بھارت کی پاکستان دشمنی

جمعرات فروری    |    خالد ارشاد صوفی

پاکستان کو ایف 16جنگی طیارے فروخت کرنے کے امریکی فیصلے پربھارت کو اس قدر تکلیف ہوئی کہ ناراضی کا اظہار کرنے کے لیے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس کے ردعمل میں پاکستان دفتر خارجہ کی جانب سے ہمیشہ کی طرح ایک کمزور سابیان جاری کیا گیاکہ اربوں ڈالر کے طیارے اور اسلحہ خریدنے والے ملک کو اس معمولی ڈیل پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔
بھارت کی تکلیف کا علاج تو امریکہ کے سوا کسی کے پاس نہیں البتہ ہم اپنے”سیخ پا “ ہمسایہ کی دفائی قوت اور اسلحے کے ذخیرے کا پاکستان سے موازنہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہF16کی آمد (ابھی صرف نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے)کے بعد پاکستان بھارت کے مقابلے میں کس دفاعی پوزیشن میں ہوگا۔
بھارتی فوج دنیا کی تیسری بڑی فوج ہے‘ جس میں 1129900ایکٹو ٹروپس اور 960000ریزرو ٹروپس ہیں۔

(خبر جاری ہے)

تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر امریکہ اور دوسرے نمبر پر چین کی فوج ہے۔بھارت کے پاس مختلف ایئر کرافٹس کی کُل تعداد 2086ہے جبکہ پاکستان کے پاس کل923ہیں۔ بھارت کے 646ہیلی کاپٹر کے مقابلے میں ہیں پاکستان کے پاس306ہیں۔ اٹیک ہیلی کاپٹر بھارت کے پاس 19جبکہ پاکستان کے پاس52ہیں۔مزید موازنہ کچھ یوں ہے۔ اٹیک ایئر کرافٹ: بھارت 809‘ پاکستان394۔

فائٹر ایئر کرافٹ: بھارت679پاکستان 304‘ ٹرینر ایئر کرافٹ: بھارت 318پاکستان 170‘ ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ بھارت 857 پاکستان 261‘ ٹینک: بھارت 6464 پاکستان 2924‘ مرچنٹ میرین طاقت : بھارت 340 پاکستان11‘ بڑی بندرگاہیں: بھارت7پاکستان 2‘ فلیٹ کی طاقت: بھارت202پاکستان74‘ آب دوزیں: بھارت14پاکستان5‘ فریگیٹس: بھارت14 پاکستان10‘ ڈیسٹرائر: بھارت 10 پاکستان 0‘ دفاعی بجٹ: بھارت40ارب ڈالر پاکستان 7ارب ڈالر۔
اس تقابل سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کے پاس کتنا اسلحہ ہے اور پاکستان کے پاس کتنا۔ اس کے باوجود جب پاکستان کسی دوسرے ملک سے کچھ اسلحہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بھارتی لیڈروں کے پیٹ میں مروڑ اٹھانا شروع ہو جاتے ہیں اور عوام کو پیچس لگ جاتے ہیں جبکہ بھارت نے مختلف ممالک سے اسلحہ‘ ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر خریدنے کے کئی معاہدے کر رکھے ہیں‘ جن کے مطابق بھارت کو قومی سامان اوراسلحہ ملتا رہتا ہے۔

اسلحے اور فوج کی تعداد کے حوالے سے برتری ہونے کے باوجود بھارت کا ایک چھوٹی سی ڈیل شدید ردعمل اس کے خوف اور تفویش کو ظاہر کرناہے خوف پاکستان کے ہاتھوں مارکھانے کا اورتشویش ۔پاکستان کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت پر ۔بھارت ہمیں نیچا دکھانے یا نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اس کے برعکس پاکستان کی جانب سے کبھی ایسی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ ایک مثال پیش ہے۔
بش جونیئر کے دور میں بھارت اور امریکہ نے سول نیوکلیئر معاہدہ کیا‘ جس کے تحت انڈیا کو کئی معاملات میں اچھی خاصی رعایتیں ملنا تھیں۔اس معاہدے کی وجہ سے بھارت نے عالمی نیوکلیئر مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے۔جس کے تحت بھارت اپنے ایٹمی آلات اور دوسرا مواد بھی فروخت کر سکے گا‘ ایک اندازے کے مطابق اس سے بھارت کو 150بلین ڈالر کا فائدہ ہو سکتا ہے؛ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ بھارت سول نیوکلیئر معاہدے کی وجہ سے جب ایٹمی تجارت میں اضافہ ہو گا توزیادہ ممالک یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے‘ اس طرح دنیا بھر میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

اس معاہدے کے باعث بھارت کو جنوبی ایشیا میں چین اور ایران کے خلاف امریکی سٹریٹیجک پالیسیوں کے نگران کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ چند سال پہلے جب امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگائی تھیں تو بھارت نے ان کی تائید کی تھی۔ اس طرح اس خطے اور پوری دنیا میں انڈین اثرو رسوخ بڑھ جائے گا۔نیوکلیئرٹیکنالوجی سے بجلی پیدا کر کے بھارت اپنی توانائی کی ضروریات پیدا کر سکے گا؛ چنانچہ اندیشہ ہے کہ جب اس کی توانائی کے بحران سے توجہ ہٹے گی تو وہ اپنی جنگی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دے گا۔
اس کے نتیجے میں اس خطے میں فوجی محاذ آرائی بڑھے گی کیونکہ جب انڈیا کو ایٹمی سامان کی خریدوفروخت کی اجازت ہو گی تو وہ اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو بڑھانے کی کوشش کرے گا اور اس طرح اس خطے میں ایٹمی اور غیر ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ کا آغاز ہو جائے گا۔جب یہ معاہدہ ہوا تو پاکستان میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ کو بھارت کے ساتھ یہ معاہدہ نہیں کرنا چاہئے صرف یہ تقاضا کیا گیا کہ امریکہ اگر بھارت کو نواز رہا ہے تو اس خطے کا اہم ملک اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکی مہم میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہونے کی بنیاد پر امریکہ کو پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کرنا چاہئے کہ پاکستان بھی ایک عرصے سے توانائی کی قلت کا شکار ہے۔

اس کے برعکس بھارت ہمیشہ براہ راست پاکستان کے دوسرے ملکوں کے ساتھ ترقیاتی معاہدوں کی مخالفت کرتا رہا ہے۔پاک چین اکنامک کوریڈیو
کے حوالے سے نریندر مودی نے تو چینی حکومت سے براہ راست کہہ دیا تھا کہ ان کے لئے پاک چین اقتصادی راہداری قابل قبول نہیں ہے۔چند ہفتے قبل جب اس راہداری کے روٹ کے حوالے سے پاکستان میں کچھ اختلافات سامنے آئے توبھات میں شادیانے بھجنے لگے تھے۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاؤں پر بھارتی آبی ذخیروں کے تعمیر کے معاملے کو اخفا میں رکھنے اور طول دینے کے لئے بھی بھارتی حکومت فنڈنگ کرتی رہی ہے۔
کچھ عرصہ قبل پاکستان نے بھارتی خفیہ اداروں کی جانب سے دہشت گردوں کی فنڈنگ کے حوالے سے ثبوت اقوام متحدہ کے حوالے کئے ہیں۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ یہ بھارت ہی ہے جس نے اس خطے میں اسلحے کی دوڑ کا آغاز کیا اور دوسرے ممالک کو مجبور کیا کہ وہ اپنے دفاع کے لئے اقدامات کریں۔ پاکستان کی دفاعی تیاریاں بھارت کے خلاف نہیں بلکہ بھارتی جارحانہ عزائم سے محفوظ رہنے کے لیے کی گئی ہیں۔
بھارت کے پاکستان سمیت اپنے ہر پڑوسی ملک کے ساتھ سرحدی اور دوسرے اختلافات ہیں پاکستان‘ چین‘ بنگلہ دیش‘ نیپال‘ بھوٹان‘ مالدیپ اور سری لنکا ‘ غرض اس خطے کا کوئی ملک ایسا نہیں جس پر بھارت نے اپنی طاقت نہ آزمائی ہو۔
حقیقت تو یہ ہے کہ خطرہ بھارت کو پاکستان کے ایف سولہ طیاروں سے نہیں بلکہ بھارت کے میزائلوں اور ایٹمی پروگرام سے پاکستان ‘ چین اور خطے کے دوسرے ممالک کو ہے۔مذکورہ طیاروں سے پہلے پاکستان کے پاسF16 طیارے موجود ہیں لیکن بھارت نے امریکہ سے جس انداز سے احتجاج کیا ہے اس سے لگتاہے وہ اس خوف میں مبتلا ہے۔ کہ ان طیاروں کا ہدف نام نہاد”عظیم بھارت“ ہی ہوگا جی ہاں وہی بھارت جس میں اس وقت تین درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پاکستان بھارت

خالد ارشاد صوفی کے بدھ فروری کے مزید کالم



متعلقہ کالم