جعلی پیر: معاشرے کے لئے زہر قاتل

جمعرات فروری    |    حافظ ذوہیب طیب

جناب نبی کریم ﷺ کا انقلاب بلاشبہ تاریخ عالم کا سب سے بڑا اور عظیم انقلاب تھا جہاں لوگ جوق در جوق آپ ﷺ کی صدا ء پر لبیک کہتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوتے رہے ۔ یہاں تک کہ جانی دشمن، کچڑا اور غلاظت پھینکنے والے اور جادوگر کے نام سے مشہور کر نے والے لوگ بھی توبہ تائب ہو کر ایمان کے نور سے اپنے دلوں کو منور کر گئے۔ اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ اس انقلاب کے پیچھے جو خصو صیات کار فرما تھیں اس میں سب سے بڑی خوبی نبی محترم ﷺ کا اخلاق اور دکھ کے مارے لوگوں کو اپنے سینے سے لگا کر انہیں اپنے ہونے کا احساس دلانا تھا۔
معاشرے کے وہ لوگ جنہیں مرتبے کے لحاظ سے کوئی حیثیت حاصل نہیں تھی،تاریخ بتا تی ہے کہ کثیر تعداد میں یہ لوگ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں کی صدائیں لگاتے مشرف بہ اسلام ہوتے گئے ۔

(خبر جاری ہے)


پھرصحا بہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے ہو تا ہوا یہ سلسلہ اولیا ء اللہ  تک پہنچا جنہوں نے بھی نبی محترم ﷺ کے جن کی حیات مبارکہ تما م عالم کے انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے کے تحت اپنے مزاجوں میں نرم خوئی پیدا کرتے ہوئے درد کی ماری مخلوق کے سر پر دست شفقت رکھا ۔

لیکن مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ بات لکھنی پڑ رہی ہے کہ دور حاضر میں جو ایک ،دو خالصتاََ اللہ والے ہیں اُن کے ار د گرد، ان کے چیلوں نے غریب لوگوں کا، اُن تک پہنچنا عذاب بنا دیا ہے جبکہ حرام خوری ، کرپشن اور ظلم سے کمائی ہوئی دولت پر راج کرنے والوں کو کچھ ہی منٹوں میں اُن تک رسائی ہو جاتی ہے ۔ میرے نزدیک یہ لوگ بھی اس گناہ میں برا بر کے شریک ہیں جو دکھ کی ماری ،عام عوام کو اپنے پاس آنے سے کتراتے ہیں اور لوگ پھر مجبوراََ در در کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے ان فراڈیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔

قارئین کرام !کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جب جعلی پیرو عامل کے ہاتھوں لوگوں کے ذلیل و خوار ہونے کی خبر نظروں سے نہ گذرے ۔ لیکن کچھ روز قبل ہونے والے واقعے نے تو دل کو پھاڑ کے رکھ دیا ہے کہ کیسے انسان کے روپ میں جلاد، جعلی پیر کے کہنے پر دنیا میں سب سے عظیم رشتہ ، جسے ماں بیٹے کا رشتہ کہتے ہیں کے تقدس کو پامال کر کے رکھ دیا۔ ذرائع کے مطابق شبانہ نامی خاتون نے اپنے 11،سالہ بیٹے کو گلے میں پھندا ڈال کر لٹکا دیا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
ماں کے بقول پیر نے کہا تھا کہ مجھ پر آسیب کا سایہ ہے ،اور یہ سایہ ختم کر نے کے لئے اپنے بیٹے کی” بلی “چڑھادواس کے بعد تمہارے جسم سے تما م بد روحیں نکل جائیں گی۔جس پر میں نے پیر کی باتوں میں آکر اپنے بیٹے کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے ”بلی“ چڑھا دیا۔
قارئین !ہمارے معاشرے میں یہ ناسور بہت تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے جو اپنی دوکان چمکانے کی خاطر لوگوں میں بداعتقادی کا زہر پھیلاتے ہوئے ان کی زندگی کو عذاب بنا رہے ہیں ۔
لوگ بھی جھوٹے دعووں پر یقین کرتے ہوئے بغیر سوچے سمجھے ایسے لوگوں کے ہاتھوں یر غمال بن جا تے ہیں بالکل اس کہانی کے کرادر کی طرح جب ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا کہ گدھا لے لو ، پانچ سو روپے میں گدھا لے لو۔گدھا انتہائی کمزور اور لاغر تھا ۔ اچانک وہاں سے بادشاہ وقت کا اپنے ایک وزیر کے ساتھ گذر ہوا ، بادشاہ ،وزیر کے ساتھ گدھے کے مالک کے پاس آیا اور سوال کیا کتنے کا بیچ رہے ہو؟اس نے جواب دیا، عالی جاہ! صرف پچاس ہزار روپے کا، بادشاہ حیران ہوتے ہوئے بولا : اتنا مہنگا گدھا؟ایسی کیا خاصیت ہے اس میں؟مالک نے کہا: ”حضور!جو اس پر بیٹھتا ہے اسے مکہ و مدینہ دکھائی دینے لگتا ہے ۔
“ بادشاہ کو یقین نہ آیا اور حیران ہو کر بولا:”اگر تمہاری بات سچ ثابت ہوئی تو ہم گدھے کو ایک لاکھ میں خرید لیں گے اور اگر غلط ثابت ہوئی تو تمہارا سر قلم کر دیں گے“۔
بادشاہ نے فوراََ اپنے وزیر کو حکم صادر کیا کی اس پر بیٹھو اور بتاؤ کیا نظر آتا ہے؟وزیر بیٹھنے لگا تو گدھے کے مالک نے کہا: ” جناب عالی! یہ یاد رہے کہ مکہ و مدینہ کسی گنہگار انسان کو نظر نہیں آتا“جس پر وزیر سیخ پا ہوتے ہوئے بولا ہم گنہگار نہیں اور گدھے پر بیٹھ گیالیکن اسے کچھ دکھائی نہ دیا ۔
اسی دوران اسے خیال آیا کہ اگر یہاں سچ اگل دیا تو بہت بد نامی ہو گی اور لوگوں کی نظروں کے سامنے میں گنہگار قرار پاؤں گا لہذا سبحان اللہ، ما شا ء اللہ کے نعرے بلند کر تے ہوئے وہ گویا ہو ا:”کیا نظارہ ہے مکہ و مدینہ کا“۔ بادشاہ جو پہلے ہی کافی متجسس تھا اس نے وزیر کو اترنے کا حکم دیا اور خود گدھے پر بیٹھ گیا۔ اس کا حال بھی وزیر سے کچھ مختلف نہ تھا لیکن سلطانی جمہور کی شان کو مد نظر رکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لے آیا اور کہنے لگا:”واہ! کیا کراماتی گدھا ہے ، میرا وزیر مجھ جتنا نیک نہیں تھا ۔
اسے تو صرف مکہ و مدینہ نظر آیا مجھے تو جنت بھی دکھائی دے رہی ہے“۔ بادشاہ کی گدھے سے اترنے کی دیر تھی کہ پورے شہر میں اس گدھے کی دھوم مچ گئی ۔تھوڑی ہی دیر میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد یہاں جمع تھی جو اسے دیکھنے، چومنے اور ہاتھ لگانے کی باری کا انتظار کر رہے تھے۔یہ اسی نفسیاتی بیماری کی وجہ ہے کہ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق صرف لاہور شہر میں 6،ہزار سے زائد جادو ٹونے کے ڈیرے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں ان مافیاز کے خلاف تحریک بر پا ہو، حکومت، سماجی و مذہبی جماعتیں اور ہر ذی شعور انسان ایسے لوگوں کے خلاف متحرک ہوتے ہوئے ان کی کالی کرتوتوں اور کالے چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے معاشرے کو اس زہر قاتل سے بچائیں۔یاد رہے کہ اگر خدانخوستہ ہم یونہی اس ظلم پر خاموش رہے تو کچھ بعید نہیں کہ کل ہم خود ہی اپنوں کے قاتل ٹہریں۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے جمعرات فروری کے مزید کالم