مفت تعلیم سب کے لئے کیسے؟

پیر فروری    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

ملک میں جہالت بڑھنے کی وجوہات کے لیے دلیل دی جاتی ہے کہ معیاری تعلیم کا فقدان اس کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے ساتھ پسماندہ معیارِ تعلیم، غیر میعاری نصاب، نگرانی کا فقدان، ساتھ ہی جو بچے اسکول جاتے ہیں، ان کی تعلیم میں علم کی کمزور بنیادوں پر بھی سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔اس ضمن میں ملک کو ان گنت چیلنجز اور مسئلے کی بے شمار جہتوں کا سامنا ہے۔ جس کا آغاز انفرا اسٹرکچر کے فقدان سے ہوتا ہے۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی شرح میں بچوں کے اسکول داخلے کا تناسب جتنا کم ہوتا جارہا ہے، اسی تیزی سے بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اسکول جانے والے ہر دس میں سے ایک بچہ پڑھائی ادھوری چھوڑ دیتا ہے۔
یہ صورتِ حال بدترین معاشی ماحول کی بھی عکاسی کرتی ہے ۔

(خبر جاری ہے)

جس میں والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کچھ اس لئے نہ جانے پر مجبور ہیں کہ اسکول کی عمارتیں دہشت گردوں کے نشانوں پر ہیں۔

ایسے میں یہ بات تعجب کی ہرگز نہیں ہوسکتی کہ دنیا بھر میں پاکستان کے بعد صرف چھبیس ممالک ایسے ہیں، جہاں تعلیم کی شرح پاکستان سے کم ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ وہاں اسکول جانے والے بچوں کی شرح میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔خوش قسمتی سے ماضیِ قریب میں ہم نے بعض اقدامات ایسے کیے ہیں کہ جن سے کچھ امید پیدا ہوئی ہے کہ اس شعبے میں کچھ ترقی ہو سکتی ہے ۔ مثلاً اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بہت سارے آئینی اختیارات حاصل ہوچکے ہیں۔
آئین کی شق پچیس اے میں ریاست کو ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 'پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں مفت و لازمی تعلیم کا بل، دو ہزار بارہ میں منظور ہوچکا ہے جبکہ یہ بِل پہلے ہی ایوانِ بالا یعنی سینٹ سے بھی منظور کیا جاچکا ہے۔ صوبوں میں بھی اس پر قانون سازی ہو چکی ہے۔
اس قانون سازی کے خد و خال نہایت واضع ہیں۔ جس میں انفرا اسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ، ٹیچرز کی تربیت، نجی اسکولوں کے لیے سخت قواعد و ضوابط اور ایسے آجروں کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں جو اپنے پاس کام کرنے والے بچوں کو اسکول نہیں بھجواتے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر ہمارے ملک کے بچے اسکولوں کا رخ کریں اور وہاں انہیں بہتر اور دوستانہ ماحول ملے تو پھر ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔ اس کے لئے ضروری تو یہ بھی ہے کہ ریاست اس بات پر تیار ہو کہ وہ طے شدہ مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرکے یہ باور کراسکے کہ ہر بچے کو اسکول بھیجنا لازم ہے؟ہر بچے کو لازماً اسکول بھیجنے سے پہلے ہمیں اساتذہ کی تربیت کرنی ہوگی اور حقیقت میں یہ بات ممکن بنانی ہوگی کہ ہر گلی محلے میں ایک اسکول موجود ہو۔
ہمیں ملک گیر سطح پر ایسی حکمتِ عملی تیار کرنی ہوگی، جس کے تحت بچوں کے کام کرنے کی ضرورت کا خاتمہ کیا جاسکے یا ان والدین کی وہ مجبوریاں ختم ہوسکیں، جس کے باعث وہ بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔میٹرک مکمل کرنے والے بچوں کے لیے روزگار کے مواقع ہوں یا پھر ان کے لیے ایسی سہولتیں یا ترغیبات موجود ہوں ، جس کی وجہ سے وہ مزید آگے تک پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے بہت کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے لیے کْل پیداواری شرح نمو یعنی جی ڈی پی کا چھ سے سات فیصد صرف تعلیم کے شعبے پر صرف کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس وقت ہم جی ڈی پی کا صرف ایک اعشاریہ سات فیصد ہی تعلیم پر خرچ کررہے ہیں۔ قومی اسمبلی سے منظور شدہ فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن بل 2014ء میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے عام بچوں کو مفت تعلیم دینا ریاست کی زمہ داری ہے۔ اس بل کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق ایکٹ 2011 کہا جائے گا اور یہ وفاقی دارالحکومت میں وسعت پزیر ہوگا۔
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بچہ کسی قسم کی تعلیمی فیس، چارجز یا اخراجات کی ادائیگی کا زمہ دار نہیں ہوگا بلکہ فنڈز کی زمہ داری وفاقی یا مقامی حکومت پر عائد ہو گی۔ نجی تعلیمی ادارے دس فیصد غیر مراعات یافتہ بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے پابند ہونگے۔ کوئی سکول بچے کو داخلہ دینے سے انکار یا اسے خارج نہیں کر سکے گا۔ کسی بچے کو جسمانی سزا یا زہنی ازیت نہیں دی جا سکے گی۔ ہر سکول کو رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ حاصل کیئے بغیر کام کرنے یا اشتہار دینے کی اجازت نہ ہو گی۔
خلاف ورزی پر دو لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ خلاف ورزی جاری رکھنے پر یومیہ 25 ہزار جرمانہ ہوگا۔ بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین کو 25 ہزار روپے جرمانہ یا تین ماہ کی سزا ہو سکے گی۔ سکول جانے کی عمر کے بچے کو کام پر لگانے والے شخص کو بھی پچاس ہزار روہے جرمانہ اور چھ ماہ تک قید ہو سکے گی۔ -جبکہ پنجاب اور سندھ میں بھی 5 سے 16 سال کے بچوں کی لازمی تعلیم کا بل فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن بل 2014ء بھی پاس ہوچکا ہے ۔
زور اس بات پر ہی ہے کہ یہ صرف حکومت ہی ہے جو سو فیصد اہداف حاصل کر سکتی ہے۔
گزشتہ دنوں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے ایک سیمنار میں مقریرین نے مفت تعلیم اور پاکستان میں تعلیم کی صورت حال پر مفصل گفتگو کی ،اعداو و شمار کے حوالے پیش کئے گئے یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ، پاکستان ملنیم ڈویلپمنٹ گول 2015کے اہداف بھی حاصل نہیں کر سکا، مقررین نے جہاں غربت کو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا تو دوسری جانب والدین اور ریاست کا طرز عمل بھی زیر بحث آیا کیونکہ مفت اور لازمی تعلیم بہر حال حکومت کی ہی زمہ داری ہے جسے اسے ادا کرنا چا ہیے ملک میں تعلیمی اداروں کی کمی کا رونا بھی رویا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کے میٹرک کے انتخابات میں جو بچے پاس ہوتے ہے ہیں ان کے لئے پنجاب بھر کے سرکاری کالجز میں داخلے کی سہولتیں ناکافی ہیں اور مجبوراً لاکھوں طلبا کو پروائیٹ کالجز میں داخلہ لینا پڑتا ہے ۔
لیکن لاکھوں طلبا اسے بھی ہوتے ہیں جو پرائیویٹ کالجز کی فیسں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ غربت جن کا اوڑھنا بچھونا ہے وہ میٹر ک کے آگے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے ۔ مقررین نے حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری سکولوں اور کالجز کی تعداد میں اضافے کے لئے فوری اقدامات کرے تا کہ پاکستان روشنی کے سفر پر گامزن ہو کر اپنے تعلیمی اہداف حاصل کر سکے،، اگر حکومت نے اس ضمن میں اپنا ریاستی کردار ادا نہ کیا تو تعلیم کی شرح میں اضافے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا اور بچوں کو ہر حال میں سکول میں داخل کرنے جیسی مہمات دم اس لئے توڑ جائیں گی کہ اگر سارے بچے سکولوں میں داخل ہوجاتے ہیں تو ان کے لئے تو سکولز کی عمارتیں ہی موجود نہیں اس لئے حکومت کو سب سے پہلے سکول اور کالجز کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہے۔
جن ممالک نے انسانی ترقی کو اپنا نسب العین بنایا ہے ان کی شرح خواندگی خود ہی بہتر ہونا شروع ہو گئی ،ناخواندہ قومیں نہ ترقی کر سکتی ہیں اور نہ ملک خوشحال ہوسکتے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

تعلیم

ڈاکٹر اویس فاروقی کے پیر فروری کے مزید کالم



متعلقہ کالم