سیاست کوسیاہ دانوں سے آزادکرنے کی ضرورت

ہفتہ فروری    |    عمر خان جوزوی

ایبٹ آباد کی ممبر ضلع کونسل مومنہ باسط اور مانسہرہ ضلع کونسل کی رکن عنبرین سواتی کی بڑھتی سیاسی سرگرمیوں کو دیکھ کر مجھے مانسہرہ کے نوید خان اور بٹگرام کے برہ خان یاد آنے لگتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب زمانہ طالب علمی میں ہم بھی سیاست کے بخار میں مبتلاء اور سیاست کے سمندر میں نئی اترنے والی تحریک انصاف کی کشتی میں سوار تھے۔مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے نویدخان جوآج کل مسلم لیگ حقیقی کے سربراہ ہیں یہ اوربٹگرام کے برہ خان تحریک انصاف کی صف اول کے کرداروں میں سے ایک تھے مطلب یہ دونوں تحریک انصاف کی سب سے پہلی والی صف میں موجود تھے۔
خیر اس وقت تو صف بھی غالباًتحریک انصاف کی ایک ہی ہوتی تھی کیونکہ یہ لوٹے موٹے تو اس وقت تحریک انصاف میں نہیں تھے جو آجکل عمران خان کے اردگرد شہد کی مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے ہیں لیکن اس ایک صف میں بھی نوید خان اور برہ خان نمایاں اور عمران خان کے سب سے زیادہ قریب تھے۔

(خبر جاری ہے)

پھر نوابزادہ محسن علی خان کی صورت میں تحریک انصاف کو اللہ نے اکلوتا ایم پی اے دیا۔ نوابزادہ محسن علی خان جس وقت تحریک انصاف کے اکلوتے ایم پی اے تھے اس وقت بھی نوید خان اور برہ خان پی ٹی آئی محاذ میں سب سے آگے آگے رہے۔

صحافت کے شوق نے تو ہمیں پی ٹی آئی کی کشتی سے الگ اور سیاست سے کنارہ کش کیا لیکن مانسہرہ کے نوید خان اور بٹگرام کے برہ خان پھر بھی تحریک انصاف کا پرچم اٹھائے سیاست کے سمندر میں ڈبکیاں لگانے والی اسی پی ٹی آئی کی کشتی سے چمٹے رہے۔در حقیقت ان دونوں کومیں نے اپنی ان گنہگارآنکھوں سے عمران خان اور تحریک انصاف کیلئے ہر قربانی دیتے ہوئے دیکھا ۔ملک کے جس کونے میں بھی ان کو تحریک انصاف کا پرچم نظر آیا ان دونوں نے اس کو سینے سے لگانے کیلئے تن، من، دھن قربان کرنے سے بھی کبھی دریغ نہیں کیا۔
سیاست کا بخار اترنے اور صحافت کی پرخار وادیوں کے مسافربننے کے بعد بھی ہمارے دل میں عمران خان اور تحریک انصاف کیلئے نرم گوشہ برقرار رہا جس کی وجہ سے تحریک انصاف سے دورجانے کے بعدبھی پی ٹی آئی ،عمران خان، نوید خان اور برہ خان کی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل رہی۔مجھے اچھی طرح یادہے تحریک انصاف کی کشتی جب تک منجدھارمیں پھنسی رہی اس وقت تک تو نوید خان اوربرہ خان تحریک انصاف کی فرنٹ لائن پر رہے اور یہی لوگ ہی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب کشتی کو اچانک کنارہ مل گیا اور تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری تو پھر اس کشتی میں نوید خان اور برہ خان کیلئے بھی کوئی جگہ نہیں رہی۔
وہ عمران خان جن کی نظریں ہر وقت نوید خان اوربرہ خان پر پڑتی تھیں ان کے اردگرد لوٹوں، کھوٹوں اور مفاد پرستوں کی اس قدمنڈی لگ گئی کہ پھرعمران خان کی وہی نظریں جونویدخان اوربرہ خان پرمرکوزہوتی تھیں پھر نئے مہمانوں پرٹک کے رہ گئیں۔ نوید خان نے تو مسلم لیگ حقیقی کے نام سے پارٹی بنا کر پی ٹی آئی سے راہیں جدا کر لیں لیکن برہ خان پھر بھی تحریک انصاف کے قافلے میں سوار رہے۔ عام انتخابات کیلئے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر جب پی ٹی آئی کا نظریہ مفاد پرستوں اور لوٹوں سے ہار گیا تو برہ خان بھی سیاسی کارکنوں کیلئے عبرت کی مثال بن گئے۔
وہ برہ خان جن کی تحریک انصاف کیلئے بے مثال قربانیاں دیکھ کر میں ان کو مستقبل کا ایم این اے ، ایم پی اے،وزیر،مشیر اور سینیٹرز سمجھتا تھا وہ ایم این اے، ایم پی اے اور وزیر مشیر بننے کی بجائے خود بے بسی اوربے کسی کی تصویر بن گئے۔مجھے توسیاست کاکوئی تجربہ ہے نہ ہی میں سیاست کے رموزسے واقف ہوں لیکن ملک میں رائج طبقاتی نظام میں دن کورات اورسیاہ کوسفیدبنانے والے سیاستدانوں کے رگ رگ سے میں کچھ نہ کچھ آشناضرورہوں ۔
نویدخان اوربرہ خان کے ساتھ ہونے والی سیاست نے بھی ملکی سیاست کے حوالے سے میرے ذہن کے کئی بنددریچے کھول رکھے ہیں ۔ مومنہ باسط اور عنبرین سواتی کے دلوں میں خدمت خلق کاجوجذبہ ہے اس کوسلام لیکن معذرت کے ساتھ کراچی سے گلگت اورسوات سے کوئٹہ تک اس ملک کے ذرے ذرے میں موروثی سیاست کے جراثیم سرایت کرچکے ہیں ۔ملک کی تاریخ میں پہلے بھی کوئی غریب اس ملک کاصدر،وزیراعظم،وزیراورمشیرنہیں بن سکانہ آئندہ بننے کے کوئی امکانات ہیں ۔
خاندانی اورموروثی سیاست نے ہمارے اس نظام کوبھوکے شیرکی طرح اس اندازمیں اپنے پنجوں میں جکڑاہواہے کہ اس کی موجودگی میں کسی مومنہ باسط اور عنبرین سواتی کامسنداقتدارتک پہنچنامشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔شوق کاواقعی کوئی مول نہیں ۔اس ملک کاہرغریب سیاست کی پرخاروادیوں میں ننگے پاؤں دوڑدوڑکراپناشوق ضرورپوراکریں لیکن مومنہ باسط اور عنبرین سواتی سمیت اس ملک کے غریب عوام کوایک بات ہمیشہ یادرکھنی چاہئے کہ اس ملک میں سراٹھانے والے غریبوں کویہ ظالم حکمران اورسیاستدان کبھی بھی آگے بڑھنے نہیں دیتے،اس سے پہلے بھی جن لوگوں نے قربانیاں دے کرسراٹھایاان ظالموں نے ان کوبھی تخت پربٹھانے کی بجائے تختہ دارپرلٹکایا۔
یہاں عوام کے ہیروبننے والے غریبوں کے بھی پرکاٹ دےئے جاتے ہیں ۔یہاں بڑے چور،ڈاکواورلٹیرے کوتوکامیاب سیاستدان کادرجہ ملتاہے لیکن نویدخان اوربرہ خان کی طرح اپنی پارٹیوں کے لئے خون ،پسینہ بہانے والے غریب کارکنوں اوررہنماؤں کاسیاسی کتاب سے نام ونشان تک مٹادیاجاتاہے ۔اس ملک کی یہ ریت رہی ہے کہ یہاں فصل ہمیشہ غریب کاشت کرتے ہیں لیکن جب پھل کھانے کاوقت آتاہیتوپھرجاگیردار،سرمایہ دار،خان اورنواب سب سے آگے ہوتے ہیں ،غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننایہاں کے جاگیرداروں،سرمایہ داروں،خانوں اورنوابوں کاخصوصی مشغلہ ہے ۔
میدان سیاست میں بھی اسی طرح آج تک قربانیاں ہمیشہ نویدخان،برہ خان،مومنہ باسط اورعنبرین سواتی جیسے کارکنوں نے دیں لیکن اقتدارکے مزے نوازشریف،آصف زرداری،پرویزخٹک اورشہبازشریف جیسے قوم کے عظیم خادموں نے اڑائے۔ایسے میں جب تک ملک سے فرسودہ طبقاتی نظام کاخاتمہ نہیں کیاجاتااس وقت تک غریبوں کی قربانیوں کاکوئی فائدہ نہیں ۔ مومنہ باسط اور عنبرین سواتی کوخدمت خلق کے ساتھ ملکی سیاست کو جاگیرداروں،سرمایہ داروں،خانوں اورنوابوں سے آزادکرنے کیلئے بھی ابھی سے کرداراداکرناہوگاتاکہ کل کوکوئی اور نویدخان وبرہ خان جیسے غریب اس کانشانہ نہ بن سکے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے جمعہ فروری کے مزید کالم