پنکچر نمبر 36

پیر فروری    |    عمار مسعود

نہ کسی نے چاہنے والوں سے پوچھا ،نہ کسی نے عقیدتمندوں سے دریافت کیا، نہ کوئی عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے سامنے خطاب ہوا، نہ کوئی ولولہ انگیز تقریر ہوئی، نہ عطاء اللہ کی آواز میں کوئی نغمہ گونجا، نہ گو نواز گو کا نعرہ واشگاف انداز میں لگا، نہ ڈی جے بٹ نے کوئی دھن بجائی، نہ لوگوں نے پی ٹی آئی کے جھنڈے چہروں پر پینٹ کروائے ، نہ موٹر سائیکل سواروں نے سائیلنسر نکا ل کر سڑکوں پر وکٹری کے نشان بنائے، نہ ٹاک شوز میں پی ٹی آئی مخالف لوگوں کے پر خچے اڑائے، نہ ہی چینلوں نے عمران کی تقریروں کے ٹکڑے جوڑ کر لوگوں کے دل گرمائے، نہ نوجوانوں کو قیادت سونپنے کا عزم کسی نے دھرایا، نہ نئے پاکستان کا نعرہ لگا ، نہ ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا رقص ہوا، نہ جوشیلی خواتین نے سارے پاکستان کے چوکوں پر دھرنا دیا ، نہ وال چاکنگ ہوئی ، نہ تبدیلی کی آمد کا شور مچا ، بس اچانک ہی ایک دن ایک ٹاک شو میں خان صاحب نے تسلیم کر لیا کہ پینتیس پنکچرایک سیاسی بات تھی، ایک وقتی نعرہ تھا، ایک واقعاتی بات تھی، ایک غلط فہمی تھی ، ایک مذاق تھا ، کچھ دلگی تھی
یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جن کو مدنظر رکھ کر مجھ سمیت سینکڑوں لوگوں نے سوشل میڈیا پر طوفان بپا کر دیا ۔

(خبر جاری ہے)

یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جن کو سامنے رکھ کر نجم سیٹھی کی دھجیاں بکھیر دی گئی تھیں ۔ یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جن کے سہارے سینکڑوں بلاگ لکھے گئے تھے، یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جن کی مذمت میں اخباروں کے ہزاروں صفحات کالے کئے گئے ، یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جن کا ذکر ہر ٹاک شو میں بڑی شدت سے ہوتا تھا، یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جس نے الیکشن میں دھاندلی کی مہم کو جلا بخشی ، یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جس کے انکشاف میں مجھ جیسے سینکڑوں لوگوں کوانقلاب پوشیدہ نظر آتا تھا۔
یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جن کی تحقیق کروانے سے ہمیں نیا پاکستان نظر آتا تھا ، یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جو ظلم، بے رحمی کے خلاف ہمارے پاس واحد ثبوت تھا، یہ وہی پینتیس پنکچر تھے جو کرپٹ جمہوریت کی بنیاد کے خلاف اشارہ تھے، ایک نئے نظام کا، نئے پاکستان کا استعارہ تھے۔۔
جتنا دکھ مجھے اس پینتیس پنکچر والی بات کے اعتراف کا ہے اتنا ہی دکھ سینکڑوں اور لوگوں کو ہو اہوگا۔ یہ سب سچے سیدھے سادھے لوگ صحیح معنوں میں نئے پاکستان کے منتظر تھے ۔
تبدیلی حقیقت میں رونما ہوتے دیکھنا چاہتے تھے، کرپشن کا خاتمہ چاہتے تھے ، ظلم سے نجات کے خواہاں تھے، خان صاحب یہ وہی لوگ تھے جو آپ سے بہت امیدیں رکھتے تھے ، بہت کچھ ہونے کے چاہت مند تھے مگر مجھ سمیت ان بہت سے لوگوں کو اب چپ لگ گئی ہے ، سانپ سونگھ گیا ہے، بولتی بند ہوگئی ہے، انقلاب کی آواز اب خاموش ہوگئی ہے
یہ نہیں ہوا کہ لوگوں نے درگزر نہیں کیا ، آپ کی غلطیاں معاف نہیں کیں، حماقتوں سے پردہ پوشی نہیں کی۔
مجھ سمیت یہ سینکڑوں لوگ پہلے بھی خاموش رہے ہیں۔ اپنی آوزیں سلب کر کے آپ کے نئے بیانات ۔ ارشادات، احکامات کے منتظر رہے ہیں۔
یہ لوگ اس وقت بھی خاموش رہے جب اعلان کیاگیا تھا کہ آئی بی کا بریگیڈئر دھاندلی میں ملوث ہے اور اسکا نام جلد ہی بتایا جائے گا۔ لوگوں کی منتظر سماعتوں میں جالے لگ گئے مگر اس بریگیڈئر کا نام منظر عام پر نہیں آیا۔یہ چاہنے والے اس وقت بھی چپ رہے جب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہر جلسے میں رگیدا گیا مگر جوڈیشل کمیشن میں کسی نے انکا نام تک نہیں لیا۔
یہ لو گ تب بھی خاموش رہے جب آپ نے ایک چینل کو غدار قرار دے دیا۔ یہ لوگ تب بھی کچھ نہ بولے جب آپ نے سول نافرمانی کا اعلان کیا اور بنی گالہ کے بل خود ادا کر دئے۔ یہ لوگ تب بھی کچھ نہ کہہ سکے جب آپ نے کہا کہ نواز شریف کے استعفی تک دھرنا جاری رہے گا اور پھر پینتیس پنکچر کی بات کی طرح دھرنا بھی اچانک فضا میں تحلیل ہو گیا۔ یہ لوگ تب بھی خاموش رہے جب اسمبلی کو غیر آئینی قرار دے کر آپ خود اس اسمبلی میں براجمان ہوگئے۔
نہ صرف یہ کہ براجمان ہو گئے بلکہ اسی غیر آئینی ، غیر جمہوری اسمبلی سے تنخواہوں کاکامیاب مطالبہ بھی کر دیا۔ یہ لوگ تب بھی نہ بولے جب ایک جماعت پر آپ نے زہرہ شاہد کے قتل کا الزام لگایا اور پھر اسی جماعت کے تعاون سے کراچی میں جلسہ بھی کیا اور الطاف حسین سے سب سے پہلے کامیاب جلسے کی مبارکباد بھی وصول کی۔ یہ لوگ تب بھی خاموش رہے جب پارٹی کے الیکشن میں بڑے پیمانے پر رشوت چلی اور جہانگیر ترین نادیدہ وجوہات کی بناء پر سیکٹری جنرل منتخب ہو گئے۔
یہ لوگ تب بھی خاموش رہے جب خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی خبریں آئیں اور بد امنی ک، بدنظمی کی بناء پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔یہ لوگ تب بھی نہ بولے جب خیبر پختونخواہ میں نیٹو سپلائی روکنے کا عزم کیا گیا اور چند دن میں ہی یہ عزم چکنا چور ہو کر جی ٹی رود کے کنارے پایا گیا۔ جس طرح خیبر پختونخواہ کے لوگوں کے مینڈیٹ کا مذاق اڑایا گیا اس پر بھی لوگ خاموش رہے۔ آپ نے ہر پارٹی ، ہر ادارے ہرشخصیت پر الزام لگایا اور سینکڑوں لوگ ان الزامات میں آپ کے ساتھ رہے۔
کراچی کے ساتھ جو کچھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے کیا اور اس سے جو قیادت کا جو خلاء کراچی میں پیدا ہو اس کو آپ نے پر نہیں کیا اس پر بھی لوگ آپ کے ساتھ رہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ملک کو اب صرف خونی انقلاب یا مارشل لاء بچا سکتا ہے اس پر بھی یہ جمہوریت پسند لوگ خموش ہو گئے۔کرپٹ پارٹیوں کے کرپٹ لوگ پی ٹی آئی میں بڑے طم طراق سے شامل ہوتے رہے مگر لوگ خاموش رہے۔
لوگ سادہ دل معصوم ہوتے ہیں بے وقوف بنتے ہیں مگر ساری عمر بے وقوف نہیں رہتے۔
ایک وقت آتا ہے جب خاموشی کو قوت گفتار عطا ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب برداشت جواب دے جاتی ہے ۔ جب حوصلہ ٹوٹنے لگتاہے جب دل ڈوبنے لگتا ہے
پینتیس پنکچر کے نام پر ہونے والے قومی مذاق کے اعتراف پر سینکڑوں لوگ انگشت بدنداں ہیں۔ اب کچھ سجھائی نہیں دے رہا ، کسی بھی بات کا یقین نہیں ہو رہا۔ اب خدشات اور وسوسے دلوں میں پل رہے ہیں ۔ کیا خبر کل کو تبدیلی کا نعرہ مذاق نکلے ، کون جانے نیا پاکستان کل کو ایک سیاسی بات نہ نکلے ، کسے معلوم انقلاب کا دعوی بھی ایک مذاق ہی نہ ثابت ہو
اس گمراہ کن اعتراف نے ہماری سیاست اور جمہوریت میں ایک نئے پنکچر کا اضافہ کیا ہے اور یہ چھتیسواں پنکچر لوگوں کی امیدوں ، خوابوں ، آرزوں، ارادوں اور تمناوں کو لگا ہے اور اس ایک پنکچر کے لگنے سے انقلاب کے ٹائر کی ساری ہوا ہی نکل گئی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے پیر فروری کے مزید کالم