یہ پریشانیاں اورمسائل کیوں ۔۔۔۔؟

بدھ مارچ    |    عمر خان جوزوی

ہزارہ کے بزرگ عالم دین مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی سے ملنے کا بہت شوق تھا، کئی بار مولانا سے ملنے کا پروگرام بھی بنایا لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی مسئلہ و پریشانی دیوار کی طرح حائل ہو جاتی جس سے میرے معصوم شوق کے پرخچے اڑجاتے۔ کچھ دن پہلے ایک قریبی عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے اچانک مانسہرہ جانا پڑا۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مانسہرہ شہر میں اپنے دوست شیرافضل گوجرسے ملنے کیلئے رکنا پڑا ۔
میں ابھی شیرافضل گوجر سے ملا ہی تھا کہ اچانک دراز قد، ہنستا، مسکراتا اور نورانی چہرہ لئے ایک شخص اپنائیت کاگمان دلاتے ہوئے اسلام و علیکم کہہ کر ہماری طرف بڑھے، اس کے نورانی چہرے کو دیکھ کر دلی سکون ملنے کے ساتھ میری آنکھیں بھی ٹھنڈی ضرور ہوئیں لیکن میں اس شخصیت کو پہچان نہیں پایا اور پہچانتا بھی کیسے۔

(خبر جاری ہے)

۔۔۔؟ کہ میں ان کو زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ وہ شخصیت آگے بڑھی، میرے دوست شیرافضل گوجر کے ساتھ مصافحہ کیا تو مصافحے کے دوران ہی شیرافضل گوجر نے عرض کیا کہ یہ عمر خان جوزوی ہیں جواپنے کسی رشتہ دارکے جنازے پر آئے تھے وہاں سے ہوتے ہوئے یہاں آگئے۔

وہ شخصیت میرا نام سنتے ہی مزید آگے بڑھی اور مجھے اپنے سینے سے لگایا، ازراہ محبت کے طور پر اس نے مجھے ایک دو منٹ تک سینے سے لگائے رکھا۔ ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ،، بہت اچھا لکھتے ہیں آپ،،۔ اس نے کہیں میرے کالم پڑھے تھے لیکن میں ابھی تک اس کے نام سے ناآشنا تھا۔ اچانک میرے دوست کے یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجے کہ یہ مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی ہیں۔ یہ سنتے ہی مجھے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا وہ چہرہ یاد آیا جو بغیر کسی طے شدہ ملاقات اور پروگرام کے میرے سامنے تھا۔
مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی کی طرح محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملنے کا بھی مجھے بڑا شوق تھا لیکن ڈاکٹر عبدالقدیرخان کا دیدار کرنا میرے جیسے بندے کیلئے کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ایک دن ہالیڈے ان ہوٹل اسلام آباد میں کسی پروگرام میں میں شریک تھا ابھی پروگرام جاری ہی تھا کہ اچانک مجھے کوئی کال سننے کیلئے ہال سے باہر نکلنا پڑا۔ ہال سے باہر نکل کر فون پر باتیں کرتے کرتے میں کافی باہر نکل آیا۔
جہاں میں پہنچاتھاوہاں سامنے بھی ایک ہال تھاجس میں اس وقت کوئی تقریب جاری تھی اچانک میں نے جھانک کراندردیکھاتوسامنے محسن پاکستان جن کے قریب سے ایک دیدارکیلئے میں برسوں سے راہیں تلاش کررہاتھاسامنے سٹیج پرکھڑے تقریرکررہے تھے ۔اس موقع کوغنیمت جانتے ہوئے میں بھی اسی تقریب میں جابیٹھا۔مختصریہ کہ تقریب کے اختتام پرنہ صرف میں نے محسن پاکستان کادل بھرکردیدارکیابلکہ گرم جوش مصافحہ اورڈاکٹرعبدالقدیر سے مختصرملاقات بھی ہوئی ۔
ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے بعد مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی کا مفت میں دیدار میرے لئے کسی تحفے سے کم نہ تھا۔ دوست کی زبان سے مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی کا نام سنتے ہی میں آگے بڑھا اور یہ کہتے ہوئے کہ ،،حضرت ،،آپ سے ملنے کا توبہت اشتیاق تھا، ایک بار پھر ان کا ہاتھ تھاما۔ مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی کسی تعارف کے محتاج نہیں، مادہ پرستی کے اس دور میں جہاں ہر انسان کو اپنی ذات و مفاد سے ایک لمحے کیلئے بھی فرصت نہیں ۔
قاضی اسرائیل گڑنگی دین اسلام کی سربلندی اور انسانوں کی خیر خواہی کیلئے دن رات ایک کرکے اپنے خون پسینے سے اس اجڑے گلشن کی آبیاری کررہے ہیں۔ قاضی اسرائیل گڑنگی کی محنت اور قربانیوں کا اندازہ آپ اس سے لگاسکتے ہیں کہ اب تک وہ مختلف مسائل اور موضوعات پر 200 کے قریب کتابیں تحریر کر چکے ہیں۔ تقویٰ اور بزرگی کے ساتھ قاضی اسرائیل گڑنگی کا اخلاق بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ قاضی اسرائیل گڑنگی کے ہنستے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے ، بلا شک و شبہ مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی نے دین کے ساتھ ملک و ملت کی بھی بہت خدمت کی ہے۔
جاہلیت کی تاریکیوں میں قال اللہ اور قال رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کے ذریعے روشنی پھیلانا بہت بڑا جہاد ہے۔ مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی اسی جہاد میں مصروف ہیں۔ روئے زمین پر مساجد و مدارس کے ساتھ ایسی نیک سیرت و نیک صورت دینی شخصیات کا ہمارے درمیان موجود ہونا ہمارے لئے کسی عظیم نعمت سے ہر گز کم نہیں۔ مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی جن کے نام کی گونج آج بھی دنیاکے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے۔
ان کا تعلق بھی اسی مانسہرہ سے تھا۔ مانسہرہ کے لوگ بڑے خوش قسمت ہیں کہ مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی اورمولانا قاضی خلیل احمد جیسے نیک اور پارسا لوگ آج بھی ان کے درمیان موجود ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج ہم نے علمائے حق سے تعلق توڑ کر چوروں، ڈاکوؤں اور لٹیروں سے رابطے بڑھا دئیے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج مسائل سے ہماری جان نہیں چھوٹ رہی۔ علماء، فقہاء اور بزرگوں سے تعلق جوڑنے والے لوگ کبھی بھی مسائل کی دلدل میں نہیں دھنستے اور نہ ہی آخرت میں کبھی ناکام اور رسوا ہوتے ہیں۔
دنیا کی یہ زندگی چند دنوں کی مہمان ہے۔ اصل زندگی اس دنیا سے جانے کے بعد شروع ہوگی۔ یہاں ٹائم جس طرح گزارا اور جس سے چاہے تعلق رکھا یہ زندگی تو گزر ہی جائے گی مگر وہاں پھر کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ چند دنوں کی اس زندگی کو اپنی مرضی کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے مطابق گزارا جائے جس کیلئے مولاناقاضی اسرائیل گڑنگی جیسے علمائے حق اور نیک و صالح لوگوں سے تعلق و نسبت رکھنا ضروری ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہر مسلمان کو آخرت کی ناکامی اور دوزخ کی آگ سے بچائے۔ آمین یارب العالمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے منگل مارچ کے مزید کالم