مہنگی ہوتی ادویات، کیا حکومت اتنی بے بس ہے؟؟

بدھ مارچ    |    حافظ ذوہیب طیب

ملک عزیز میں بسنے والی غریب عوام جو پہلے ہی ایک عذاب کی مانند اپنی زندگی بسر کر رہی ہے لیکن ہر رو ز طلوع ہونے والا سورج ان کی زندگی کو مزید عذاب بناتے ہوئے مسائل کے انبار لئے ان کے تعاقب میں رہتا ہے ۔ جہاں لوگ دن بھر کی شدید جدو جہد کے بعد ایک وقت کی روٹی کے پیسے بمشکل جمع کرتے ہیں ۔ا ور جب کوئی بیمار ہو جائے تو ان میں سے اکثر تو علاج معالجے کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے بستر علالت پر ہی موت کی وادی کے مسافر بن جاتا اور جو علاج کرانے کی خاطر درد ر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں وہ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھونے کے ساتھ” سودیوں “کے ہاتھوں یر غمال بن کر باقی کی پوری زندگی اسی کرب میں گذار دیتے ہیں ۔

صرف زندہ رہنے کی خاطر اپنے مدار میں گھومتے یہ لوگ ایسی ایسی الجھنوں ، پریشانیوں اور کٹھن راہوں کا مقابلہ کرتے ہیں جسے لفظوں میں بیان کر نا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔

(خبر جاری ہے)

یہ لوگ ایک عرصے سے مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ بنیادی حقوق تو کیا انہیں تو روٹی، کپڑا اور مکان جیسی زندگی کی اشد ضروریات بھی میسر نہیں ۔ہسپتالوں میں پیچیدہ اور موزی امراض کا بہتر علاج تو دور کی بات یہاں تو لوگوں کی ایک کثیر تعداد بخار اور سر درد کی گولیاں خریدنے کی بھی سکت نہیں رکھتی۔

جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں بھی اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر سال بہت سے مریض محض اس وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کہ وہ یہ قیمتی ادویات خریدکر استعمال کر نے کی مالی استطا عت نہیں رکھتے ۔
قارئین ! ان حالات میں محکمہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں بیٹھے درندوں نے جو حرام کی کمائی کھانے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب ان کا پیٹ بھر نے کا نام ہی نہیں لیتااور جن کی بد معاشی کے سامنے ان کے بڑے بھی بے بس و لاچار نظر آتے ہیں ۔
ایک طرف تو وزیر اعظم صحت پروگرام کے تحت غریبوں کا مفت علاج کر انے کی بڑی بڑی سکیموں کے اعلان کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑے بڑے دعووں کے باوجود لو گ علاج کی خاطرہسپتالوں میں کئی کئی روز ذلیل و خوار ہونے کے بعد تھک ہار کے اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔اور اب لوگوں پر زندگی کی سانسیں مزید تنگ کر نے کے لئے روزمرہ استعمال ہو نے والی ادویات پر 65فیصد تک اضافہ کر دیا ہے ۔
یاد رہے یہ تما م وہ ادویات ہیں جو سر درد، پیٹ درد، دماغی امراض اور ان جیسی بیماریوں کے لئے استعمال ہو تی ہیں۔
2013 میں جب ڈرگ مافیا نے ادویات میں اضافہ کیا جس پر حکو مت نے دو دن بعد اضافہ واپس لینے کا نوٹیفیکشن جاری کیا تھا لیکن یہ لوگ اس نوٹیفیکشن کو بھی خاطر میں نہ لائے اور اپنی من مانی جاری رکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کرتے رہے۔معلوم ہو تا ہے کہ باقی معاملات کی طرح یہاں بھی ہماری حکو مت ڈکیتوں اور چوروں کے سر غنہ اور مافیاز کے خلاف بے بس و لا چار نظر آرہی ہے ۔ وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں جس کا اظہار کیا کہ انہوں نے 11کمپنیوں کے ذمہ دران کو بلایا لیکن ان میں سے صرف 1،کمپنی کے ذمہ دار نے زحمت گوارہ کی ہے ۔
جس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ پورے دھڑلے کے ساتھ بلا خوف و خطر اپنی جیبیں بھر نے میں مصروف عمل ہیں ۔
نیو ٹی۔وی کی رپورٹ کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی جس کے ذمہ ادویات ساز اداروں کی مانیٹرنگ ہوتی ہے، اس کا چیف ایگزیگٹو افسر ایک ایسے شخص کو تعینات کیا ہوا ہے جس کی تعیناتی خو د خلاف قانون ہے ۔ ذرائع کے مطابق جب ان کی تعیناتی کی گئی تو اس سے ایک دن پہلے تک وہ کسی پرائیویٹ کمپنی میں ذمہ داری سر انجام دے رہے تھے جبکہ قانون کے مطابق کوئی بھی شخص دو سال کی مدت پوری کئے بغیر یہاں تعینات نہیں ہو سکتا۔
ظلم عظیم تو یہ ہے کہ یہ صاحب خود ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے شئیر ہولڈر بھی ہیں ۔
اب اسی بات سے اندازہ کیجئے کہ وہ شخص کیسے غیر جانبدار ہو گا جو عوام کا خون چوسنے والی ادویات ساز کمپنیوں سے بھاری کمیشن کھا کر خاموش تماشائی کا کردار ادا ء کر رہا ہے ۔ اگر حکومت واقعی عوام کا درد رکھتی ہے اور اس بارے میں سنجیدہ ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی میں ایک ایسے شخص کو تعینا ت کیا جائے جو قانون کے تما م تقاضوں پر پورااترے اور جس کا ماضی و حال کرپشن سے پاک ہو۔ بڑھائی گئی تما م ادویات کی قیمتوں کو واپس کیا جائے اور پھر تما م ملکی و غیر ملکی ادویات ساز اداروں کے لئے بھی کوئی ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جس کے تحت ان کی کارکردگی جانچنے اور قیمتوں کا تعین کر نے کا کو ئی سخت طریقہ کار وضع ہو۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے منگل مارچ کے مزید کالم