرپختونخوا حکومت کی چیخیں نکل گئیں۔
ہمارے وزیرِاعلیٰ پرویزخٹک المعروف ”تیلی پہلوان“ نے احتساب کمیشن کے پَر کاٹناشروع کیے اوربالآخر اُسے ”ٹُنڈ مُنڈ“ کردیا جس پرچیئرمین احتساب کمیشن مستعفی ہوگئے لیکن جاتے جاتے یہ ”کھڑاک“ بھی کرگئے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے احتساب کی دوکان پرتالے لگادیئے ہیں ۔نوازلیگیوں نے بغلیں بجائیں کہ
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا
جو چیرا تو اِک قطرہٴ خون نکلا
جب پرویزخٹک صاحب سے صحافیوں نے احتساب کمیشن کے اختیارات کونقطہٴ انجماد تک لانے کاسبب پوچھاتو اُنہوں نے فرمایا کہ احتساب کمیشن افسران کی راہوں میں کانٹے بچھارہا تھا جس کی بنا پر ترقی کاپہیہ جام ہوگیا۔
اب یہی کچھ ہمارے وزیرِاعظم صاحب فرمارہے ہیں۔
وزیرِاعظم صاحب نیب پرگرجے اورکھُل کربرسے بھی ۔موٴقف وہی پرویزخٹک والاکہ نَیب ترقی کاپہیہ روکنے کی کوشش کررہی ہے اور افسران نَیب کے خوف سے کوئی کام کرنے کوتیارنہیں۔ نَیب دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا بندکرے۔ اِس سے پہلے پیپلزپارٹی بھی احتساب کوانتقام کے ترازومیں تولتی اوریہ ”رَولا“ ڈالتی رہی کہ اُسے سیاسی انتقام کانشانہ بنایاجا رہاہے ۔
اُس بیچاری ،مصیبت کی ماری کے تواکثر رہنما ”پھُٹا“ مارکے ”پھُر“ ہوگئے اور باقی بچے ہماری پچھلی صدی کے سیّدقائم علی شاہ جنہیں نیندسے ہی فرصت نہیں وہ بیچارے بھلاکیا خاک کرپشن کریں گے ۔اب پیپلزپارٹی کے آصف زرداری صاحب سمیت چیدہ رہنماسات سمندر پاربیٹھے قوم کامُنہ چڑارہے ہیں کہ ”کَرلو جو کرنا“۔میاں نواز شریف کے اِس کھڑاک کے بعد یقیناََ پیپلزپارٹی کے سینے میں بھی ”ٹھنڈ“ پڑگئی ہوگی کہ چلواِس حمام میں سبھی ”ننگے“توہوئے ۔

قمرالزماں چودھری کو توپیپلزپارٹی اورنوازلیگ نے متفقہ طورپر چیئرمین نَیب بنایاتھا ۔اب اگروہ بھی ”اندرکھاتے“ دیانتدار نکلے تواِس میں قصور کِس کا؟۔ چاہیے تویہ تھاکہ دونوں بڑی جماعتیں مل کرکوئی ایسابندہ تلاش کرتیں جو ہمیشہ اُن کے درِنیاز پرجھکا رہتالیکن اُن کی نگاہِ انتخاب قمرالزماں چودھری پرپڑی۔ یہ تو بالکل ویساہی ”ہَتھ“ ہواجیسا ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹواور پرویزمشرف نے میاں نواز شریف کے ساتھ کیاتھا۔
بھٹوصاحب چُن کرایسا بندہ سامنے لائے تھے جودیواروں کوبھی سلیوٹ کرتاتھا لیکن اُسی نے بھٹوصاحب کوعَدم کی راہ دکھائی ۔اسی طرح میاں صاحب نے بھی جونیئرموسٹ پرویزمشرف کاانتخاب کیاتاکہ سکون سے حکومت کے مزے لوٹ سکیں لیکن اُنہیں بھی اپنے غلط انتخاب پرجَلاوطنی کامزہ چکھناپڑا ۔دراصل ہمارے رہنماوٴں کا انتخاب کبھی درست نہیں ہوتا ۔اگروہ ہم جیسے کسی ارسطوانہ ذہن رکھنے والے کی خدمات حاصل کریں تو شاید وہ کچھ بہتر انتخاب کرسکیں ۔
ویسے قمرالزماں چودھری کاانتخاب کچھ ایساغلط بھی نہیں تھا۔ وہ بیچارے تو ”ٹھنڈے ٹھنڈے“ ہی چل رہے تھے لیکن ہمارے مقتدرحلقوں کواحتساب کی جلدی ہی بہت ہے ۔اُنہوں نے قمرالزماں چودھری کے سامنے ایسا پنڈورابکس کھولااورایسی ایسی فائلیں سامنے رکھیں کہ چودھری صاحب کے ہاتھ پاوٴں پھول گئے اوراُنہیں احتساب کی تلوارسونت کرمیدان میں نکلنا پڑا۔ قوم کوتو بہرحال ایساہی چیئرمین چاہیے جوبلاامتیاز احتساب کرے اورمجبورومقہور قوم کی رَگوں سے نچوڑے ہوئے خون کے ایک ایک قطرے کاحساب لے لیکن یہ شایدہماری تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو قبول نہیں۔اب وہ تینوں اِس معاملے میں ایک صفحے پراور شنیدہے کہ اونچے ایوانوں میںآ ئینی ترمیم کے ذریعے نَیب کے پَرکاٹنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ توکیا ہم سمجھ لیں کہ ”سارے رَل کے قوم نوں پَے گئے نیں“۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے پیر فروری کے مزید کالم